شاؤمی کا بھارتی ایجنسی پر تحقیقات کے دوران تشدد کا الزام

بھارتی ادارے کا موقف تھا کہ شاؤمی نے ’رائیلٹی ادائیگیوں‘ کی آڑ میں رقوم غیرقانونی طور پر بیرون ملک منتقل کیں۔ شاؤمی نے کسی غلط کام میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

ٹیکنالوجی کمپنی شاؤمی کے انڈیا میں سابق مینیجنگ ڈائریکٹر منو کمار جین کی 18 جنوری 2018 کو ایک انٹرویو کے بعد اپنے دفتر میں لی گئی تصویر (فوٹو: روئٹرز)

سمارٹ موبائل فونز بنانے والی چینی کمپنی شاؤمی نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے اعلیٰ افسران کو مالیاتی جرائم کی تحقیقات کرنے والے بھارتی ادارے کی جانب سے پوچھ گچھ کے دوران ’جسمانی تشدد‘ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ صورت حال ادارے کی جانب سے عدالتی دستاویزات دیکھنے کے بعد پیش آئی ہے۔

چار مئی کو دی گئی درخواست میں شاؤمی نے کہا کہ بھارت کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے حکام نے بھارت میں ادارے کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر منو کمار جین، چیف فنانشل افسر سمیربی ایس راؤ اور ان کے خاندانوں کو خبردار کیا انہیں تحقیقاتی ادارے کی خواہشات کے مطابق بیانات داخل نہ کرنے کی صورت میں ’سنگین نتائج‘ بھگتنے ہوں گے۔

روئٹرز کی رپورٹ شائع ہونے کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ شاؤمی کے الزامات ’غلط اور بے بنیاد‘ ہیں اور کمپنی کے اعلیٰ افسروں نے ’انتہائی سازگار ماحول میں رضاکارانہ‘ طور پر عہدہ چھوڑا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے بھارتی ایجنسی نے بینکوں میں موجود شاؤمی کے ساڑھے 72 کروڑ ڈالرز قبضے میں لیے تھے۔

بھارتی ادارے کا موقف تھا کہ شاؤمی نے ’رائیلٹی ادائیگیوں‘ کی آڑ میں رقوم غیرقانونی طور پر بیرون ملک منتقل کیں۔ شاؤمی نے کسی غلط کام میں ملوث ہونے کی تردید کی اور کہا کہ اس کی جانب سے رائیلٹی کی ادائیگیاں قانونی ہیں۔

جمعرات کو عدالت نے شاؤمی کے وکلا کو سنا اور بھارتی ایجنسی کی طرف سے شاؤمی کے بینک اثاثے منجمد کرنے کے فیصلے کو معطل کردیا تھا۔ اگلی سماعت 12 مئی کو ہو گی۔

شاؤمی کا کہنا ہے کہ کمپنی کے افسروں کو اس وقت دھمکایا گیا جب وہ اپریل میں کئی بار پوچھ گچھ کے لیے پیش ہوئے۔

شاؤمی کی جانب سے کرناٹک ہائی کورٹ میں جمع کرائی جانے والی شکایت میں کہا گیا کہ ایجنسی کی ہدایت کے مطابق بیان نہ دینے کی صورت میں جین اور راؤ کو بعض موقعوں پر’سنگین نتائج جن میں گرفتاری بھی شامل ہے، پیشہ ورانہ سفر کو نقصان پہنچانے، مجرم قرار دینے اور جسمانی تشدد کی دھمکی دی گئی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شاؤمی کا مزید کہنا تھا کہ اس کے افسر’کچھ وقت تک دباؤ برداشت کرنے کے قابل تھے (لیکن) بالآخر اس انتہائی اور دشمنی پر مبنی بدسلوکی کے پیش نظران کی ہمت جواب دے گئی اور انہوں نے مرضی کے خلاف بعض بیانات دے دیے۔‘

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ’وہ کام کی مضبوط اخلاقیات کے ساتھ کام کرنے والا پیشہ ورانہ ادارہ ہے اور کسی بھی موقع پر شاؤمی کے افسروں پر کوئی دباؤ ڈالا گیا اور نہ ہی دھمکی دی گئی۔‘

دوسری جانب شاؤمی نے معاملہ عدالت میں ہونے کا کہتے ہوئے اس بارے میں تبصرے سے انکار کر دیا ہے اور جین اور راؤ نے روئٹرزکے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

جین اس وقت دبئی میں شاؤمی کے عالمی نائب صدر ہیں۔ بھارت میں شاؤمی کی ترقی کا سہرا ان کے سر ہے جہاں یہ سمارٹ فونز بہت زیادہ مقبول ہیں۔

کاؤنٹرپوائنٹ ریسرچ کے مطابق شاؤمی بھارتی مارکیٹ میں 24 فیصد کے حصے کے ساتھ 2021 میں سمارٹ فون فروخت کرنے والی سرکردہ کمپنی تھی۔ وہ دوسرے الیکٹرانک آلات بھی فروخت کرتی ہے جن میں سمارٹ گھڑیاں اور ٹیلی ویژن شامل ہیں۔ ملک میں اس کے ملازمین کی تعداد 1500 ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی