بھارت میں شاؤمی کے کروڑوں ڈالر ضبط

بھارتی حکام کے مطابق رائلٹی کی ادائیگی کی آڑ میں پیسہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کرنے پر شاؤمی کے بینک اکاؤنٹس میں موجود ساڑھے 72 کروڑ ڈالرز ضبط کر لیے گئے۔

20 اگست، 2019 کی اس تصویر میں بھارتی شہر گڑ گاؤں میں گاہک می سٹور پر شاؤمی کے سمارٹ فون چیک کر رہے ہیں (اے ایف پی)

بھارتی حکام نے ہفتے کو بتایا کہ انہوں نے رائلٹی کی ادائیگی کی آڑ میں پیسہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کرنے پر چین کی دیو قامت موبائل ساز چینی کمپنی شاؤمی کے بینک اکاؤنٹس میں موجود ساڑھے 72 کروڑ ڈالرز ضبط کر لیے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مالی جرائم کی تحقیقات کرنے والے بھارتی ادارے نے فروری میں شاؤمی کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں۔ تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ پتہ چلنے کے بعد کہ شاؤمی نے بیرون ملک قائم تین اداروں کو رقوم بھیجیں، کمپنی کی مقامی شاخ کا پیسہ ضبط کر لیا۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے بیان میں کہا گیا کہ ’رائلٹی کے نام پر اتنی بڑی رقوم چینی کے مرکزی گروپ میں شامل کمپنیوں کی ہدایت پر بھیجی گئیں۔‘

تبصرے کے لیے اے ایف  پی کی درخواست کا شاؤمی نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ ٹیکس چوری کے سلسلے میں ایک الگ تحقیقات کے دوران شاؤمی کے بھارت میں قائم دفتر پر دسمبر میں چھاپا مارا گیا۔

اسی وقت سمارٹ فون بنانے والی دوسری چینی کمپنیوں کے، جن میں ہواوے بھی شامل ہے، دفاتر کی تلاشی لی گئی۔

2020 میں ہمالیائی سرحد پر دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے بعد نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جھڑپ کے نتیجے میں بھارتی وزارت داخلہ نے چین کی ہزاروں موبائلی ایپلی کیشنز کے بھارت میں استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔

ان ایپس میں ٹک ٹاک کا مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی شامل ہے۔ حکومت کے مطابق اس نے ایپس پر پابندی ’بھارت کی خودمختاری کو تحفظ فراہم کرنے‘ کے لیے لگائی۔

2020 میں بھارت چین مہلک جھڑپ کے بعد سے بھارت میں چین مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے اور چینی مصنوعات پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا۔

چین بھارت کا تسلسل کے ساتھ معاشی شراکت دار ہے اور میڈیا اطلاعات کے مطابق گذشتہ سال 125 ارب ڈالرز سے زیادہ کی دو طرفہ تجارت کی گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی