جنگ کے خاتمے کے بعد یوکرین کا مستقبل کیا ہو گا؟

فرانس سے لے کر بوسنیا تک یورپ میں جگہ جگہ جنگ کے نشان نظر آتے ہیں۔ کچھ شہر جنگ کے سائے سے باہر آ گئے ہیں، مگر بہت لوگوں کو ڈر ہے کہ جنگ کے بعد بھی نفرتوں کے سلسلے پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار رکھیں گے۔

کیئف کے شمال مشرقی شہر ارپن میں سات مارچ 2022 کو شہر روسی بمباری سے بچتے ہوئے شہر چھوڑ رہے ہیں (اے ایف پی)

ماریوپول کے تباہ حال علاقے سے انخلا پر مجبور تازہ ترین، شاید آخری، باشندے یوکرین کے زیر کنٹرول نسبتاً محفوظ شہر زاپوریژا میں جیسے ہی قدم رکھتے ہیں تقریباً ایک ساتھ مساوی پیمانے پر تکلیف، راحت اور عزم کے جذبات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ نئے آنے والوں میں سے بعض فضا میں ہاتھ بلند کرتے ہوئے فتح اور یوکرین زندہ باد کے نعرے لگانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ جبکہ زیادہ تر خاموش ہیں۔ ان میں سے بعض جذبات پر قابو پا کر اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے جہنم کے بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہیں۔

انہوں نے وسیع ایزوف ستال سٹیل ورکس کے نیچے بنکروں کی اندھیری بھول بھلیوں میں گزارے ہفتوں کے متعلق  بتایا اور روشنی اور ہوا کی خاطر چند لمحات کے لیے باہر نکلنے کے جان لیوا خطرات کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے دوستوں اور خاندان کے ایسے افراد کے متعلق بات کی جو ہمیشہ کے لیے جا چکے تھے، ان کی مختصر یا طویل زندگی کا چراغ اچانک بظاہر بغیر کسی ضابطے کے بجھا دیا گیا تھا۔ یہ مفصل اور حقیقی پر مبنی آنکھوں دیکھا احوال سنتے ہوئے آپ حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ بیان کرنے والے کس طرح اتنا کچھ آرام سے سہتے ہوئے زندہ رہ جانے پر شکر گزاری جیسے جذبات سے معمور نظر آتے ہیں۔

بدترین چیزیں شاید انہوں نے بیان نہیں کیں اور ممکن ہے کبھی نہ کریں۔ جنگ کے غیر معمولی ترین پہلوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ ایک بار ہولناکی سے چھٹکارہ مل جائے تو بہت سے لوگ زندگی کو وہیں سے لے کر آگے بڑھنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں، اس بات کا ذکر کیے بغیر کہ وہ کس بربریت اور محرومی سے گزرے۔

یہ اب بھی اتنا ہی حقیقی لگتا ہے جتنا ماضی میں تھا۔ نازی موت کے کیمپوں سے زندہ بچ نکلنے والے زیادہ تر لوگوں نے کبھی اپنے تجربات کے بارے میں بات نہیں کی اور یہی معاملہ جاپان کے جنگی قیدیوں کا رہا۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں کے برطانیہ کو ہی لے لیجیے، کتنے والدین نے اپنے بچوں کو بتایا کہ ڈنکرک یا ڈی ڈے یا دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمنوں کی لندن اور دیگر شہروں پر بمباری کے دوران وہ کن حالات سے گزرے؟

میرے خاوند کے والدین نے، جنہیں جبری مشقت کے لیے یوکرین سے اس مقام پر لے جایا گیا جسے اب جمہوریہ چیک کہتے ہیں، ان دنوں کی محض سرسری یاداشتیں بیان کیں جب دوسری عالمی جنگ کے اختتامی مراحل کے دوران وہ یورپ سے مغربی سمت میں آنے والے انسانی سمندر کی لہر کا حصہ تھے۔ فاتحین کے لیے بہت جلد اُس جنگ کے حقائق کافی حد تک بہادری کی داستانوں اور بدی کی نیکی کے ہاتھوں شکست سے بدل گئے۔ اتنا کہنا کافی ہے کہ میرے سسر امریکہ کی حفاظت میں ہوتے ہوئے بھی آخری وقت تک اپنے بستر پر ساتھ کلہاڑی رکھ کر سوتے رہے۔

جنگ اپنے پیچھے پیچیدہ وراثت چھوڑتی ہے جو کئی زمانوں اور کئی سطحوں پر محسوس کی جاتی ہے۔ ایک بار جنگ ختم ہو گئی تو یوکرین میں اس پیچیدگی کے اثرات واضح نظر آئیں گے۔ اس دوران جو کچھ آگے جا کر ہو گا اس کے اشارے بہت سے دیگر مقامات پر تلاش کیے جا سکتے ہیں جو ویسے ہی حالات سے گزرے جن سے آج یوکرین گزر رہا ہے۔

 ایسی مثالوں کا دائرہ بہت وسیع ہے چاہے آپ انہیں جغرافیائی طور پر یورپ اور روس تک ہی محدود رکھیں۔ آپ مغربی جانب سے آرنہم یا ورڈن سے شروعات کرتے ہوئے مشرق میں سٹالن گراڈ (وولگوگراڈ) تک آ سکتے ہیں، راستے میں یوکرین کے بالکل انہی شہروں میں سے کچھ پر رکتے ہوئے جو آج تنازعے کا شکار ہیں یا ممکنہ طور پر ہو سکتے ہیں۔

مزید برآں آپ اس فہرست میں حالیہ تنازعات کی وجہ سے تباہ ہونے والے کچھ شہروں کو بھی شامل کر سکتے ہیں جیسا کہ یوگوسلاویہ میں سراییوو، قطع نظر نگورونو کاراباخ یا ٹرانسنسٹریا جیسے دیگر تنازعات جو ہیں تو سوویت یونین کے انہدام کے وقتوں کے لیکن ابھی تک حل نہیں ہوئے۔

موستار کے اپنے متعلق تین عجائب گھر ہیں جن میں سے ایک اپنا نقطہ نظر پیش کرتا ہے۔ ایسا ہو نہیں سکتا کہ آپ قدیم مرکز کے آس پاس کا چہل قدمی کریں اور کئی چھوٹے چھوٹے قبرستان نہ دیکھیں جہاں ہر ایک تازہ سفید پتھروں، کبھی کبھار خوشبوؤں اور نام تلاش کرنے والے زائرین کے جھرمٹ کا منظر پیش کرتا ہے۔

 

جیسا کہ میں کہتی ہوں مثالوں کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ جنگ پورے یورپ میں اپنے قدموں کے نشانات چھوڑ چکی ہے۔ لیکن ایسا ہے کہ میرا حالیہ سفر دو شہروں پر مشتمل رہا جن کی اکیسویں صدی کی شناخت ہی جنگ پر مبنی ہے اور جو اس کے دیر پا اثرات کی واضح مثال ہیں۔ پہلا ہے شمالی فرانس کا شہر آراس اور دوسرا ہے اب آزاد ریاست بوسنیا ہرزیگووینا کا شہر موستار۔

 یقیناً یہ دونوں جنگیں اپنے زمان اور بنیاد میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں لیکن دونوں نے تقریباً اپنے اپنے شہر کو خاک کر دیا۔ پتہ نہیں یہ بات یہاں کرنا بنتی ہے یا نہیں کہ بہت سے دیگر مقامات کی طرح جو شدید اور طویل لڑائی کا مرکز رہے یہ شہر بھی ایک دریا کے گرد اپنے پاؤں پسارے ہیں جو انہیں متحد یا تقسیم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان دونوں میں جو چیز مشترک ہے وہ یہ ہے کہ ان کی تعمیر نو اور بقا کی بازگشت یوکرین میں بہت جلد سننے کو مل سکتی ہے۔ 

پہلی عالمی جنگ میں توپوں کو خاموش ہوئے ایک صدی سے زائد عرصہ بیت چکا ہے، جب آراس سے چند گھنٹوں کی مسافت پر کمپیئن کے جنگل میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا جو 1918 کے گیارہویں مہینے کے گیارہویں دن کے گیارہویں گھنٹے سے نافذ ہوا۔ آج کا آراس ایک اٹھتا ہوا تجارتی شہر ہے جس کے تاریخی گرجا گھر اور کلاسک فلیمش سکوائر ایسے بھرپور ہیں کہ جیسے جنگ نے اس شہر کو چھوا تک نہیں۔ لیکن شاید یہ محض ایک نقطۂ نظر ہو۔

 آراس کا مرکز اتنا ہی سلامت ہے جتنا یہ آج دکھائی دیتا ہے لیکن جنگ کے باوجود نہیں بلکہ آپ کہہ سکتے ہیں جنگ کی وجہ سے۔ جنگ کے اختتام پر تقریباً دو تہائی شہر کھنڈرات میں بدل چکا تھا۔ اس کا مشہور ٹاؤن ہال اور اس کا برج ابتدائی مہینوں میں ہی تباہ ہو گئے اور اگلے برس یہی حال کیتھیڈرل کا ہوا۔ جرمنوں کے 1914 میں مختصر قبضے کے بعد سے 1917 کی فیصلہ کن لڑائیوں تک آراس جنگ کے ہراول میدان سے محض 10 کلومیٹر دور تھا۔

جو چیز براہ راست ماریوپول کے ساتھ نقطہ اشتراک پیدا کرتی ہے وہ ایزوف سٹیل ورکس کے نیچے زیر زمین بینکرز کی موجودگی ہے، یہ آراس کے نیچے وسیع ٹھکانے (قرون وسطی کے) اور سرنگیں تھیں جنہوں نے شہر کو محفوظ رکھنے میں مدد کی، جن کے ذریعے زمین کے اوپر سے لوگوں کی بڑی تعداد کو زیر زمین منتقل کیا گیا اور برطانوی فوجیوں کو 1917 تک جرمن حملوں کے خلاف شہر پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے پناہ فراہم کی گئی۔

لیکن جو کچھ اس کے بعد ہوا وہ آج کے آراس کی تعریف متعین کرتا ہے۔ جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی لوگوں نے اپنی مرضی سے شہر کی از سر نو تعمیر کا آغاز کیا اور نہ صرف از سر نو بلکہ جہاں تک ممکن ہوا پہلے والی ہئیت کی زیادہ بہتر انداز میں نقل تیار کی۔ نتیجتاً بیرونی سطح پر قدیم شہر تقریباً اپنی تمام تر جزیات میں دوبارہ زندہ ہو گیا لیکن اندورنی طور پر اسے جدید ترین تعمیراتی ٹیکنیک اور سہولیات کے مطابق بنایا گیا۔

ایسا لگتا ہے آراس اپنے معماروں اور بانیان شہر کے معاملے میں خوش قسمت رہا، جن کا ذکر اب پورے مرکز میں یادگاری تختیوں پر پھیلا ہوا ہے، اور کبھی سمال اسکوائر کے نام سے معروف اس چوک کا نام ان برطانوی فوجیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ہیروز اسکوائر رکھ دیا گیا جنہوں نے شہر کا دفاع کامیابی سے کیا تھا۔ رنگ روڈ کے ساتھ 2500 سے زائد قبروں پر مشتمل ایک صاف ستھرا دولت مشترکہ کا جنگی قبرستان موجود ہے۔

 بے رحم ستم ظریفی ملاحظہ کیجیے کہ آراس کی تعمیر نو 1938 میں مکمل ہوئی، فلینڈر میں جنگ چھڑنے سے ایک سال اور آراس پر جرمنوں کے قبضے سے دو سال قبل۔ آج اگرچہ یہ بڑی جنگ ہے جو اس شہر کے خد و خال متعین کرتی ہے، اس کی قریب قریب مکمل تباہی کے سو سال بعد، لیکن شہر نے بڑے پیمانے پر مصائب کو شہری اور قومی اساطیر کی دولت سے کم کیا۔

ایک دن یوکرین میں جنگ ختم ہو جائے گی۔ لیکن اصل میں یہ ختم نہیں ہو گی، یوکرین بدل جائے گا۔ جنگ اموات، چوٹوں اور مادی تباہیوں کے واضح اعداد و شمار کی نسبت دیگر مختلف طریقوں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آراس گھومتے ہوئے میں نے اِسے یوکرین کی تمام نہ سہی لیکن بیشتر تباہ کاریوں اور شہروں کی بدحالیوں کے لیے بطور نمونہ دیکھا جو اس حقیقت پسندانہ امید کا بیج بوتا ہے کہ انہیں بھی اتنی ہی سرعت اور بھرپور طریقے سے بحال کیا جا سکتا ہے جیسے کبھی آراس ہوا تھا۔ درحقیقت یوکرین کے دارالحکومت کیئف میں پہلے سے ہی ’Heavenly Hundred‘ کی یاد منانے کے لیے اس کا آزادی چوک موجود ہے جو 2014 کے مظاہروں کے دوران متاثر ہونے کے باوجود مکمل طور پر منہدم نہیں ہوا۔ فروری 2022 کے بعد سے اور جب تک جنگ جاری رہے گی تب تک یوکرین کے قصبوں اور شہروں میں یادگار تعمیر کرنے کے لیے شہداد کی بہتات ہو جائے گی۔

 نہ ہی اس میں شک کیا جا سکتا ہے کہ یوکرین کے باشندے اپنے کھوئے ہوئے تاریخی فن تعمیر کو بحال کرنے کے لیے آراس کے لوگوں کی طرح پرعزم ہوں گے۔ مجھے یاد ہے جب پہلا روسی میزائل خارکیف کے مضافات میں داغا گیا تب ایک نوجوان رضاکار نے بغیر جذباتی ہوئے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا یوکرین کی جنگ سوویت دور کے بدصورت بلاکس کو جمالیاتی طور پر زیادہ خوشگوار اور مناسب چیز سے بدلنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ بلاشبہ اس کے بہت سے ہم وطن اس بات سے متفق ہوں گے۔

اتنے وسیع پیمانے پر ہوئی تباہی اور نئے مکانات کی فوری ضرورت کے پیش نظر یقیناً مالی مسائل آڑے آ سکتے ہیں جیسا کہ آراس میں ہوا تھا۔ لیکن آراس کی ایک صدی کئی طرح سے یوکرین اور بالخصوص ماریوپول جیسے تباہ حال شہر کے لیے امید کا دیا ثابت ہو سکتی ہے۔ جنگ تباہ کن ہوتی ہے لیکن یہ تعمیر نو کے لیے ایک محرک بھی بن سکتی ہے جو قناعت پسندانہ ماضی کی باگ ڈور روشن مستقبل کے لیے درست ہاتھ میں سونپ سکتی ہے۔

لیکن ایک صدی، حتی کہ نصف صدی جو آراس کو جنگ کے عبوری دور کے بعد ابھرنے میں لگی، جنگ سے تھکے ہارے یوکرینیوں یا کسی کے لیے بھی ایک طویل مدتِ انتظار ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ محض مادی تعمیر نو کی بات کریں تو اس میں بھی 20 برس لگے، پوری ایک نسل۔ جدید تعمیراتی طور طریقوں کے باوجود اب بھی ماریوپول کی حد تک کے تباہ شدہ شہر کا اس سے کم وقت کے اندر مکمل ہونا مشکل نظر آتا ہے۔

موستار کی جنگی وراثت جنگ کے بعد کے یوکرین کے لیے شاید تسلی کا بہت تھوڑا سامان اور کچھ تنبیہات رکھتی ہے۔ بوسنیا کی جنگ، جو سرد جنگ کے بعد یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے اور سربیا کے علاقائی عزائم کے نتیجے میں پھوٹ پڑی تھی، کے خاتمے کے لیے مرتب کیے گئے فریم ورک ڈیٹن معاہدے پر اتفاق کیے ہوئے محض 27 برس بیتے ہیں۔ یہاں جنگ کم از کم چالیس برس سے زائد عمر کے لوگوں کی یاداشت میں جیتی جاگتی موجود ہے۔ کسی حد تک یہ موجودگی شاندار بھی ہے۔

یہ شہر ڈرامائی لوکیل، گہرے فیروزی دریائے نیریتوا کے کنارے ڈھلوانی پتھریلی گھاٹی میں، اور اپنے نام کا سبب بننے والے 16ویں صدی کے تاریخی پل سے مالامال ہے جو دنیا بھر میں اس کی شہرت کی وجہ ہے۔ 9 نومبر 1993 کو کروشین افواج کے ہاتھوں یہ جنگی ڈویژنز کی علامت بن گیا، بالکل جیسے پل کی ممکنہ حد تک اصل ڈیزائن کے مطابق از سر نو تعمیر اور جولائی 2004 میں پہلی بار پار کیے جانا امن اور مفاہمت کی علامت بن گیا۔

 مثال کے طور پر شمالی آئرلینڈ کی طرح بہت سی جگہوں پر ضروری نہیں کہ امن اپنے ساتھ مفاہمت بھی لے کر آئے اور یہی معاملہ موستار کا بھی ہے۔ 1992 اور 1996 کے درمیان شہر کا پانچ چوتھائی 80 فیصد سے زائد حصہ نقصان یا تباہی کی زد میں آیا، یہ تناسب سراییوو سے بھی زیادہ ہے، جو تقریباً چار برس تک سربیا کے فوجی دستوں کے محاصرے کی وجہ سے ناکہ بندی کا شکار رہا اور دنیا بھر کی شہہ سرخیوں کی زینت بنا۔ آج موستار کا پرانا شہر اپنے دور کے آراس کی طرح اپنی گلیوں اور پتھروں کی چھتوں کے ساتھ تقریباً مکمل بحال کر دیا گیا ہے جس میں بڑی حد تک یونیسکو کی مالی امداد اور نگرانی کا کردار ہے۔

تاہم آپ کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور تباہ حال عمارتوں اور شکستہ حال گلیوں کی تلاش میں بہت دور نہیں جانا پڑتا۔ رہائشی بلاکس خستہ حال اور سیاسی نعرہ بازی سے لتھڑے ہوئے ہیں جن کا رسم الخط سرب اور کروٹس  ہے لیکن زبان ایک ہے۔

ہر کوئی جانتا ہے کہ دوران جنگ فرنٹ لائن کون سی تھی (اور یہ نیچے دریا کے پاس نہیں بلکہ چند بلاکس چھوڑ کر تھی) اور سب کو معلوم ہے کہ شہر کو اب موثر طریقے سے قدیم فرنٹ لائن سے کاٹ دیا گیا ہے اور اب وہاں محض ایک سکول ہے جس میں (بنیادی طور پر کیتھولک) کروٹس اور (بنیادی طور پر مسلمان) بوسنیاکس اور چند (بنیادی طور پر آرتھوڈوکس) سرب سب مشترکہ طور پر موجود ہیں۔ ایک کھلا سہ طرفہ مسلح تصادم کروٹس اور بوسنیاکس کے درمیان دوطرفہ تنازعہ بن گیا جو پتہ نہیں وقت کے ساتھ خود بخود حل ہو پاتا ہے یا نہیں۔ آپ دن کے مخصوص اوقات میں چرچ کی گھنٹیاں اور اذانیں سن سکتے ہیں۔ لیکن کسی بھی قسم کا احساسِ ہم آہنگی ناپید ہے۔

 آیا امن و امان کی بگڑی ہوئی صورت حال جاری رہتی ہے اس کا انحصار کسی حد تک شہر کی معاشی خوشحالی پر ہے۔ جنگ کے بعد سیاحت کا شعبہ معیشت پر چھایا ہوا تھا اور اس وقت امید افزا رستے پر گامزن تھا جب کرونا کی وبا نازل ہوئی۔ سیاح ابھی دوبارہ واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ مقامی لوگوں میں ہر دس میں سے چار افراد بے روزگار ہیں: اجرت قابل رحم ہے اور جتنے لوگ یورپی یونین کا ویزا حاصل کر سکتے ہیں وہ کر رہے ہیں تاکہ یہاں سے نکلیں۔ غربت ایک پہلو ہے: اس بات کا واضح ثبوت کہ جنگ کے بعد بحالی کی منزل ابھی کوسوں دور ہے۔ لیکن یہ بات بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے کہ جو پیسہ اور صلاحیتیں ہیں وہ کہاں استعمال ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 کم از کم بظاہر اس کا قابل مشاہدہ استعمال یادگاروں کے سلسلے پر ہوتا ہے: عجائب گھر، یادگاریں اور قبرستان۔ موستار کے اپنے متعلق تین عجائب گھر ہیں جو ہر ایک اپنا نقطہ نظر پیش کرتا ہے۔ ایسا ہو نہیں سکتا کہ آپ قدیم مرکز کے آس پاس کا پھیرا لگائیں اور کئی چھوٹے چھوٹے قبرستان نہ دیکھیں جہاں ہر ایک تازہ سفید پتھروں، کبھی کبھار خوشبوؤں اور نام تلاش کرنے والے زائرین کے جھرمٹ کا منظر پیش کرتا ہے۔ شاید خاندان کے افراد یا دوست یا سابق کامریڈز اسلحہ سے لیس آتے ہیں۔

 پھر جب آپ ان کی تفصیلات پڑھنے کے لیے جھکتے ہیں تو نسلی اور مذہبی آمیزش، بعض نام واضح طور پر عیسائی اور کروٹ یا سرب جبکہ باقی مسلم اور بوسنیائی، سے بھی زیادہ حیران کن بات 1993 اور 1995 کے درمیان عمر کی پہلی، دوسری اور تیسری دہائی میں مرنے والے نوعمر افراد کا تناسب ہے۔  اب اس بات کا تصور کرنا مشکل ہے لیکن شہر کا یہ مرکز میدان جنگ تھا جہاں یہ مقامات ہنگامی تدفین کی جگہیں تھیں۔

 یوکرین کا تنازع بوسنیا کی جنگ سے شاید مختلف دکھائی دے، اس حقیقت کے پیش نظر کہ اس کا آغاز ایک ملک کے دوسرے ملک پر حملے کے پرانے روایتی انداز سے ہوا اور اس کی پہلے سے قومی یک جہتی اور قومیت کے بھرپور احساس پر مشتمل ایک وارثت ہے جسے مزید تقویت حوصلہ افزا یادداشتوں اور نئی مقامی اور ملکی اساطیر کا نیا سلسلہ فراہم کر رہا ہے۔ اسی جذبے کے تحت نئے ہیروز کو گلی کوچوں، چوک چوراہوں اور عمارتوں کے ناموں سے یاد رکھا جائے گا۔ اگر بوسنیا کی جنگ نے بلقان کے اس حصہ کو تقریباً اتنا ہی منقسم چھوڑ دیا جتنا یہ پہلے تھا تو یوکرین، روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر ماضی کی نسبت کہیں زیادہ متحد ہو گا۔ 

بہرحال جنگ کی دو وارثتیں ایسی ہیں جو موستار اور یوکرین کے حالیہ جنگی علاقے شاید مشترکہ طور پر رکھتے ہیں۔ پہلی ہے معاشی نقصان۔ عالمی بینک کے ایک تازہ تخمینے سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں رواں سال یوکرین کی معیشت چار فیصد سے بھی زیادہ سکڑ سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر جنگ ختم ہو جاتی ہے تو یوکرین کے لیے بحالی آسان ہونی چاہیے۔ یہ جزوی طور پر امریکہ، کینیڈا اور یورپی یونین کی طرف سے بہت جلد ملنے والی فراخدلانہ بین الاقوامی امداد، یہ اور اس میں کسی مارشل پلان جیسی چیز کی شمولیت، کی بدولت ہے۔ لیکن جزوی طور پر اس لیے کہ یوکرین کی معیشت کا بنیادی حصہ زراعت اور معدنی وسائل ہیں، ایسے شعبے جو تنازع ختم ہونے کے بعد تیزی سے بحال ہو سکتے ہیں۔

 تاہم حالات اتنے بھی امید افزا نہیں۔ بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے جنگ کے نقصانات، خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور بجلی کے پیداواری شعبہ جات میں، اپنے آپ میں بہت زیادہ گھمبیر اور دوسرے شعبوں کی بحالی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ افرادی قوت کا بھی سوال ہے کہ ملک چھوڑ کر جانے والے کتنے لوگ واپس آئیں گے اور ان میں سے کتنے کم عمر اور بہتر تعلیم یافتہ ہوں گے جن کی یوکرین کی بحالی کے لیے ضرورت ہو گی۔

یوکرین اور بوسنیا کے درمیان جنگ کے بعد کی ایک اور ممکنہ طور پر مشترکہ وراثت کا تعلق کمیونٹی تعلقات سے ہے۔  جبکہ روسی حملے نے بلاشبہ یوکرین کی اپنے آپ سے محبت کو بڑھا دیا ہے اور جذبہ حب الوطنی کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے، ایک ایسی چیز جو یوکرینیوں کو جنگ کے بعد کی ممکنہ معاشی تنگ دستی برداشت کرنے میں مدد دے سکتی ہے، اس دوران دو دیگر رجحانات اس کے برعکس نتائج دے سکتے ہیں۔ ایک ان لوگوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا امکان جن پر روس نواز ہمدردوں کو پناہ دینے یا روس کے مقبوضہ علاقوں میں تعاون کرنے کا شبہ ہے۔ بعض شواہد کے مطابق ایسا ابھی سے شروع ہو چکا ہے۔

ثانیاً گروہی یک جہتی کا دوسرا رُخ جو محاصرے کے حالات کی پیداوار ہے۔ میں نے قریب قریب ملتے جلتے واقعات سنے کہ کس طرح خوراک اور فون چارجر جیسی ضروری نوعیت کی اشیا ماریوپول اور خارکیف کے زیر زمین پناہ گزینوں نے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بانٹیں اور جنگ کے وقتوں کے موستار میں بھی یہی جذبہ دیکھنے کو ملا تھا۔ لیکن گروہی یک جہتی کا احساس جتنا زیادہ ہو گا دشمن سے نفرت اتنی ہی شدید ہو گی۔

موستار میں یہ نفرت زیادہ تر غیر موجود سربوں کے خلاف ہے لیکن کروٹس اور بوسنیاکس کے درمیان بھی چلتی رہتی ہے۔ یوکرین میں اس کا رخ روسیوں کی طرف ہے۔ بے شک جنگ کے موجودہ حالات میں روسیوں کے خلاف نفرت پوری طرح قابل فہم ہے۔ لیکن امدادی کارروائیاں کرنے والے کارکنان کے مطابق انہوں نے چھوٹے بچوں کے منہ سے بھی روسیوں سے بدلہ لینے کی خواہش کا اظہار سنا ہے جس کا مطلب ہوا ذاتی اور سیاسی تعلقات پر دور رس اثرات کے ساتھ روس اور روسیوں سے نفرت کم از کم ایک نسل تک اور شاید اس سے بھی زیادہ آگے تک موجود رہے گی۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد کامن مارکیٹ کا قیام دراصل جرمن مخالف جذبات کو فروغ دینے کا ایک طریقہ تھا اور اب یورپی یونین کے بہت سے بنیادی ممبران اسے اقتصادی اور اب سیاسی کے ساتھ ساتھ بڑی حد تک کامیاب امن منصوبہ بھی تسلیم کرتے ہیں۔ یہ یورپی یونین کا اثر ہے یا سو پچاس سال گزرنے کا کہ شاید ہی آپ کبھی کسی کے منہ سے سرعام جرمن مخالف جذبات کا اظہار سنیں اور جب میں نے آراس کا دورہ کیا وہاں جرمن زائرین کی بڑی تعداد موجود تھی اور میں نے اس بات کو سچ پایا۔

یوکرین اور روس کے مخالف سمتوں میں سیاسی سفر اور جنگ کے ایسے بدتر تجربے کے بعد مستقل قریب میں ایسے امن منصوبے پر ان دو ممالک کی پیش رفت تو درکنار تجویز کا بھی امکان مشکل ہے، کم از کم اس وقت تک جب تک روس میں حکومت تبدیل نہ ہو جائے۔

آخر میں ایک نفسیاتی پہلو کا ذکر کہ جنگ اپنے پیچھے صدمے کی کیفیت چھوڑ کر جائے گی۔ یہ محض پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈِس آڈر کی علامات، اور یقیناً آج اس طرح کے نقصانات کے بارے میں بہتر آگاہی ہے، تک محدود نہیں بلکہ جنگ کے خاتمے کے بعد لوگوں کا رویہ کیا ہوتا ہے۔ موستار کے تہہ خانوں میں یک جہتی کا جذبہ راج کرتا تھا جیسے اب خارکیف کے زیر زمین سٹیشنوں اور ایزوف سٹیل ورکس کے بنکروں میں ہوتا ہے۔ لیکن ایسا جذبہ کب تک برقرار رہے گا؟  

 موسار اور دیگر ایسے مقامات جہاں جنگ ختم ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرا وہاں جو کچھ میں نے دیکھا اس سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ، شاید اس لیے کہ ذاتی بقا ناگزیر ہو جاتی ہے، رویے کو بدتر بنا ڈالتی ہے۔ اس کے زیر اثر اجنبی افراد کے معاملے میں وسیع شکوک و شبہات کے ساتھ ساتھ سماجی اعتماد کی کمی اور تقریباً ہر چیز میں انتہائی خود غرضی کا رویہ جنم لے سکتا ہے۔ ممکن ہے آپ کو وہاں بھی سخت رویہ دیکھنے کو ملے جہاں کبھی شائستگی کا تعلق رہا ہو۔

ایک دن یوکرین میں جنگ ختم ہو جائے گی۔ لیکن اصل میں یہ ختم نہیں ہو گی، یوکرین بدل جائے گا۔ جنگ اموات، چوٹوں اور مادی تباہیوں کے واضح اعداد و شمار کی نسبت دیگر مختلف طریقوں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ زیادہ خراشیں چھوڑ جاتی ہے جن کا احساس انہی لوگوں کو ہو سکتا ہے جنہوں خوش قسمتی سے زندگی میں پُرامن وقت دیکھنے کا موقع ملا ہو۔ لیکن اس کے اثرات بہت متنوع ہیں۔

جنگ کا نتیجہ علمی اور سائنسی مطالعے کا ایک زرخیز موضوع ہے اور میری رائے ذاتی مشاہدات سے زیادہ کچھ نہیں جو میں نے مختلف مقامات پر کیے، جو ممکن ہے یوکرین کی آئندہ صورت حال کے حوالے سے کچھ اشارے مہیا کر سکیں۔ اس کے مثبت پہلوؤں میں ممکنہ طور پر شہری ذمہ داری کا ابھرتا ہوا تازہ ادراک، ایک یوکرینی قوم سے تعلق کا مضبوط جذبہ اور مشترکہ مقاصد کا گہرا احساس شامل ہے جو وقت پر نہ کیے گئے کاموں کے تدراک کی خواہش کا عکس لیے ہے۔ ممکن ہے لوگ بہتر مستقبل کے لیے ماضی کی نسبت اب قربانیاں دینے کے لیے زیادہ آمادہ ہوں جس کی عملی مثالیں محض مادی اشیا تک محدود نہیں۔

تاہم ایک ایسا ملک جو پہلے ہی مغربی معیارات کے لحاظ سے غریب تھا نہ صرف اس کو ہونے والے معاشی نقصان کا تعین کیا جانا چاہیے  بلکہ جنگ کے سماجی تعلقات اور رویے پر ہونے والے نفسیاتی اثرات کا بھی جائزہ لینا چاہیے جہاں اب بہت سے لوگ بندوق اٹھانے اور طاقت کے بل پر حساب برابر کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔

تاہم اجتماعی اور انفرادی سطح پر سب سے بڑی تبدیلی شدید نفرت ہو سکتی ہے جو اناڑی اور خراب حال پڑوسی بدمعاشوں کے لیے پیدا کی گئی ہے۔

یہ نفرت برسوں تک پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے جس سے اس بات کا خطرہ کہیں بڑھ  گیا ہے کہ روس یوکرین جنگ کے ساتھ سلسلہ ختم نہیں ہو گا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ