امریکی اور روسی وزرائے دفاع کا یوکرین پر حملے کے بعد پہلا رابطہ

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق ایک گھنٹے طویل یہ بات چیت رابطے کی کھڑکی کھلی رکھنے کے لیے اہم تھی لیکن اس سے ’سنجیدہ مسائل‘ کے حل یا روسی جنگ میں کوئی تبدیلی کے آثار نہیں ملے۔

دائیں: روسی وزارت دفاع کی ویڈیو سے لیے گئے سکرین گریب میں روسی وزیر دفاع سرگے شوئیگو 19 اپریل 2022 کو ماسکو میں ایک اجلاس میں۔ بائیں: امریکی وزیر دفاع لوئیڈ آسٹن جرمنی میں ایک امریکی فوجی اڈے میں 26 اپریل 2022 کو ایک اجلاس میں۔ دونوں وزرا کے درمیان روس کے یوکرین پر حملے کے بعد پہلی بار رابطہ ہوا ہے (تصاویر: اے ایف پی)

فروری میں یوکرین پر حملے کے بعد روسی وزیر دفاع سرگئے شوئیگو نے اپنے امریکی ہم منصب وزیر دفاع لائیڈ آسٹن سے پہلی بار براہ راست بات چیت کی ہے تاہم حکام نے کہا کہ اس بات چیت سے ماسکو کی جانب سے جنگ میں کسی تبدیلی کا اشارہ نہیں ملا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا ہے کہ آسٹن کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک گھنٹے طویل یہ بات چیت رابطے کی کھڑکی کھلی رکھنے کے حوالے سے اہم تھی لیکن اس سے ’سنجیدہ مسائل‘ کے حل یا 12ویں ہفتے میں داخل ہونے والی روسی جنگ میں کوئی تبدیلی کے آثار نہیں ملے۔

یہ ٹیلی فون کال وزیر دفاع آسٹن کی طرف سے کی گئی تھی جو فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے کسی روسی اہلکار کے ساتھ اعلیٰ ترین امریکی رابطہ ہے۔ 

گذشتہ کئی ماہ کے دوران پینٹاگون کے حکام نے بارہا کہا ہے کہ روسی رہنماؤں نے آسٹن اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملی سے بات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

جنگ شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل 18 فروری کے بعد آسٹن اور سرگئے شوئیگو کے درمیان یہ پہلی بات چیت ہے۔

ایک اور سینیئر امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ اس بات چیت کے بعد امید ہے کہ جنرل مارک ملی بھی جلد اپنے روسی ہم منصب جنرل ویلری گیراسیموف سے رابطہ کریں گے۔

ایک بیان میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا کہ آسٹن نے اپنے روسی ہم منصب سے بات چیت میں یوکرین میں فوری جنگ بندی اور رابطوں کی بحالی کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔‘

کئی عہدیداروں نے اس بات چیت کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ اس بات چیت کو آگے بڑھانے کے روسی فیصلے کی وجہ واضح نہیں ہے۔

امریکی دفاعی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ یہ پیش رفت مستقبل کے رابطوں کے لیے ایک ’سپرنگ بورڈ‘ کے طور پر کام کرے گی۔ 

اہلکار نے بات چیت کے ماحول کو ’پیشہ ورانہ‘ قرار دیا تاہم اس حوالے سے کوئی اور تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ اور روس کے دفاعی اور فوجی رہنماؤں کے درمیان براہ راست رابطے کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے کسی بھی غلط فہمی یا کشیدگی میں غیر ضروری اضافے سے بچا جا سکتا ہے۔

امریکہ اور روس نے ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان ایک ڈی کنفلیکشن لائن بھی قائم کر رکھی ہے جسے فوجیں کسی بھی ہنگامی صورت حال یا یوکرین کے قریب نیٹو اتحادیوں کے لیے خطرے کی صورت میں استعمال کر سکتی ہیں۔ اس لائن کو باضابطہ طور پر استعمال نہیں کیا گیا ہے تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ روسیوں نے ٹیسٹنگ کے دوران فون کا جواب دیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ لائن کام کر رہی ہے۔

امریکی اور دیگر مغربی حکام نے یوکرین میں روس کی پیش قدمی خاص طور پر مشرقی دونبیس کے علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کو تاخیر کا شکار اور ناکام قرار دیا ہے۔

روسی نقصان

دوسری جانب یوکرینی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعے کو روسی افواج کو اس وقت بھاری نقصان ہوا جب کیئف کی افواج نے ایک روسی فلوٹنگ پل کو تباہ کر دیا جس کے ذریعے وہ مشرق میں ایک دریا کو عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یوکرین کی فضائی کمانڈ نے تباہ حال پل اور روسی فوجی گاڑیوں کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کی ہیں۔

کمانڈ نے کہا کہ اس کے فوجیوں نے ’قابض روسیوں کو ڈبو دیا۔‘

دوسری جانب روس کے حملے کے بعد جنگی جرائم کے الزام میں ہونے والی پہلی ٹرائل میں کیئف میں ایک روسی فوجی پر مقدمہ جمعے کو شروع ہوگا۔

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق پکڑے گئے 21 سالہ سارجنٹ وادیم شیشیمرین پر الزام ہے کہ انہوں نے شمال مشرقی گاؤں چوپاخیووکا میں ایک غیر مسلح 62 سالہ شخص کا قتل کیا۔

یوکرینی قانون کے مطابق انہیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

یہ مقنمہ ایک ایسے وقت میں شروع ہوا ہے کہ یوکرین کی پرسیکیوٹر جنرل ارینا وینیڈکٹووا روسی افواج کی جانب سے ممکنہ جنگی جرائم کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہیں، جن میں شہریوں پر تشدد اور ان کا قتل کرنا شامل ہیں۔

ارینا وینیڈکٹووا کے دفتر کے مطابق یوکرینی افواج سے شکست کے بعد وادیم شیشیمرین اور ان کا یونٹ 28 فروری کو چوپاخیووکا گاؤں میں سے گزر رہا تھا جب انہوں نے ایک شہری کو فٹ پاتھ پر اپنی فون پر بات کرتے دیکھا۔

پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق وادیم شیشیمرین کو حکم دیا گیا کہ وہ اس شہری کو گولی مار دیں تاکہ یوکرینی حکام کو بتا نہ سکے۔ شیشیمرین پر الزام ہے انہوں نے گاڑی سے باہر اپنی رائفل سے فائرنگ کر کے شہری کو مار دیا۔

یوکرینی سکیورٹی سروس نے ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے جس میں وادیم شیشیمرین اس کا اعتراف کر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ