یوکرین: سکول پر بمباری سے درجنوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ

یوکرین اور اس کے مغربی اتحادیوں نے روسی فورسز پر الزام لگایا ہے کہ وہ جنگ میں شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ماسکو نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

ایک بغیر پھٹا ہوا آتش گیر مادہ 7 مئی 2022 کو مشرقی یوکرین کی ایک سڑک کے بیچ زمین میں دھنسا ہوا ہے۔ اس بمباری کا الزام یوکرین پر لگاتا ہے جبکہ روس شہری علاقوں پر بمباری سے انکار کرتا رہا ہے (تصویر: اے ایف پی)

مشرقی یوکرین میں لوہانسک کے علاقائی گورنر سرگئے گیدائی نے اتوار کو کہا ہے کہ علاقے میں ایک گاؤں کے سکول پر روسی بمباری کے نتیجے میں 60 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق علاقائی گورنر کا کہنا تھا کہ روسی فوجوں نے ہفتے کو بیلوگوریوکا نامی گاؤں کے سکول پر بم گرایا جہاں 90 کے قریب لوگوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ بمباری سے آگ لگ گئی جس نے عمارت کو لپیٹ میں لے لیا۔

گورنر نے میسیجنگ ایپ ٹیلی گرام پر لکھا: ’تقریباً چار گھنٹے میں آگ بجھا دی گئی جس کے بعد ملبہ اٹھایا گیا اور بدقسمتی سے دو لوگوں کی لاشیں ملیں۔30 لوگوں کو ملبے سے نکال لیا گیا جن میں سات زخمی تھے۔ عمارتوں کے ملبے تلے دب کر 60 افراد کے ہلاک ہو جانے کا امکان ہے۔‘

روئٹرز اس اطلاع کی فوری طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔ یوکرین اور اس کے مغربی اتحادیوں نے روسی فورسز پر الزام لگایا ہے کہ وہ جنگ میں شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ماسکو نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

یوکرین کے تباہ حال جنوب مشرقی ساحلی شہر ماریوپول کے ایک بڑے سٹیل پلانٹ سے اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل کمیٹی آف دا ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کی نگرانی میں سینکڑوں شہریوں کو نکالا جا چکا ہے۔

یوکرین کے صدر وولودی میرزیلنسکی نے ہفتے کی شام اپنے خطاب میں بتایا کہ ایزووستل سٹیل ورکس سے 300 سے زیادہ شہریوں کو نکالا جا چکا ہے اور اب حکام اپنی توجہ زخمیوں اور طبی عملے کو نکالنے کی کوشش پر مرکوز کریں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق علاقائی گورنر کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے بم سکول پر گرے اور وہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ وہاں کُل 90 لوگ موجود تھے جن میں 27 کو بچا لیا گیا۔ وہ 60 لوگ جو سکول میں تھے وہ ممکنہ طور پر ہلاک ہو چکے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری عالمی جنگ میں جرمنی کی طرف سے اتحادیوں کے سامنے باضابطہ طور پر ہتھیار ڈالنے کے حوالے سے یورپ میں یوم فتح منایا جا رہا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے اتوار کو یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے اپنے جذباتی خطاب میں کہا کہ روسی حملے کی صورت میں برائی یوکرین کی طرف لوٹ آئی ہے لیکن ان کا ملک قائم رہے گا۔

روس میں پیر کو یوم فتح کی تقریبات سے پہلے امریکی صدر جوبائیڈن اور جی سیون کے دوسرے رہنما اظہار یکجہتی کے لیے اتوار کو زیلنسکی کو وڈیو کال کریں گے۔

یوکرین کے لیے یورپی حمایت واضح کرتے ہوئے برطانیہ نے فوجی امداد اور مدد کی صورت میں اسے مزید 1.3 ارب پاؤنڈ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ امداد برطانیہ کی جانب سے پہلے کیے گئے وعدوں کے مقابلے میں دگنی ہے۔

روس میں یوم فتح ایک اہم تقریب ہوتی ہے اور صدر پوتن پیر کو دارالحکومت ماسکو کے ریڈ سکوائر میں ہونے والی فوجی پریڈ کا معائنہ کریں گے۔ اس موقعے پر ٹینکوں، راکٹوں، بین البراعظمی میزائلوں کی نمائش کے ساتھ فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا حالاں کہ روسی فوج یوکریں میں جنگ میں مصروف ہے۔

روسی صدر کا خطاب جنگ کے مستقبل کے بارے میں اشارے دے سکتا ہے۔ یوکرین کی جانب سے سخت کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں، نقل و حمل اور جنگی سامان کے مسائل کی وجہ سے روسی کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔

امریکی خفیہ ادارے (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے ہفتے کو کہا تھا کہ پوتن اس بات پر قائل ہیں کہ تنا زعے پر’وسائل دگنے‘ کرنے سے نتائج روس کے لیے بہتر ہوجائیں گے۔ واشنگٹن میں اخبار فنانشل ٹائمز کی تقریب سے خطاب میں برنز کا کہنا تھا کہ اپنی سوچ کے مطابق پوتن کا ماننا ہے کہ وہ’جنگ میں شکست کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا