روسی فوجی گھریلو آلات کے پرزے کیوں استعمال کرنے لگے؟

امریکی میگزین پی سی میگ کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اقدام روس پر عائد بھاری پابندیوں کا نتیجہ ہے اور امریکی کمپنیاں اس ملک کو پرزے فروخت کرنے اور بھیجنے سے قاصر ہیں۔

25 مئی 2014 کی اس تصویر میں یوکرین کے علاقے ڈونیستک میں روسی نواز جنگجوؤں کو دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

یوکرین جنگ کے بعد روس اپنے فوجی ہارڈ ویئر کو فعال رکھنے کے لیے گھریلو آلات سے پرزوں کے حصول پر مجبور ہے۔

جریدے بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق بدھ کو امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے تخصیص میں وزیر تجارت جینا رائمونڈو نے وضاحت کی کہ ’ہمارے پاس یوکرینیوں کی جانب سے اطلاعات ہیں کہ جب انہیں زمین پر روسی فوجی سازوسامان ملتا ہے تو اس میں ڈش واشر اور ریفریجریٹر سے نکالے گئے سیمی کنڈکٹرز ہوتے ہیں۔‘

روسی فوج اپنے ٹینکوں میں استعمال کے لیے تجارتی اور صنعتی مشینوں کے ساتھ ساتھ عام گھریلو آلات سے پرزے نکال رہے ہیں۔

امریکی میگزین پی سی میگ کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اقدام روس پر عائد بھاری پابندیوں کا نتیجہ ہے اور امریکی کمپنیاں اس ملک کو پرزے فروخت کرنے اور بھیجنے سے قاصر ہیں۔

بہت سی یورپی کمپنیوں نے یوکرین کے ساتھ ولادی میر پوتن کی جنگ کے خلاف روس کے ساتھ تجارت بھی بند کر دی ہے۔

امریکی وزیر تجارت جینا رائمونڈو نے کہا کہ جب پابندیاں عائد کی گئیں تو اس وقت یہ سب منصوبے کا حصہ تھا، ’ہمارا نقطہ نظر روس کی ٹیکنالوجی۔۔۔ یعنی اس ٹیکنالوجی کا بائیکاٹ کرنا تھا جو ان کی فوجی کارروائی جاری رکھنے کی صلاحیت کو معذور کر دے گی۔ اور ہم بالکل یہی کر رہے ہیں۔ ‘

’ہم پہلے ہی اس بات کے آثار دیکھ رہے تھے کہ روس کی جانب سے آغاز جنگ کے بعد یہ  آئی ٹی کی مہارت رکھنے والے لوگوں کے لیے ایک قید خانہ بن گیا ہےاور بینک کارڈ مائیکرو چپس کے لیے چین کی طرف دیکھ رہا ہے۔‘

’اب جب فوج پرزوں کے لیے گھریلو آلات تلاش کر رہی ہے، تو آپ سوچیں کہ روسی حکومت اس بات کی وضاحت کے لیے کس طرح اپنی پروپیگنڈا مشین استعمال کرے گی کہ ’خصوصی آپریشن‘ میں گھروں کو اپنے ڈش واشر اور ریفریجریٹر عطیہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی وزیرتجارت نے کہا کہ انہوں نے یوکرینی وزیر اعظم سے سنا ہے کہ  پیچھے رہ جانے والے کچھ روسی سازوسامان میں باورچی خانے کے آلات سے نکالے گئے سیمی کنڈکٹرز شامل ہیں کیونکہ دفاعی صنعتی اڈے کو اپنے طور پر مزید چپس تیار کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے اور اسے برآمدی کنٹرول کا سامنا ہے جس کی وجہ اس کی ٹیکنالوجی کو دوسرے ممالک سے درآمد کرنے کی صلاحیت محدود  ہوچکی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جینا رائمونڈو کے مطابق برآمدی کنٹرول اور پابندیوں نے ہتھیاروں کی صنعت کے دیگر حصوں کو متاثر کیا ہے۔ حال ہی میں روسی ٹینک بنانے والی دو فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں اور بہت سے روسی آٹو مینوفیکچررز نے مزدوروں کو چھٹی پر بھیج دیا ہے۔

امریکی خبررساں ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق ایک سینیئر دفاعی عہدیدار نے بھی رواں ہفتے کے آغاز میں صحافیوں کو یہ بتایا تھا کہ روس پر پابندیوں نے روس کی اپنے اسلحے کی پیداوار کی صلاحیت کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

عہدیدار نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ پابندیوں کی وجہ سے ولادی میر پوتن کے لیے اسلحہ جمع کرنا مشکل ہو گیا ہے۔‘

کانگریس ریسرچ سروس کے مطابق خصوصی اہداف کو نشانہ بنانے والے گائیڈڈ گولہ بارود، جی پی ایس، لیزر گائیڈنس، یا انرشیل نیوی گیشن سسٹم کا استعمال صرف مطلوبہ ہدف کو نشانہ بنانے اور دیگر سٹرکچر کو نقصان سے بچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق ایسے اسلحے کے کم استعمال سے اس بات کی وضاحت ہوسکتی ہے کہ روسی خاص طور پر ماریوپول شہر میں ’ ڈیمنڈ بم‘ پر زیادہ سے زیادہ انحصار کیوں کر رہے ہیں کیوں کہ یہ بم ایک خاص ہدف پر نہیں گرتے اور اپنے ہدف کی شناخت بھی نہیں کر سکتے۔

روسیوں نے جنگ کے دوران یوکرین میں ہائپر سونک ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا ہے، اور ان کے استعمال کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس ایسے ہتھیار تیزی سے ختم ہو رہے ہیں جو اپنے ہدف کو درست نشانہ بناتے ہیں۔

ایک سینئیر دفاعی عہدیدار نے رواں ہفتے بتایا کہ روسیوں نے حملے کے دوران یوکرین میں ایک اندازے کے مطابق 10 سے 12 ہائپر سونک ہتھیار داغے ہیں لیکن جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے بدھ کے روز کانگریس کی سماعت میں کہا کہ جس طرح روسی ہائپر سونک استعمال کر رہے ہیں اس سے انہیں اب تک میدان جنگ میں زیادہ فائدہ نہیں ملا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا