پاکستان: قسطوں پر گاڑی خریدنے والوں کے لیے پالیسی مزید سخت

سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے 24 مئی کو جاری کردہ سرکلر کے مطابق کمرشل بنک سے گاڑی لیز یا قسطوں پر لینے والے صارفین کے لیے شرائط مزید سخت کر دی گئی ہیں۔

20 مئی 2022 کو اسلام آباد کا ایک کار شوروم (فائل تصویر: اے ایف پی)

سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے 24 مئی کو جاری کردہ سرکلر کے مطابق کمرشل بنک سے گاڑی لیز یا قسطوں پر لینے والے صارفین کے لیے شرائط مزید سخت کر دی گئی ہیں۔

نئی پالیسی کے مطابق آٹو لون یا کار فنانسنگ کروانے والے صارفین جو ایک ہزار سی سی سے زیادہ کی گاڑی لیں گے ان کے لیے کار فنانسنگ کی زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال کی بجائے اب ’تین سال‘ ہو گی۔

ایک ہزار سی سی سے کم طاقت والے انجن کی حامل گاڑیاں سات سال کی بجائے اب زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی مدت کے لیے آٹو لون کی صورت میں حاصل کی جا سکیں گی۔

حکومت کی جانب سے حالیہ برسوں میں شروع کی گئی روشن اپنی کار سکیم کو ان قوانین سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔

دو روز قبل سٹیٹ بنک کی جانب سے شرح سود بڑھا کر 13.75 فیصد کر دی گئی تھی جس کی وجہ سے کار فنانسنگ کے صارفین کو پہلے ہی قسطوں کی مد میں پہلے کی نسبت زیادہ رقم ادا کرنی پڑے گی۔

نیشنل بنک پاکستان کے منیجر کامران ربانی کے مطابق ’کار فنانسنگ کی مدت کم ہونے سے بنک اور صارف دونوں کو ہی فائدہ ہو گا۔  بنک کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی ریکوری جلد از جلد ہو جائے گی اور فنانسنگ کی مدت کم ہو گی تو صارف کو مارک اپ کم دینا پڑے گا۔ پانچ سال اور سات سال کی قسطوں میں صارف اس طرح نقصان میں رہتے تھے کہ کار کی ڈیپریسی ایشن بڑھتی جاتی تھی اور مارک اپ ان کا ویسے ہی بلند ترین شرح پر ہوتا تھا۔‘
آٹو سیکٹر ماہرین کے مطابق حکومت پاکستان اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف شعبوں پر پابندیاں عائد کر رہی ہے اور آٹو فنانسنگ کی مدت میں کمی ان میں سے ایک ہے۔ اس کا اثر آٹو سیکٹر کے حجم پر پڑے گا، یعنی مکمل طور پر ناک آؤٹ (CKD) کٹس اور مقامی اسمبلی/ پیداوار کی درآمدات میں کمی ہو گی جس سے ملک میں ڈالر ریزرو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ 
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال آٹو سیکٹر میں ترقی کی شرح ساٹھ فیصد تھی جو حالیہ اقدامات کے بعد بتدریج سست ہونے کا امکان ہے۔ 

سود کی سخت شرحوں اور ریگولیٹری پابندیوں کے باوجود، گذشتہ برس کار فنانسنگ میں دسمبر 2021 میں واضح اضافہ دیکھا گیا۔ سال کے آخری مہینوں کے دوران صارفین منی بجٹ کی منظوری سے قبل ڈیلیوری حاصل کرنے کے لیے کوشش کرتے رہے تاکہ انہیں کم ٹیکس ادا کرنا پڑے۔

سٹیٹ بینک (SBP) کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2021 میں گذشتہ سال کی نسبت کار فنانسنگ میں 38 فیصد اضافہ ہوا۔

ماہرین کے مطابق دسمبر 2021 میں غیر متوقع کار ڈیمانڈ نے آٹو فنانسنگ میں بھی اضافہ کیا۔ آٹو فنانسنگ کے ذریعے خریدی جانے والی کاروں کی تعداد ملک میں فروخت ہونے والی کل کاروں کے 30 فیصد سے 40 فیصد کے درمیان رہی۔

پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے اعداد و شمار کے مطابق، دسمبر 2021 میں گذشتہ سال کی نسبت گاڑیوں کی فروخت 96 فیصد بڑھ کر 27,300 یونٹس تک پہنچ گئی۔

گذشتہ سال کار فنانسنگ کی مد میں اٹھائے گئے اہم اقدامات میں مرکزی بینک کی جانب سے کار ایڈوانس کم از کم ادائیگی کی حد 15 سے بڑھا کر 30 فیصد کر دی گئی تھی۔ قرضوں کے بوجھ کے تناسب کو 50 فیصد سے کم کر کے 40 فیصد کر دیا گیا اور زیادہ سے زیادہ آٹو لون کو 30 لاکھ روپے تک محدود کرنے کی تجاویز بھی سامنے آئیں۔ تاہم، یہ پابندیاں 1000 سی سی انجن کے سائز سے کم گاڑیوں پر لاگو نہیں ہوئیں۔

نجف خان پنجاب کارز کے نام سے ملتان میں گاڑیوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ موجودہ صورت حال پر ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے تو جیسے تیسے ہمارا کام چل جاتا تھا، گزارا کر لیتے تھے، اب حالیہ اعلانات کے بعد گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ لوگ دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے۔ جاپانی گاڑیوں کی امپورٹ پر مکمل بین ہے، پچھلے سال بھی شرح سود اور کائبور میں اضافہ ہوا، تیس فیصد اور تیس لاکھ والی روپے شرائط عائد کی گئیں اور اب فنانسنگ کی مدت مزید کم اور شرح سود مزید بڑھ جانے کے بعد ہمارے پاس سروائیول کا بھی کوئی راستہ نہیں رہا۔ یہی حالات رہے تو سڑکوں پر آ جائیں گے۔ نئی گاڑیاں کوئی خریدے گا نہیں اور پرانی جس کے پاس ہو گی وہ اسے فروخت نہیں کرے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت