شیرین ابو عاقلہ کو اسرائیلی فوجی نے مارا: فلسطینی اٹارنی جنرل

فلسطینی حکام کی جانب سے عربی زبان کے چینل الجزیرہ سے منسلک صحافی شیرین ابو عاقلہ کے قتل کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں، جس میں انہیں اسرائیلی فوجی کی جانب سے نشانہ بنانے کی تصدیق ہوئی ہے۔

فلسطینی اٹارنی جنرل اکرم الخطیب 26 مئی 2022 کو رام اللہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران (فوٹو: اے ایف پی)

فلسطینی صحافی شیرین ابو عاقلہ کو رواں ماہ 11 مئی کی صبح ایک فلسطینی آبادی پر اسرائیلی قابض فوج کے چھاپے کی رپورٹنگ کے دوران قتل کر دیا گیا تھا اور اب فلسطینی حکام نے معاملے کی تحقیقات مکمل کرلی ہیں، جس کے مطابق ان کی جان ایک اسرائیلی فوجی نے لی۔

تفتیش مکمل ہونے پر فلسطینی حکام نے جمعرات کو رام اللہ میں ایک پریس کانفرنس کی، جہاں اٹارنی جنرل اکرم الخطیب نے بتایا: ’تمام حقائق قتل کا جرم ثابت کرتے ہیں۔ قومی قوانین کے مطابق یہ جنگی جرم ہے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔‘

یاد رہے کہ فلسطینی نژاد امریکی صحافی شیرین ابو عاقلہ نے جیکٹ پہن رکھی تھی جس پر ’پریس‘ لکھا تھا اور ان کے سر پر ہیلمٹ بھی تھا۔ ان کی موت گولی لگنے سے واقع ہوئی، جو انہیں ہیلمٹ سے تھوڑا نیچے لگی۔

رپورٹ کے مطابق شیرین ابو عاقلہ کو 5.56 ملی میٹر کی گولی لگی جو روگر منی 14 رائفل سے چلائی گئی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قریبی درخت پر گولیوں کے نشانات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے ’جسم کے اوپر والے حصے کو قتل کی نیت سے نشانہ بنایا گیا۔‘

فلسطینی اٹارنی جنرل اکرم الخطیب کا کہنا ہے کہ ’یہ تمام حقائق، گولی کا رخ، ہتھیار، فاصلہ اور یہ حقیقت کہ انہوں نے پریس جیکٹ پہن رکھی تھی جس کے صاف نظر آنے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی، ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنے کی جانب لے جاتے ہیں کہ شیرین ابو عاقلہ کو قتل کیا گیا۔‘

انہوں نے کہا: ’گولی چلنے کا واحد ذریعہ قابض اسرائیلی فوج ہی تھی۔‘

فلسطینی حکومت کے ایک سینیئر رکن حسین الشیخ کا کہنا تھا کہ تفتیشی رپورٹ کی ایک کاپی امریکی حکام کو بھی بھیجی گئی ہے اور یہ الجزیرہ اور شیرین ابو عاقلہ کے خاندان کو بھی دی جائے گی۔

اسرائیلی حکام نے رپورٹ پر فوری رد عمل دیتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے اور اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا ہے کہ ’اسرائیلی فوج صحافیوں کو کبھی نشانہ نہیں بناتی۔‘

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دعویٰ سراسر جھوٹ ہے کہ اسرائیلی فوج صحافیوں یا غیرشامل افراد کو نقصان پہنچاتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’گو کہ اسرائیل نے متعدد مرتبہ کوشش کی لیکن فلسطینی حکام نے تعاون کرنے سے انکار کر دیا جس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ واقعی سچائی تک پہنچنا چاہتے ہیں۔‘

فلسطینی حکام نے عدم اعتماد کی وجہ سے شیرین ابو عاقلہ کو لگنے والی گولی اسرائیلی حکام کو دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اسرائیلی حکام نے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے شیرین ابو عاقلہ کو کسی فلسطینی بندوق بردار کی ہوا میں چلنے والی گولی لگی ہو یا پھر کسی اسرائیلی فوجی کی غلطی سے چلنے والی گولی سے ان کی موت واقع ہوئی ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا