’میں خود اپنی ملکہ ہوں‘: بھارتی خاتون کا خود سے شادی کا اعلان

ایک نجی فرم میں کام کرنے والی اور بلاگر کشما بندو نے خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا(پی ٹی آئی) کو بتایا کہ مجھے زندگی کے ایک موقع پر احساس ہوا کہ مجھے دلکش شہزادے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ میں اپنی ملکہ ہوں۔

23 دسمبر 2018 کی اس تصویر میں بھارتی شہر احمد آباد ایک دلہن اجتماعی شادی کی تقریب کے دوران فون پر بات کرتے ہوئے(اے ایف پی)

ایک 24 سالہ بھارتی خاتون جنہوں نے کہا تھا کہ وہ خود سے شادی کرنے جا رہی ہیں، انہیں اپنے فیصلے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل کا سامنا ہے۔

کشاما بندو کا تعلق بھارت کی شمال مغربی گجرات ریاست سے ہے اور وہ 11 جون کو روایتی ہندو شادی کی تقریب میں اپنے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گی جو بھارت میں سولوگیمی کی پہلی رپورٹ کردہ مثال ہوسکتی ہے۔

ایک تنہا شادی میں ہندو شادی کی روایتی تقریب کے تمام لوازمات ہوں گے۔ آگ کے ارد گرد پھیروں سے لے کر ہنی مون تک۔

ایک نجی فرم میں کام کرنے والی اور بلاگر کشاما بندو نے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کو بتایا کہ مجھے زندگی کے ایک موقع پر احساس ہوا کہ مجھے دلکش شہزادے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ میں اپنی ملکہ ہوں۔

’میں شادی کا دن چاہتی ہوں لیکن اگلا دن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے 11 جون کو اپنی شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں دلہن کی طرح لباس پہنوں گی، رسومات میں حصہ لوں گی، میرے دوست میری شادی میں شرکت کریں گے اور پھر میں دلہے کے ساتھ جانے کی بجائے اپنے گھر واپس آؤں گی۔‘

کشاما بندو نے کہا اپنے اہل خانہ سے آشیرباد لینے کے بعد، جو تقریب میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے شادی کے لیے انہوں نے پہلے ہی ایک پنڈت سے بات کر لی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے مشاہدہ کیا ہے مغرب کے برعکس بھارت میں اپنے آپ سے شادیاں زیادہ مقبول نہیں ہیں۔ لہٰذا، میں نے اس رجحان کو شروع کرنے اور دوسروں کو متاثر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہوسکتا ہے لوگوں کو میرا خیال پسند نہ آئے۔ مجھے یقین ہے کہ میں صحیح کام کر رہی ہوں۔‘

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’خود سے شادی اپنے لیے وقت نکالنے کا عہد ہے۔ اس ذریعہ معاش اور طرز زندگی کا انتخاب کرنا ہے جو آپ کو سب سے زیادہ خوش انسان بننے اور آگے بڑھنے میں مدد کرے گا۔‘

اسے ’خود قبولیت کا عمل‘ قرار دیتے ہوئے کشاما بندو نے کہا کہ سولوگیمی میرا یہ ظاہرکرنے کا طریقہ ہے کہ’میں اپنے تمام مختلف حصوں کو قبول کر رہی ہوں، خاص طور پر اپنے ان حصوں کو جن سے میں نے انکار یا انکار کرنے کی کوشش کی ہے جیسا کہ میری کمزوریاں- چاہے وہ جسمانی ہوں، ذہنی ہوں یا جذباتی۔‘

سوشل میڈیا پر کشاما بندو کے فیصلے کی خبر پر یکساں طور پر حمایت اور تنقید کی جا رہی ہے۔

ایک صارف نے پوچھا کہ ’اگر کوئی اتنا خود کفیل ہے اور دقیانوسی تصور کو توڑنا چاہتا ہے، اپنے آپ سے شادی کرنے کی کیا منطق ہے؟

ایک صارف نے پوچھا کہ:’شادی کی دقیانوسی سوچ کو بھی توڑیں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ تو پھر آپ خبروں میں نہیں آسکیں گی، یہ سب موڈرنائیزیشن اور تشہیر کے لیے ہے۔‘


ایک اور شخص نے لکھا کہ ’آپ خود سے شادی کیے بغیر اپنے ساتھ رہ سکتی ہیں۔‘


کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ کیا کشاما بندو کی خود سے شادی کی قانونی جانچ پڑتال پر پوری اترے گی؟

ہائی کورٹ کے سینیئر وکیل کرشنا کانت وکھاریا نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کو بتایا کہ بھارتی قوانین کے مطابق آپ خود سے شادی نہیں کر سکتے۔ ’شادی میں دو افراد ہونے چاہئیں۔ سولوگیمی قانونی نہیں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وکیل چندراکانت گپتا نے کہا کہ ’ہندو شادی ایکٹ میں ' شریک حیات میں سے کسی ایک' کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، جس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ شادی کے لیے دو افراد ہونے چاہئیں۔ سولوگیمی کبھی بھی قانونی جانچ پڑتال پر پوری نہیں اترے گی۔‘

لیکن کشاما بندو کو اپنی حمایت میں بھی پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ’ بہت خوبصورت، ایک ملک، جہاں نوجوان لڑکیاں اب بھی ہر طرح کی توہمات کے لیے درختوں اور جانوروں سے شادی کرنے پر مجبور ہیں، وہ کس طرح اسے دیکھ رہا ہے۔‘

اگرچہ سولوگیمی برسوں سے ایک تصور کے طور پر موجود ہے، لیکن بھارت میں یہ ایک نیا تصور ہے، جہاں شادی کے روایتی طریقے اب بھی زیادہ مقبول ہیں۔

خود سے شادی کے رجحان کا سراغ 1993 سے لگایا جا سکتا ہے جب دانتوں کی صحت کی ماہر لنڈا بیکر نے ایک تقریب میں خود سے شادی کی جس میں تقریبا 75 دوستوں نے شرکت کی۔

جاپان کے شہرکیوٹو میں ایک ٹریول ایجنسی اکیلی خواتین کے لیے دلہن کی تقریبات کا اہتمام کرتی ہے جبکہ کینیڈا میں بھی شادی کی منصوبہ بندی کرنے والی کمپنی خود سے شادی کی خدمات فراہم کرتی ہے۔

امریکہ میں، کوئی بھی خود سے شادی کرنے والی کٹ خرید سکتا ہے جس میں انگوٹھی، عہد اور کارڈ شامل ہیں۔

میری یورسیلف وینکوور کی بانی الیگزینڈرا گل نے 2016 میں سی بی سی نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ خواتین تاریخ میں پہلی بار اپنا کیریئر بنانے اور اپنی زندگیاں بنانے کے قابل ہو سکتی ہیں۔

’ہماری ماؤں اور دادیوں کے پاس یہ اختیار نہیں تھا، سولوگیمی کے تصور میں خود سے شادی کا رواج شامل ہوسکتا ہے۔ خواتین یہ سن کر تھک چکی ہیں کہ اگر انہوں نے ایک مخصوص مدت تک شادی نہیں کی ہے تو وہ ناکام ہیں۔‘

گذشتہ سال برازیل کی ماڈل کرس گیلیرا نے خود شادی کے صرف 90 دن بعد خود کو طلاق دینے کا اعلان کیا تھا کیونکہ انہیں کسی اور سے محبت ہو گئی تھی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین