امریکی صدر کا دورہ سعودی عرب اور اسرائیل موخر

جو بائیڈن کے مبینہ طور پر جون کے آخر میں ہونے والے اس دورے کے دوران ان کا سعودی عرب جانے کا بھی ارادہ تھا لیکن خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے یہ دورہ جولائی تک ملتوی کر دیا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن 3 جون 2022 کو ڈیلاویئر میں خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل اور سعودی عرب کے ممکنہ دورے کی تاریخ مزید آگے بڑھا دی ہے۔

جو بائیڈن کے مبینہ طور پر جون کے آخر میں ہونے والے اس دورے کے دوران ان کا سعودی عرب جانے کا بھی ارادہ تھا لیکن خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے یہ دورہ جولائی تک ملتوی کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ممکنہ تاخیر پر کوئی بیان دینے سے انکار کردیا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر نے جمعے کو تصدیق کی تھی کہ وہ سعودی عرب کے دورے پر غور کر رہے ہیں۔

یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی جب سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں اضافے پر اتفاق کرتے ہوئے بائیڈن کی دو ترجیحات پر عمل کیا۔ اس سے امریکی افراط زر کو قابو کرنے اور یمن میں جنگ بندی میں توسیع میں مدد مل سکتی ہے۔

سی این این کے مطابق اس دورے کے دوران جوبائیڈن سعودی عرب کے حکمران ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔

مبینہ طور پر یہ دورہ اس وقت ہوگا جب بائیڈن اس ماہ کے آخر میں سپین میں نیٹو سربراہان کے اجلاس اور جرمنی میں گروپ آف سیون کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

توقع کی جارہی ہے کہ وہ اسرائیل جائیں گے جہاں انہیں ممکنہ طور پر ایران کے ساتھ سست رفتار امریکی سفارت کاری کے بارے میں سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بائیڈن نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ بھی کیا ہے، لیکن یوکرین پر روس کے حملے کی وجہ سے سپلائی چین میں گڑبڑ سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے امریکی عوام کو مشتعل کر دیا ہے اور بائیڈن کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

بائیڈن کی انتظامیہ سعودی عرب کو اس امید پر تیل کی پیداوار بڑھانے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس سے سپلائی کی قلت کو کم کرنے اور قیمتوں میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

خبررساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق حکام نے اس سے قبل بتایا تھا کہ سعودی حکومت کے دو وفود رواں ماہ امریکہ کا دورہ کریں گے کیونکہ ریاض اور واشنگٹن نے کشیدہ تعلقات کو ٹھیک کرنے اور امریکی صدر جو بائیڈن کے دورہ سعودی عرب کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔

دو عہدیداروں نے بتایا تھا کہ توقع ہے کہ پہلا وفد 15 جون کو واشنگٹن کا دورہ کرے گا اور اس کی قیادت سعودی وزیر تجارت ماجد بن عبداللہ القصابی کریں گے۔ سرمایہ کاری کے وزیر خالد الفلیح کی قیادت میں دوسرا وفد رواں ماہ کے آخر میں امریکہ جائے گا۔

عہدیداروں نے نام ظاہر کرنے سے انکار کردیا کیونکہ ان دوروں کے متعلق عوامی سطح پر اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ توقع ہے امریکہ جانے والے وفود میں درجنوں سرکاری حکام اور سعودی کمپنی کے ایگزیکٹوز شامل ہوں گے جو نقل و حمل، لاجسٹکس اور قابل تجدید توانائی سمیت متعدد شعبوں میں معاہدے اور معاہدوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

سعودی حکومت نے ان دوروں کے متعلق خبروں پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ دورہ سعودی عرب کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکی صدر کے اس اعلان سے قبل جمعرات کو پیٹرولیم ایکسپورٹ کرنے والے ممالک کی تنظیم اور اتحادیوں (اوپیک پلس) کی جانب سے تیل کی پیداوار کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور یمنی حکومت اور ایران سے منسلک حوثیوں کے درمیان یمن میں جنگ بندی میں توسیع کا معاہدہ بھی ہوا تھا۔

بائیڈن اور وائٹ ہاؤس نے دونوں فیصلوں پر سعودی عرب کی تعریف کی تھی۔

روئٹرز کے مطابق امریکی صدر کے اس دورے سے  واشنگٹن کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو ٹھیک کرنے میں مدد ملے گی جو توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، یمن جنگ کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔

امریکی موقف بھی تبدیل ہو رہا ہے کیونکہ اسے خلیجی ریاستوں کے چین اور روس کے ساتھ تعلقات کی فکر ہے۔

ایک عہدیدار نے کہا کہ:’اس سے قطع نظر کہ بائیڈن کا دورہ ہوتا ہے یا نہیں، دونوں فریق ادارہ جاتی سطح اور مختلف شعبوں میں تعلقات کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا