ایران کا کیمرے ہٹانا جوہری معاہدے کے لیے دھچکا: آئی اے ای اے

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنس میں مذمتی قرارداد منظور ہونے کے بعد ایران نے 2018 کے جوہری معاہدے کی شرائط کے تحت نصب تمام مانیٹرنگ آلات کو ہٹانا شروع کر دیا ہے، جس پر عالمی ادارے نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

میکسار ٹیکنالوجیز کی جانب سے ریلیز کی گئی آٹھ فروری 2020 کی اس تصویر میں ایرانی شہر قم کے قریب واقع فردو افزودگی پلانٹ (اے ایف پی)

اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگراں ادارے نے ایران کی جانب سے اپنی جوہری سائٹس سے کیمروں کو ہٹانے کے عمل کو 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ایک ’سنگین دھچکا‘ قرار دیا ہے۔

ایران نے دھمکی دی تھی کہ اگر انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے 35 ملکی بورڈ آف گورنرز نے امریکہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کی جانب سے پیش کی گئی مذمتی تحریک کو منظور کیا تو وہ اپنی جوہری سائٹس سے بین الاقوامی نگرانی کے کیمروں کو ہٹا دے گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مغربی ممالک کی جانب سے پیر یا منگل کو تحریک پیش کی گئی تھی جس میں ایجنسی کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر ایران کی مذمت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ قرارداد بدھ کی شب بھاری اکثریت سے منظور کر لی گئی۔

عرب نیوز کے مطابق اس اقدام کے جواب میں تہران نے جمعرات سے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (جوہری معاہدے) کی شرائط کے تحت نصب تمام مانیٹرنگ آلات کو ہٹانا شروع کر دیا ہے۔

ایجنسی کے سربراہ رافیئل گروسی نے خبردار کیا ہے کہ ان کے پاس اب نگرانی والے کچھ کیمروں کو بحال کرنے کے لیے چار ہفتوں تک کا وقت باقی ہے ورنہ آئی اے ای اے ایران کی اہم ترین جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا: ’مجھے لگتا ہے کہ یہ (معاہدے کی بحالی کے لیے) ایک سنگین دھچکا ہو گا۔‘

2018 میں امریکہ کے جوہری معاہدے سے نکلنے اور تہران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے بعد سے ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں پر عائد کئی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

عالمی ادارے کے مطابق ایران ہتھیاروں کے لیے استعال ہونے والی حد کے قریب تک یورینیم کی افزودگی کر رہا ہے۔ دوسری جانب معاہدے کی بحالی کے لیے ویانا میں ہونے والے مذاکرات مارچ سے تعطل کا شکار ہیں۔

ایران کا اصرار ہے کہ اس کے ایٹمی پروگرام کا مقصد ہتھیار بنانا نہیں بلکہ شہریوں کے لیے استعمال ہے۔ 

معاہدے کے خاتمے کے بعد سے ایران جدید سینٹری فیوج پر کام اور افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تہران نے 60 فیصد تک یورینیم کو افزودہ کر لیا ہے جو جوہری ہتھیاروں میں استعمال سے ایک مختصر تکنیکی حد کے قریب تر ہے اور اگر ایران ایسا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے ایک جوہری ہتھیار بنانے کے لیے مختصر عرصہ ہی درکار ہو گا۔

رافیئل گروسی نے جمعرات کو ویانا میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ نگرانی کے آلات کو تہران میں موجود سائٹس، نطنز میں زیر زمین جوہری افزودگی کی سائٹ، اصفہان میں واقع جوہری تنصیب اور خندب میں اراک ہیوی واٹر ری ایکٹر سے ہٹایا جا رہا ہے۔

گروسی نے کہا کہ عالمی ادارے کے تقریباً 40 کیمرے ایران میں بنیادی نگرانی کے لیے کام جاری رکھیں گے تاہم تہران پہلے ہی فروری 2021 سے ان کیمروں کی فوٹیج کو جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے دباؤ کی حکمت عملی کے طور پر روک رہا ہے۔

گروسی نے کہا: ’ہم جوہری معاہدے کی بحالی پر مذاکرات کے حوالے سے انتہائی کشیدہ صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب ہم جو تصویر دیکھ رہے ہیں اس کے مطابق یہ کوئی اچھی صورت حال نہیں ہے،‘

بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود ایران اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے۔

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا: ’آپ کو لگتا ہے کہ اگر آپ آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز میں ایک قرارداد منظور کرتے ہیں تو کیا ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ہم اپنے موقف سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا