پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے علاوہ چارہ نہیں تھا: وزیر اعظم

ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے بخوبی واقف ہیں۔

حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ایک پٹرول پمپ کا ملازم 16 جون 2022 کو کراچی میں ایک بورڈ پر ایندھن کی تازہ ترین قیمتوں کو اپ ڈیٹ کر رہا ہے (تصویر: اے ایف پی)

پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں  لگاتار اضافے پر تبصرہ کرتے ہوئے آج وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان ہونے والے معاہدے کی وجہ سے ایندھن کی قیمتیں بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے ایندھن کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس آئی ایم ایف کے معاہدے کی وجہ سے قیمتیں بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، جس پر پی ٹی آئی حکومت نے دستخط کیے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی پی ٹی آئی- آئی ایم ایف معاہدے کی تفصیلات پر عوام کو اعتماد میں لیں گے اور ’ہم ان معاشی مشکلات سے نکل آئیں گے۔‘

وزیر اعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں حیران ہوں کہ جن لوگوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ اب تک کا بدترین معاہدہ کیا اور واضح طور پر غلط معاشی فیصلے کیے کیا ان کا ضمیر سچ کا سامنا کر سکتا ہے۔‘

انہوں مزید نے کہا کہ وہ لوگ کیسے بے گناہ ہونے کا بہانہ کر سکتے ہیں جب کہ قوم ان کی وجہ سے اس بحران سے گزر رہی ہے۔

آج سے حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ وزارت خزانہ کی طرف سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 233.89 روپے، ڈیزل 263.31 روپے، مٹی کا تیل 211.43 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 207.47 روپے ہوجائے گی۔

بدھ کی شب وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک کے ساتھ وفاقی دارلحکومت میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 24.03 روپے اضافہ کیا جارہا ہے جب کہ ڈیزل پر 59.16 روپے کا اضافہ ہوگا۔

عمران خان کی حکومت کو قصور وار ٹھراتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا بھی یہی موقف تھا کہ ایسے معاہدے کیے گئے جو آنے والی حکومت کے لیے مشکل بن گئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اب اس حالت میں نہیں ہے کہ اس مد میں مزید نقصان برداشت کرے اور سبسڈی دے۔ وزیر خزانہ کے بقول: ’ مشکل فیصلے پہلے بھی کیے اب بھی کریں گے۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت کو اس مد میں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔‘

وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ ’اس وقت ہم فی لیٹر پیٹرول پر 24 روپے تین پیسے جب کہ ڈیزل میں 67 روپے کا نقصان کر رہے ہیں۔ حکومت نے اس نقصان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

ان کے مطابق عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت 120 ڈالر فی لیٹر ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جان بوجھ کر پیٹرول کی قیمتیں کم کیں، اور اب عالمی مارکیٹ میں تیل، گندم اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

اس سے قبل، مئی کے آخر میں مفتاح اسماعیل نے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے پیٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل کی قیمت میں 30 روپے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کیا، کیونکہ آئی ایم ایف نے پیٹرول کی قیمت بڑھانے تک ریلیف سے انکار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا: ’سابقہ حکومت میں فروری تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہوا، اور پیٹرول کی قیمت کو فکسڈ رکھا گیا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان