’حکومت پاکستان کو اس طرف لے جا رہی ہے جس طرف سری لنکا گیا‘

اسلام آباد میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’مجھے خوف ہے کہ یہ جو قیمتیں بڑھی ہیں وہ یہاں رکیں گی نہیں اور مزید بڑھیں گی۔‘

سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پاکستان کو اس طرف لے کر جا رہے ہیں جس طرف سری لنکا گیا ہے۔

اسلام آباد میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’مجھے خوف ہے کہ یہ جو قیمتیں بڑھی ہیں وہ یہاں رکیں گی نہیں اور مزید بڑھیں گی۔‘

واضح رہے کہ عمران خان نے گذشتہ دنوں ایک ویڈیو پیغام میں اتوار یعنی 19 جون کو احتجاج کی کال دی تھی جس پر ملک کے مختلف شہروں میں بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے، جن سے بعد میں عمران خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔

عمران خان کی جانب سے احتجاج کی یہ کال ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر دی گئی تھے۔

اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ’ہماری حکومت میں 12 روپے پیٹرول یا ڈیزل بڑھا تو مہنگائی مارچ شروع کر دیا تھا۔ جب سے یہ آئے ہیں انہوں نے 84 روپے لیٹر پیٹرول کی قیمت بڑھائی، 110 روپے لیٹر ڈیزل کی قیمت بڑھائی۔‘

’جب ہمیں آئی ایم ایف نے پیٹرول کی قیمیتں بڑھانے کا کہا تو ہم نے 10 روپے کم کر دیا تھا۔ ہم نے آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہوتے ہوئے ہیلتھ کارڈ دیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کو جدھر لے کر جا رہے ہیں یہ، مجھے خوف ہے یہ اس طرف جا رہا ہے جس طرف سری لنکا گیا ہے۔‘

’جس طرف یہ ٹرینڈ جا رہے ہیں مجھے خوف ہے ہمارے پاس ڈالر نہیں ہوں گے، جس طرح اب سری لنکا تیل نہیں خرید سکتا۔‘

سابق وزیراعظم نے مہنگائی پر مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب بجلی کے بل جولائی میں آئیں گے تو پتہ لگے گا کہ مہنگائی کا کتنا بڑا بم پھٹا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے نیوٹرلز کو سمجھایا کہ ’اچھا ہے آپ نیوٹرل رہیں مگر یہ جو سازش ہو رہی ہے اگر اس سے حکومت کو گرا دیا گیا تو ان سے سنبھالا نہیں جائے گا۔ وہ ٹائم تھا اس سازش کو ناکام کرنے کا۔‘

عمران خان نے اپنے خطاب کی آخر میں ایک بار پھر نئے انتخابات کی تاریخ کا مطالبہ دوہرایا اور کہا کہ ’جب تک صاف اور شفاف الیکشن کی تاریخ نہیں ملتی ہم احتجاج کرتے رہیں گے۔‘

’الیکشن نہیں، صاف اور شفاف الیکشن نہیں ہوئے تو مزید انتشار ہوگا۔‘

انہو ں نے کہا کہ ’صرف راستہ ایک ہی ہے صاف اور شفاف الیکشن کا، اور ہم سب نے مل کر اس کے لیے جد و جہد کرنی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست