’کوئی فلم نہیں بن رہی تھی جو رانا ثنا اللہ کی ویڈیو بناتے‘

ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکاٹکس فورس (اے این ایف) عارف ملک کا کہنا ہے کہ رانا ثنا اللہ کا جسمانی ریمانڈ اس لیے نہیں لیا گیا کیونکہ ان کے خلاف تمام ثبوت موجود ہیں اور اس صورت میں جوڈیشل ریمانڈ ہی کافی ہے۔

سکرین گریپ

ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکاٹکس فورس (اے این ایف) عارف ملک کا کہنا ہے کہ رانا ثنا اللہ کا جسمانی ریمانڈ اس لیے نہیں لیا گیا کیونکہ ان کے خلاف تمام ثبوت موجود ہیں اور اس صورت میں جوڈیشل ریمانڈ ہی کافی ہے۔

اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ڈی جی اے این ایف کا کہنا تھا کہ اگر رانا ثنا اللہ کا جسمانی ریمانڈ لیا جاتا تو پھر سب کہتے کہ ’جو نہیں ہے وہ بھی منوایا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے تمام ثبوت موجود ہیں جنھیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کو 15 کلو گرام ہیروئن سمگل کرنے کے الزام میں گرفتاری کے بعد گذشتہ منگل کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں 14 دن کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا۔

عارف ملک نے کہا کہ ’ہمیں جوڈیشل ریمانڈ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ ہمارے تمام ثبوت موجود ہیں۔‘

اس موقعے پر وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے کہا کہ ملوث افراد ملک چھوڑ کر نہ چلے جائیں اس لیے ان کے نام ظاہر نہیں کیے جا رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے رانا ثنا اللہ کی گاڑی کی تین ہفتوں سے نگرانی جاری تھی، تاہم ’کئی بار فیملی کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ان کو نہیں روکا گیا۔‘

شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ رانا ثنا اللہ بین الاقوامی گروہ کا حصہ تھے۔

پریس کانفرنس کے دوران جب صحافیوں نے رانا ثنا اللہ ’رنگے ہاتھوں‘ پکڑے جانے کے واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز کے بارے میں سوال کیا تو ڈی جی اے این ایف نے کہا : ’یہ کوئی فلم تو بن نہیں رہی تھی کہ ہم بار بار ٹیک لیتے اور ان سے بریف کیس پکڑنے کو کہتے تاکہ ہم ویڈیو بنا سکیں۔‘

انھوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کے محافظوں کی موجودگی میں ویڈیوز اور تصاویر بنانا خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے ایسے سوال ہیں جن کے جواب ابھی نہیں دیے جا سکتے کیونکہ ’ہم نہیں چاہتے کہ عدالت میں جانے سے پہلے ہی کیس خراب ہو جائے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان