پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ کی تحصیل دھیرکوٹ کے گاؤں ڈھک شکرپڑیاں کے باسیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سڑک تعمیر کر کے خود انحصاری کی ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔
اس منصوبے کو اب ’ڈھک شکرپڑیاں ماڈل‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ سرکاری محکموں نے جس سڑک کی تعمیر کا تخمینہ تین سے چھ کروڑ روپے لگایا تھا، اسے مقامی لوگوں نے بہترین معیار کے ساتھ محض ڈیڑھ کروڑ روپے میں مکمل کر لیا۔
اس سڑک کا کچا راستہ 50 سال قبل مقامی لوگوں کے آباؤ اجداد نے خود بنایا تھا۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے مختلف وزرائے اعظم اور سیاسی رہنما اعلانات کرتے رہے، لیکن سیاسی اختلافات اور فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث یہ منصوبہ کبھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔
اس منصوبے کا فیصلہ کن موڑ وہ لمحہ تھا جب علاقے کی ایک طالبہ ماریہ مہتاب نے مقامی سیاستدان سے سڑک کی تعمیر کا مطالبہ کیا، جس پر انہیں طنزیہ جواب ملا کہ ’اپنے سماجی کارکن والد سے کہو کہ وہ خود بنا لیں۔‘ اس طنز نے پوری بستی کو یکجا کر دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ماریہ کے والد اور معروف سماجی شخصیت مہتاب اشرف کی قیادت میں مقامی معززین اور مخیر حضرات نے چندہ جمع کیا۔ سرکاری اداروں کی مدد کے بغیر مقامی انجینئرز کی نگرانی میں صرف پانچ ماہ کے اندر ڈیڑھ کلومیٹر طویل سڑک تعمیر کر لی گئی۔ افتتاحی تقریب میں معروف صحافی حامد میر سمیت مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مقامی شہریوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیورز کے مطابق اس سڑک سے 50 ہزار سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔ یہ سڑک جھالا کو رنگلا کے علاقے ملاتی ہے۔ سڑک کی سے صحت اور تعلیم کے مراکز تک رسائی آسان ہو گئی ہے اور ڈیڑھ گھنٹے کا سفر سمٹ کر 35 منٹ کا رہ گیا ہے۔ سڑک کا معیار سرکاری کام سے کہیں بہتر ہے، جس میں حفاظتی دیواریں، پلیاں اور نکاسی آب کا مناسب انتظام شامل ہے۔
یہ منصوبہ جہاں عوام کی ہمت اور خود انحصاری کا منہ بولتا ثبوت ہے، وہیں یہ ریاستی کارکردگی اور نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔ مقامی لوگ اب اسی ماڈل کے تحت سڑک کو مزید آگے تک تعمیر کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔