برکس رکن ملک نے پاکستان کی شرکت کو روکا: دفترخارجہ

پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے برکس میں شامل ایک رکن ملک نے پاکستان کو اجلاس میں شرکت سے روکا۔‘

برکس دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کا ایک بااثر گروپ ہے جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان نے برکس اجلاس کی میزبانی پر جہاں چین کو مبارک باد دی ہے وہیں ایک رکن ممبر کی جانب سے پاکستان کو اجلاس میں شرکت سے روکنے پر افسوس کا اظہار بھی کیا ہے۔

برکس دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کا ایک بااثر گروپ ہے جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔

ان پانچ ابھرتی معیشتوں کے گروپ کا ورچوئل اجلاس 23 اور 24 جون کو ہوا تھا جس کی میزبانی چین نے کی تھی۔

رواں سال اجلاس کے دوران ’عالمی ترقی پر اعلیٰ سطحی ڈائیلاگ‘ کا انعقاد بھی کیا گیا تھا جس میں دو درجن ایسے ممالک نے بھی شرکت کی جو تنظیم کے رکن نہیں تھے۔

تاہم ان دو درجن ممالک میں پاکستان شامل نہیں تھا۔

اس حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات پر پیر کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایک رکن ملک نے پاکستان کو اجلاس میں شرکت سے روکا، جس پر افسوس ہے۔‘

دفتر خارجہ نے بیان میں ملک کا نام تو نہیں لیا تاہم قیاس کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کو شرکت سے روکنے والا رکن ملک بھارت ہو سکتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ میزبان ملک ہونے کے ناطے چین برکس اجلاس سے قبل پاکستان کے ساتھ بات چیت میں شامل رہا ہے۔

’برکس رکن ممالک کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلے کیے جاتے ہیں جبکہ غیر رکن ممالک کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔‘

ساتھ ہی پاکستان نے چین کو برکس اجلاس کی کامیاب میزبانی پر مبارک باد بھی دی ہے۔

تاہم پاکستان نے امید کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں تنظیم کی ملاقاتیں میں شمولیت ترقی پذیر دنیا کے مجموعی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے اور اس انداز میں شمولیت کے اصولوں پر مبنی ہوگی جو کہ تنگ جغرافیائی سیاسی تحفظات سے مبرا ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان