مکہ کے جبل نور پر حاجیوں کی آمد شروع

یہ پہاڑ جسے ’نور کی پہاڑی‘ کہا جاتا ہے مکہ کے بالکل قریب واقع ہے اور اسی پہاڑ میں غار حرا واقع ہے جہاں پیغمبر اسلام پر وحی اتری تھی۔

مکہ کے جبل نور پر بیٹھے ایک بزرگ آسمان کی جانب دیکھتے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھ رہے ہیں۔

یہ پہاڑ جسے ’نور کی پہاڑی‘ کہا جاتا ہے مکہ کے بالکل قریب واقع ہے اور  اسی پہاڑ میں غار حرا واقع ہے جہاں پیغمبر اسلام پر وحی اتری تھی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہاں تک آنے کا راستہ گو کہ تنگ اور پرپیچ ہے لیکن جوان ہوں یا بزرگ حاجی اس غار تک پہنچنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں اور ایسا وہ پیغمبر اسلام کے قدموں پر چلنے کی کوشش کرتے ہوئے کرتے ہیں۔

مصر سے آنے والے محمد الشافعی کہتے ہیں: ’ہم وہ جگہ دیکھنے آئے ہیں جہاں سے تمام لوگوں کے لیے رحمت اور نور کو بھیجا گیا۔‘

پہاڑ کی جڑ سے اس غار تک پہنچنے میں لگ بھگ 40 منٹ لگتے ہیں لیکن موسم کی شدت اور مشکل راستے کے باعث زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔

دنیا بھر میں کرونا کی وبا کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب سعودی عرب نے دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے حاجیوں کو سفر کی اجازت دی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سال تقریباً دس لاکھ حاجیوں کی سعودی عرب آمد متوقع ہے جو کرونا کی وبا سے قبل کے مقابلے میں نصف تعداد ہے۔

اس وقت مکہ کی گلیوں میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد سفید احرام میں ملبوس عبادات میں مصروف ہیں۔

ان حاجیوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے شہر بھر میں بینرز آویزاں ہیں جبکہ شہر کے قدیم علاقے میں سکیورٹی اہلکاروں کا گشت بھی جاری ہے۔

سوڈان سے آنے والے عبدالقادر خضر نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’یہ بہت پرلطف ہے۔ میں یقین نہیں کر پا رہا کہ میں یہاں موجود ہوں، مجھے یہاں کا ہر لمحہ بہت پرکیف محسوس ہو رہا ہے۔‘

اس سال حج میں شرکت کرنے والے 10 لاکھ افراد میں سے آٹھ لاکھ 50 ہزار کا تعلق بیرون ملک سے ہے اور اب تک چھ لاکھ سے زائد حاجی سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔

2019 میں تقریباً 25 لاکھ افراد نے فریضہ حج ادا کیا تھا جبکہ 2020 میں کرونا کے باعث سعودی عرب میں موجود صرف 10 ہزار افراد کو حج کا فریضہ ادا کرنے کی اجازت تھی لیکن اگلے سال یہ تعداد بڑھا کر 60 ہزار کر دی گئی تھی، لیکن ان افراد کے لیے مکمل ویکسی نیشن کی شرط رکھی گئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا