نانگا پربت پرپھنسے کوہ پیماؤں کو گلگت پہنچا دیا گیا: حکام

کوہ پیما شیروز کاشف اور فضل علی گذشتہ روز پاکستان کی دوسری بلند ترین چوٹی نانگا پربت سر کرنے کے بعد واپسی پر سات ہزار میٹر کی بلندی پر پھنس گئے تھے۔

کوہ پیماؤں شہروز کاشف اور فضل علی کو کیمپ ون سے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر پر ریسکیو کرکے گلگت پہنچا دیا گیا ہے (تصویر: قراقرم کلب)

ڈپٹی کمشنر دیامر فیاض احمد نے بتایا ہے کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان کی ہدایت پر نانگا پربت میں پھنسے دو پاکستانی کوہ پیماوں کو آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر سے ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

کوہ پیما شیروز کاشف اور فضل علی گذشتہ روز پاکستان کی دوسری بلند ترین چوٹی نانگا پربت سر کرنے کے بعد واپسی پر سات ہزار میٹر کی بلندی پر پھنس گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں کوہ پیماؤں کو کیمپ ون سے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر پر ریسکیو کرکے گلگت پہنچا دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق: ’چلاس کنٹرول روم منیجمنٹ اور بیس کیمپ میں موجود ہائی الٹیچیوڈ پولیس، کوہ پیماؤں اور ریسکیو ٹیم کے درمیان بہترین رابطے کی وجہ سے پھنسے کوہ پیماوں کو تلاش کرنے میں کامیابی ملی۔

 ڈپٹی کمشنر دیامر فیاض احمد نے بتایا کہ ’کوہ پیما شیروز کاشف اور فضل علی کو ریسکیو کرنے کے لیے چلاس اور نانگاہ پربت میں کنٹرول روم قائم کیا گیا تھا جہاں سے اس پورے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی گئی۔

کوہ پیما شیروز اور فضل علی کے اہل خانہ نے ریسکیو آپریشن میں بہترین رابطہ قائم رکھنے اور عملی اقدامات اٹھانے پر صوبائی حکومت، پاک فوج اور ڈپٹی کمشنر دیامر کا شکریہ ادا کیا ہے۔

کوہ پیما ساجد سدپارہ نے بھی ایک ٹویٹ کیا ہے جس میں اس ہیلی کاپٹر کے اندر کی تصویر جس کے ذریعے پھنسے ہوئے کوہ پیماؤں کو ریکسیو کیا گیا ہے۔

گلگت کے ضلع دیامرکی انتظامیہ نے جمعرات کو بتایا تھا کہ گذشتہ دو دنوں سے نانگا پربت پر سات ہزار میٹر سے زائد بلندی پر پھنسے کوہ پیما کاشف شہروز اور ان کے ساتھی فضل علی پہاڑ کے کیمپ-2 تک پہنچنے والے ہیں۔

ضلع دیامر کے ڈپٹی کمشنر فیاض احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ دونوں کوہ پیما فیلڈ میں موجود ہماری ٹیم کو ٹیلی سکوپ کے ذریعے نظر آگئے ہیں اور دنوں کیمپ-تھری سے کیمپ-ٹو کی طرف آرہے ہیں۔

فیاض کے مطابق کیمپ-ٹو تقریباً چھ ہزار بلندی پر واقع ہے اور بیس کیمپ تک آنے میں دنوں کوہ پیماؤں کو تقریباً پانچ سے چھ گھنٹے لگا کر مزید دو ہزار میٹر راستہ طے کرنا ہوگا۔

’ہم ہیلی کے ذریعے بھی ان کو ریسکیو کر سکتے ہیں لیکن موسم کی صورتحال کو دیکھیں گے۔ اگلے پانچ سے چھ گھنٹے میں بادل اور بارش کا امکان ہے۔’

ان سے جب کوہ پیماؤں کی صحت کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بظاہر ہماری ٹیم کو جو نظر آیا تو ان کی صحت ٹھیک لگ رہی ہیں تاہم کوہ پیماؤں کے ساتھ ابھی تک کوئی رابطہ نہیں ہوا لہٰذا حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

شہروز کاشف اور فضل علی کیسے لاپتہ ہوئے؟

کوہ پیما شہروز اور ان کے ہائی الٹی چیوڈ پورٹر فضل منگل کی صبح نانگا پربت سر کر چکے تھے جس کے بعد انہیں دنیا کا نوجوان کوہ پیما بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوا جسں نے نانگا پربت سر کی ہو۔

شہروز اس کے بعد واپس آرہے تھے کہ ان کا بیس کیمپ کے ساتھ رابطہ منقطع ہو گیا۔ ان کی لوکیشن ڈیوائس پر آخری لوکیشن 7300 میٹر شو ہو رہی ہے جبکہ ڈیوائس لو بیٹری دکھا رہی ہے۔

 ڈپٹی کمشنر دیامر(نانگہ پربت کے دو راستے ہیں ایک دیامر اور ایک استور کی جانب جس کو کوہ پیما استعمال کرتے ہیں) فیاض احمد کے مطابق دونوں کوہ پیما تقریباً سات ہزار 300 میٹر کی بلندی پر کیمپ-فور کے قریب پھنسنے کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے۔ 


فیاض کے مطابق بدھ کو دونوں کو تلاش کرنے کے لیے بذریعہ ہیلی کاپٹر ریسکیو مشن کا آغاز کیا گیا جو خراب موسم کی وجہ سے ناکام رہا۔
‘کلر ماؤنٹین‘ نانگا پربت

علی حیدر تھیم قراقرم رینج میں اونچی پہاڑی سلسلوں پر تحقیق کرتے ہیں۔ انھوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ نانگا پربت پہاڑ پر کوہ پیمائی کا آغاز 1895 میں ہوا تھا اور 1895 سے 1953 تک اسے سر کرنے کی مہم میں حصہ لینے والے تقریباً سارے کوہ پیما مرجاتے تھے۔

حیدر کے مطابق اسی وجہ سے پہاڑی کا نام ’کلر ماؤنٹین‘ رکھا گیا۔ بعد میں حیدر کے مطابق 1953 میں ایک آسٹریلوی کوہ پیما نے نہایت مہارت کے ساتھ اسے سر کیا اور یہ کسی بھی پہاڑ کو اکیلے سر کرنے کی واحد ممکنہ مثال ہے۔

حیدر نے بتایا، ’2010 تک اس پہاڑ کو تقریباً 310 مرتبہ سر لیا جا چکا ہے۔’

کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کیسے کیا جاتا ہے؟

کے ٹو سمیت دنیا کی 14 دیگر چوٹیوں کو، جن کی اونچائی 28 ہزار فٹ سے بلند ہے، سر کرنے کی خواہش ہر کوہ پیما کی ہے۔

 ان میں زیادہ تر غیر ملکی صاحب حیثیت کوہ پیما ہوتے ہیں جن کے پاس ایسی مہمات کے لیے ذاتی طور پر فنڈز ہوتے ہیں لیکن بعض کو مختلف کمپنیوں کی طرف سے بھی سپانسر کیا جاتا ہے۔

مہم کے دوران لاپتہ ہونے کی صورت میں کوہ پیماؤں کو تلاش کرنے کے لیے ریسکیو آپریشن کیا جاتا ہے جس پر خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔

1974 میں پاکستان میں کوہ پیمائی کو فروغ دینے والی تنظیم الپائن کلب کے جنرل سیکریٹری کرار حیدری نے بتایا کہ پاکستان فوج عموماً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریسکیو سروس مفت فراہم کرتی ہے تاہم کوہ پیما ان خدمات کو ہائر بھی کر سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کوہ پیماؤں کو پاکستانی کمپنی ’عسکری ایوی ایشن‘کے پاس 15 ہزار ڈالرز کی قابل واپسی رقم جمع کروانی پڑتی ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں پاکستان آرمی کی جانب سے عسکری ایوی ایشن کو درخواست دینے کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو سروس فراہم کی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’اگر مہم جوئی کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے تو جمع کروائی گئی رقم میں سے 64 ہزار پاکستانی روپے بطور سروس فیس کاٹ کر بقیہ رقم کوہ پیما کو واپس دی جاتی ہے۔‘

ریسکیو آپریشن کیسے کیا جاتا ہے؟

کوہ پیماؤں کے ساتھ پیش آئے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں عسکری ایوی ایشن نامی کمپنی ریسکیو آپریشن کرتی ہے جو پاکستان فوج کے ریٹائرڈ ایوی ایشن شعبے سے وابستہ اہلکاروں کے زیر انتظام نجی کمپنی ہے۔

پاکستانی صحافی اور ایوی ایشن کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے صحافی طاہر عمران میاں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ عسکری ایوی ایشن کے پاس چارٹر سروسز، ریسکیو سروسز، ایئر پورٹ سروسز، ٹریول اینڈ ٹوورز سروسز سمیت فلائنگ اکیڈمی کے نام سے ایک ادارہ بھی ہے۔

عسکری ایوی ایشن والے ریسکیو آپریشن میں دو قسم کے ہیلی کاپٹرز استعمال کرتے ہیں جس میں ایک قسم کو ایم آئی ہیلی کاپٹرز اور ایک کو ’ایکوریل‘ یا یورو کاپٹر ( سنگل انجن) والا ہیلی کاپٹر کہا جاتا ہے۔

عسکری ایوی ایشن کے مطابق چار ہزار میٹر سے بلند مقام پر ریسکیو آپریشن میں حفاظتی تدابیر کی وجہ سے دو ہیلی کاپٹرز استعمال کیے جاتے ہیں۔

طاہر عمران کہتے ہیں کہ کسی بھی کوہ پیما کے لیے ہمالیہ اور قراقرم پہاڑوں کی مہم کے لیے انشورنس کرنا لازم ہوتا ہے اور انشورنس کے بغیر کسی کو اجازت نہیں ہوتی۔

انہوں نے بتایا کہ عسکری ایوی ایشن کے پاس جو ہیلی کاپٹرہیں وہی یورپ اور دیگر ممالک میں بھی ریسکیو آپریشن کے لیے استعمال  کیے جاتے ہیں۔

’عسکری ایوی ایشن کے پاس سکیورٹی جمع کرانے کے بعد اگر کسی کوہ پیما کو ریسکیو کے لیے ہیلی کاپٹر کی ضرورت پڑتی ہے تو عسکری ایوی ایشن موسم کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ آیا وہ ریسکیو آپریشن شروع کریں یا نہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمران حیدر تہیم کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ گذشتہ 10 سال سے پاکستان کے ہمالیہ اور قراقرم رینج کی چوٹیوں میں کوہ پیمائی پر تحقیق کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ریسکیو آپریشن شروع کرنے سے پہلے معلوم کیا جاتا ہے کہ کوہ پیما کتنی بلندی پر لاپتہ ہوئے یا ان کو کتنی بلندی  پر واقعہ پیش آیا، اس کے بعد آپریشن شروع کیا جاتا ہے۔

حیدر نے بتایا کہ ’عسکری ایوی ایشن کے پاس ہیلی کاپٹرز کی رینج سات ہزار میٹر کی بلندی ہے اور اگر اسی رینج میں کسی کوہ پیما کو مسئلہ درپیش آئے تو ہیلی کاپٹر جا کر اس کو ریسکیو کرتا ہے۔‘

ہیلی کاپٹر کوہ پیما کو ٹریس کرنے کے بعد بیس کیمپ کے ساتھ رابطہ میں ہوتا ہے اور ٹریس کرنے کے بعد کوہ پیما کو ریسکیو کیا جاتا ہے، زخمی ہونے کی صورت میں ان کو قریبی مرکز صحت پہنچا دیا جاتا ہے۔

تاہم حیدر کے مطابق ریسسکیو آپریشن میں دشواری تب پیش آتی ہے جب کوہ پیما سات ہزار سے اوپر کی بلندی ہر لاپتہ ہو جائے جس طرح علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہوا۔

’اس صورت میں ہیلی کاپٹر سات ہزار میٹر تک چلے جاتے ہیں اور اپنے ساتھ ماہر کوہ پیما جو سات ہزار سے اوپر کی چوٹیوں کو سر کرنے کا تجربہ رکھتے ہوں ان کو اسی علاقے میں ڈراپ کیا جاتا ہے جہاں پر کوہ پیما لاپتہ ہوئے ہوں۔

’تاہم سرچ کرنے کے لیے کوہ پیما کو ایکلاماٹائزیشن کی ضرورت ہوگی اور ایکلاماٹائزڈ کوہ پیما ہی سات ہزار سے اوپر کی بلندی پر سرچ آپریشن میں حصہ لے سکتا ہے اور زیادہ تر بیس کیمپ میں پہلے سے موجود کوہ پیما جو ایکلاماٹائزڈ ہوں ان کو سرچ کے لیے لے جایا جاتا ہے۔‘

ورچوئل سرچ آپریشن کیا ہوتا ہے؟

علی حیدر نے بتایا کہ ورچوئل ریسکیو آپریشن میں ماہرین کمرے میں بیٹھ کر کسی جگہ پر ٹیکنالوجی کی مدد سے آپریشن کرتے ہیں۔

’اس میں کوہ پیما کے ٹریکر کا ڈیٹا یعنی ٹریکر آخری مقام پر جب بند ہوا ہے، تو اسی جگہ کا ایک گراف بنایا جاتا ہے اور اس طرح گوگل ارتھ وغیرہ کی مدد سے اسی جگہ کا معائنہ کیا جاتا ہے۔‘

’ایسے ادارے گوگل ارتھ سے بھی مدد لے سکتے ہیں کہ وہ گوگل کو درخواست کریں کہ جس جگہ پر کوہ پیما لاپتہ ہوئے اس کی ہائی کوالٹی لائیو امیجز ان کو فراہم کیے جائیں جو کوہ پیماؤں کی تلاش میں مددگار ثابت ہوں۔‘

انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی کوہ پیما لاپتہ ہو جائے تو زیادہ سے زیادہ تین دن تک اس کو تلاش کیا جاتا ہے جس کے بعد اسے 'PRESUMELY DEAD’   یعنی اس کو ’مردہ تصور‘ کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان