لبنان میں شدید معاشی بحران: کیش کے گلدستے فیشن بن گئے

بیروت میں کاروبار کرنے والی 30 سالہ تمارا حریری بتاتی ہیں کہ انہوں نے ایک ماہ پہلے یہ کاروبار شروع کیا تاکہ لوگ اسے مہنگے پھولوں کے متبادل کے طور پر استعمال کر سکیں۔

لبنان میں معاشی بدحالی کو تین سال ہو رہے ہیں، جس دوران تمارا حريری نے نقد پیسوں کے گلدستے بنا کر آن لائن فروخت کرنا شروع کر دیے ہیں۔

بیروت میں کاروبار کرنے والی 30 سالہ خاتون بتاتی ہیں کہ انہوں نے ایک ماہ پہلے یہ کاروبار شروع کیا تاکہ لوگ اسے مہنگے پھولوں کے متبادل کے طور پر استعمال کر سکیں۔

اس سے ان لوگوں کی بھی مدد ہوگی جو دوستوں اور رشتہ داروں کو ایسا تحفہ دینا چاہتے ہیں جو ان کے کام بھی آئے۔

انہوں نے کہا: ’میرا ماننا ہے کہ یہ لبنان کے لیے بہت اہم ہے۔ شائد یہیں سے یہ سوچ آئی کہ ایک دوسرے کی مدد کے لیے ایسے تحفے دیں، پیسے جو کسی کے کام بھی آئیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’لوگوں کے جذبات کو اکثر ٹھیس بھی پہنچتی ہے اگر آپ انہیں ایسے پیسے دیں، مگر جب اس طرح سے خوبصورت سجا ہوا گلدستہ ہو تو انہیں پسند آتا ہے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ وہ ایک ماہ میں 50 ایسے گلدستے بنا چکی ہیں۔ ایک چھوٹا گلدستہ بنانے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا ہے جبکہ زیادہ پیچیدہ گلدستوں میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ 

حریری بتاتی ہیں کہ وہ لبنانی پاؤنڈ یا امریکی ڈالر کے گلدستے بناتی ہیں۔ مگر جب امریکی ڈالر کا استعمال ہوتا ہے تو زیادہ توجہ سے کام کرنا ہوتا ہے۔

ایسے میں وہ اکثر صارفین کو کہتی ہیں کہ وہ خود ڈالر بھیجوائیں تاکہ تقلی نوٹوں کا خدشہ نہ ہو، اور ان کے ساتھ کام بھی احتیاط سے کیا جاتا ہے کیونکہ ان میں قدر میں لبنانی پاؤنڈ کے مقابلے میں زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان کے بنائے ہوئے گلدستوں کی قیمت کا تعین اس کے سائز اور اس میں استعمال ہونے والی نقد رقم کے حساب سے ہوتا ہے مگر عام طور پر وہ منافعے میں چار سے 10 ڈالر کما لیتی ہیں۔

عالمی بینک نے لبنان میں معاشی بحران کو بدترین معاشی بحران قرار دیا ہے، جس میں ملک کی کرنسی کی قدر 90 فیصد تک گر گئی ہے اور آدھی سے زائد آبادی غربت میں چلی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا