چین آبنائے تائیوان میں فوجی مشقیں کرے گا: سرکاری میڈیا

پیپلز لبریشن آرمی نے یہ نہیں بتایا کہ آیا وہ اتوار کے بعد بھی اپنی فوجی مشقیں جاری رکھے گی یا نہیں۔

تائیوان کا فوجی بحری جہاز 7 اگست 2022 کو یلان کاؤنٹی کے ساحل کے قریب گشت کر رہا ہے (تصویر: اے ایف پی)

چین مبینہ طور پر آبنائے تائیوان کے بیچوں بیچ مشرقی جانب ’باقاعدہ‘ فوجی مشقیں کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

ان مشقوں کی منصوبہ بندی ایک ایسے وقت کی جا رہی ہیں جب امریکی کانگریس کی سپیکر نینسی پیلوسی کے تائی پے کے دورے کے بعد شروع ہونے والی چار روزہ فوجی مشقیں اختتام کو پہنچی ہیں۔

چین نے گذشتہ ہفتے نینسی پیلوسی کے خود ساختہ دورے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پہلی بار تائیوان کے دارالحکومت پر بیلسٹک میزائل داغے تھے جس کے بارے میں بیجنگ نے کہا کہ یہ ’ون چائنہ‘ پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔

چین نے احتجاجاً امریکہ کے ساتھ رابطوں کے کئی سفارتی ذرائع بھی منقطع کر دیے ہیں جن میں موسمیاتی بحران جیسے اہم مسائل پر ہاٹ لائن بھی شامل ہے۔

جمعرات سے جاری چین کی فوجی مشقوں میں تائیوان کے شمال اور جنوب میں سمندروں میں اہداف پر میزائلوں سے حملے کیے گئے ہیں۔

تائیوان نے اس کے جواب میں اپنے بحری اور ہوائی جہازوں کو روانہ کیا اور اپنے میزائلوں کو سٹینڈ بائی پر رکھا ہے۔

تائیوان نے چین کی سرحد عبور کرنے کی صلاحیت کو روکنے کی کوشش کی ہے جسے سمندر کے اوپر ’بلی اور چوہے‘ کے کھیل سے مشابہت دی گئی ہے۔

ان مشقوں کے بعد سنگاپور ایئرلائنز، کورین ایئر، ایشیانا ایئرلائنز اور سنگاپور کی کم لاگت والی ایئرلائن ’سکوٹ‘ سمیت متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز نے جمعرات اور اتوار کی درمیانی شب تائی پے کے لیے پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

پیپلز لبریشن آرمی نے یہ نہیں بتایا کہ آیا وہ اتوار کے بعد بھی اپنی فوجی مشقیں جاری رکھے گی یا نہیں۔

تاہم چین کے سرکاری میڈیا نے اتوار کو ایک مبصر کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ملک کی فوج آبنائے تائیوان کی درمیانی لائن کی مشرقی جانب ’باقاعدہ‘ فوجی مشقیں کرے گی۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دونوں اطراف سے فوجی طیارے اور جنگی بحری جہاز عام طور پر اس بفر لائن کو عبور نہیں کرتے جو دونوں خطوں کو الگ کرتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چین نے تائیوان سے تقریباً 128 کلومیٹر دور پنگتان جزیرے کے ساحل سے جمعرات سے جاری اپنی فوج کی لائیو فائر میزائل مشقوں کے دوران کئی میزائل فائر کیے ہیں۔

چین اور تائیوان کے کئی جنگی جہاز ایک دوسرے سے خطرناک حد تک قریب سے گزرے اور کچھ چینی جہازوں نے مبینہ طور پر بفر لائن کو عبور کیا۔

تائیوان کی وزارت دفاع نے ہفتے کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ اسے یقین ہے کہ چین کے کچھ اقدامات مرکزی جزیرے پر ممکنہ حملے کے منصوبے کا حصہ ہیں۔

خود مختار تائیوان نے کہا کہ اس نے اپنی فوج کو چوکنا کر دیا ہے اور شہری دفاع کی مشقیں کی ہیں جب کہ کسی بھی صورت حال کے ردعمل کے لیے خشکی پر قائم میزائل سسٹم کو فعال کیا ہے۔

چین کی مشقیں اتوار کو ختم ہونے کی توقع کے ساتھ تائیوان نے کہا کہ اسے امید ہے کہ ملک کی فضائی حدود سے پروازیں دوپہر کے قریب بتدریج دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔

تاہم تائیوان کا یہ بھی کہنا ہے کہ براہ راست پروازیں اور بحری جہاز پیر کی صبح تک اس کے مشرقی ساحل، جو مشقوں کی زد میں سے ایک علاقہ ہے، سے ہٹ کر گزریں گے۔

اس معاملے سے واقفیت رکھنے والے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ دونوں فریق چوکس رہتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے تائیوان کی حکومت کے زیر اثر سینٹرل نیوز ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تائیوان کی فوج چین کی مشقوں کے جواب میں منگل اور جمعرات کو جنوبی پنگٹنگ کاؤنٹی میں لائیو فائر آرٹلری سے مشقیں کرے گی۔

ایک نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تائیوان کی مشقوں میں ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں، جنگی گاڑیاں اور سنائپرز شامل ہوں گے۔

تائیوان کے صدر سائی انگ وین نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ ’وہ جمہوری تائیوان کی حمایت کریں اور علاقائی سلامتی کی صورت حال میں کسی بھی طرح کی کشیدگی کو روکے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا