دورہ تائیوان: چین کا امریکہ سے اہم معاملات پر بات چیت روکنے کا اعلان

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی کربی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے فوجی حکام کے درمیان رابطے کے کچھ راستے کھلے ہیں اور امریکہ نے تائیوان کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی پانچ اگست 2022 کو کمبوڈیا میں مشرقی ایشیا سربراہی اجلاس کے موقع پر ایک پریس کانفرنس کے دوران خطاب کر رہے ہیں، جس کے دوران انہوں نے امریکی سپیکر نینسی پلوسی کے دورہ تائیوان کو تنقید کا نشانہ بنایا (فوٹو: اے ایف پی)

امریکی کانگریس کی سپیکر نینسی پیلوسی کے حالیہ دورہِ تائیوان کے بعد چین نے امریکہ کے ساتھ چند عسکری معاملات سمیت کئی شعبوں میں بات چیت کا سلسلہ روکنے کا اعلان کیا ہے۔

25 سال میں تائیوان کا دورہ کرنے والی اعلیٰ امریکی عہدیدار نینسی پیلوسی کے دورے سے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے اور بیجنگ نے اسے ’غیر ذمہ دارانہ‘ اور ایک ’بڑی اشتعال انگیزی‘ قرار دیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ سرحد پار جرائم اور منشیات کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ تبادلے بھی معطل کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ایک وزیر جینگ کوان نے صحافیوں کو بتایا کہ ’نینسی پیلوسی کے تائیوان کی جمہوری حکومت کی حمایت کے مشن‘ نے چین اور امریکہ کے تعلقات کی سیاسی بنیاد پر شدید اثر ڈالا ہے، جس سے چین کی خودمختاری کی ’سنگین خلاف ورزی‘ ہوئی ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے نینسی پیلوسی کے تائیوان کے دورے کے بعد سے چین کے ’اشتعال انگیز‘ اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

جان کربی کربی نے کہا کہ ’دونوں ممالک کے فوجی حکام کے درمیان رابطے کے کچھ راستے کھلے ہیں اور امریکہ نے کمیونسٹ سرزمین اور خود مختار جزیرے (تائیوان) کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی ہے۔‘

تائیوان 1949 سے خودمختار حکومت کر رہا ہے، جب ماؤ زے تنگ کے کمیونسٹوں نے چیانگ کائی شیک کے قوم پرستوں کو خانہ جنگی میں شکست دینے کے بعد بیجنگ میں اقتدار سنبھالا، تو ان قوم پرستوں کو تائیوان کے جزیرے کا رخ کرنا پڑا۔

بیجنگ کا کہنا ہے کہ تائیوان کے ساتھ اس کے تعلقات ایک داخلی معاملہ ہے اور وہ تائیوان کو ضرورت پڑنے پر طاقت کے ذریعے چینی کنٹرول میں لانے کا حق رکھتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق تائیوان نے اپنی فوج کو الرٹ  کر رکھا ہے اور شہری دفاع کی مشقیں کی گئی ہیں، لیکن جمعے کو مجموعی طور پر صورت حال پرسکون رہی۔

تاہم تائیوان کی وزارت دفاع نے ہفتے کے روز کہا کہ رات کو فلیرز فائر کئے گئے تاکہ مضافاتی کنمین جزیروں پر پرواز کرنے والے سات ڈرونز کو خبردار کیا جا سکے۔

وزارت نے کہا کہ امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی کے تائیوان کے دورے کے جواب میں بیجنگ کی جانب سے اس ہفتے بڑے پیمانے پر فوجی مشقوں کا آغاز کیا گیا ہے۔

جاپان کے وزیراعظم فومیو کیشیدا نے بھی تائیوان کے گرد فوجی مشقوں کے دوران چین کی جانب سے بیلسٹک میزائل داغنے کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’ایک سنگین مسئلہ قرار دیا، جو قومی سلامتی اور شہریوں کی سکیورٹی کو متاثر کرتا ہے۔‘ 

وزیراعظم فومیو کیشیدا نے امریکی ایوان کی سپیکر نینسی پیلوسی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا: ’اس بار چین کے اقدامات ہمارے خطے اور عالمی برادری کے امن و استحکام پر سنگین اثرات مرتب کر رہے ہیں۔‘

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جاپان نے جمعے کو کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ پانچ چینی میزائل ان کے خصوصی اقتصادی زون میں گرے ہیں جن میں سے چار کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تائیوان کے مرکزی جزیرے کے اوپر سے گزرے تھے۔

جاپان کا خصوصی اقتصادی زون (ای ای زیڈ) اپنی ساحلی پٹی سے 200 سمندری میل تک پھیلا ہوا ہے، جو اس کی سمندری حدود سے باہر ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا