بعض عناصر سیاسی مفاد کے لیے قوم کو بے وقوف بنا رہے ہیں: سعد رضوی

ٹی ایل پی کے سربراہ نے افسوس کا اظہار کیا کہ ’آدھا ملک طوفانی بارشوں کی زد میں ہے جبکہ اور سیاستدان آپس میں دست و گریباں ہیں اور ’جیل جیل‘ کھیل رہے ہیں۔‘

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی نے کہا ہے کہ ’بعض عناصر محض سیاسی مفادات کے لیے ملک و قوم کو بےوقوف بنا رہے ہیں‘ اور امریکہ سے معافیاں مانگ کر مدد مانگنے والوں کو پاکستانی عوام حالت پر رحم کرنا چاہیے۔

وفاقی دارالحکومت میں اسلام آباد ایکسپریس وے پر فیض آباد انٹرچینج کے مقام پر ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ا نہوں نے کہا کہ ’ٹی ایل پی کے کارکنان و رہنما نظریہ پاکستان کے تحفظ پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور کسی صورت مادر ملت اور قوم کو نقصان پہنچانے اور تقسیم پیدا کرنے والوں کو اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

تحریک لبیک پاکستان 75 ویں یوم آزادی کے حوالے سے ’نظریہ پاکستان مارچ و كانفرنس‘ کا اہتمام کیا تھا۔ 

فیض آباد انٹرچینج پر جلسے سے خطاب سے قبل ٹی ایل پی کے سربراہ نے اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں لیاقت باغ سے شروع ہونے والے جلوس کی قیادت کی۔ 

جلسے اور جلوس میں ٹی ایل پی کے کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا، جنہوں نے بینرز، پلے کارڈز اور ٹی ایل پی کے اور قومی جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ 

لیاقت باغ میں ٹی ایل پی کے سربراہ مولانا حافظ سعد حسین رضوی کی آمد پر ان پر گل پاشی کی گئی جبکہ شرکا نے نعرہ بازی بھی کی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فیض آباد کی طرف جانے والے جلوس میں سینکڑوں گاڑیاں اور پیدل افراد شامل تھے۔ 

جلسے سے خطاب میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد حسین رضوی نے مزید کہا کہ ’پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا، اور اسی نظریے پر چلتے ہوئے ہی پاکستان کی ترقی و خو شحالی اور بقا ممکن ہے۔‘

ٹی ایل پی کے سربراہ نے کشمیر عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’کشمیریوں کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ جو جبر یا دھونس کی بنا پر قابل قبول نہیں ہو گا، اور ایسا کرنے سے پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔‘

ٹی ایل پی کے سربراہ نے افسوس کا اظہار کیا کہ ’آدھا ملک طوفانی بارشوں کی زد میں ہے جبکہ اور سیاستدان آپس میں دست و گریباں ہیں اور ’جیل جیل‘ کھیل رہے ہیں۔‘

جلسے سے صاحبزادہ حافظ انس حسین رضوی، قاضی محمود اعوان، علامہ ڈاکٹر شفیق آمینی، علامہ غلام عباس فیضی، اور علامہ فاروق الحسن قادری نے بھی خطاب کیا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست