انڈیا: کھانے کی شکایت کرنا پولیس اہلکار کو مہنگا پڑ گیا

منوج کمار نامی 26 سالہ افسر نے ویڈیو میں روتے ہوئے کہا: ’کوئی بھی ہماری بات نہیں سنتا۔ مجھے صبح سے بھوک لگی ہے، میں کس سے بات کروں؟‘

14 جون 2022 کو خون عطیہ کرنے کے عالمی دن کے موقعے پر حیدرآباد پولیس کا ایک اہلکار خون کا عطیہ دے رہا ہے (فوٹو اے ایف پی)

انڈیا کی ریاست اترپردیش کے ایک پولیس افسر کو کام کے طویل اوقات اور بیرکوں میں ملنے والے’غیر معیاری‘ کھانے کے شکایت کے بعد چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔

منوج کمار نامی 26 سالہ افسر نے دو منٹ طویل ویڈیو میں کھانے کے معیار کے معاملے پر بات کی جس میں وہ روتے ہوئے نظر آئے۔

انہوں نے ویڈیو میں روتے ہوئے کہا: ’کوئی بھی ہماری بات نہیں سنتا۔ مجھے صبح سے بھوک لگی ہے، میں کس سے بات کروں؟‘

منوج کمار کو اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے وعدے کے متعلق بھی بات کرتے ہوئے سنا گیا جس میں انہوں نے پولیس کانسٹیبلوں کے لیے غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی کی غرض سے الگ  1,875 روپے (20 پاؤنڈ) دینے کا کہا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس ویڈیو کو ہزاروں افراد نے دیکھا اور ٹوئٹر پر لوگوں کی جانب سے رد عمل کا اظہار کیا گیا۔ بہت سے لوگوں نے پولیس فورسز کی ناقص غذا پر ریاستی حکومت سے سوال کیا۔

منوج کمار نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ انہیں’طویل چھٹی‘ پر بھیجا گیا ہے اور ان کی ملازمت خطرے میں ہے۔

انہوں نے کہا:’میں اپنی بات پر قائم ہوں۔ میرے خلاف کوئی تحقیقات زیر التوا نہیں ہیں۔‘

انہوں نے پہلے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ وہ غذائیت سے بھرپور غذا کے بغیر طویل وقت تک کام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’سینیئر افسران... مجھے بدنام کرکے اور یہ بیانیہ تخلیق کرکے کہ میرا ذہنی توازن درست نہیں، اس معاملے پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا:’ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مجھے تکلیف پہنچائی گئی اور ایک کمرے میں بند کر دیا گیا۔ میرا فون چھین لیا گیا اور پورا ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے مجھے آگرہ کے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ ہاسپٹل لے جانے کی کوشش کی۔‘

دی انڈپینڈنٹ نے تبصرے کے لیے فیروز آباد پولیس سے رابطہ کیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا