فحش فلمیں ماحولیات پر کیسے اثر انداز ہوتی ہیں؟

ایک نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق آن لائن فحش (پورن) فلمیں دیکھنے سے اتنی ہی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے، جتنی پورا بیلجیئم پیدا کرتا ہے۔

محققین کو پتہ چلا ہے کہ ویڈیوز کی آن لائن سٹریمنگ سے مجموعی طور پر ہر سال 30 کروڑ ٹن کاربن پیدا ہوتی ہے جس میں سے ایک تہائی فحش مواد سے پیدا ہوتی ہے۔ (بشکریہ پکسا بے)

فرانسیسی تھنک ٹینک ’دی شفٹ پروجیکٹ ‘ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق آن لائن فحش (پورن) فلمیں دیکھنے سے اتنی ہی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے، جتنی پورا بیلجیئم پیدا کرتا ہے۔

محققین کو پتہ چلا ہے کہ ویڈیوز کی آن لائن سٹریمنگ سے مجموعی طور پر ہر سال 30 کروڑ ٹن کاربن پیدا ہوتی ہے جس میں سے ایک تہائی فحش مواد سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہی انجینیئر میکسم ایفوئی ہیس نے کی جو کمپیوٹر ماڈلنگ کے ماہر ہیں، جس کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی طرف سے توانائی کے استعمال میں سالانہ نو فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں 60 فیصد ڈیجیٹل ڈیٹا آن لائن ویڈیوز پر مشتمل ہے۔

محققین کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر کاربن کا اخراج کم کرنے کی فوری ضرورت کے پیش نظر ڈیجیٹل شعبوں کی زیادہ سختی سے جانچ پڑتال کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

تحقیق کرنے والی ٹیم کے مطابق: ’ماحول پر براہ راست یا بالواسطہ اثرات (پلٹ کر آنے والے اثرات) ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سے جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں قسم کے اثرات ناقابل برداشت ہیں اور ان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔‘

مجموعی طور پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کا حصہ چار فیصد ہے جو شہری ہوا بازی سے زیادہ ہے۔ اعلیٰ معیار کی ویڈیوز کی تیاری کی وجہ سے گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب سے 2025 تک دگنا ہو جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برطانیہ میں یونیورسٹی آف برسٹل کے کرس پریسٹ نے جریدے ’نیو سائنٹسٹ ‘ کو بتایا ہے کہ اس صورت حال نے ایک بار پھر اس ضرورت کو نمایاں کردیا ہے کہ ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے والے ڈیزائنر اپنی خدمات کے مجموعی اثرات کا احتیاط سے جائزہ لیں۔

کرس پریسٹ کہتے ہیں کہ انفرادی سطح پر ڈیجیٹل آلات کو اَپ گریڈ نہ کرنا، کم آلات رکھنا اور ہر جگہ تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ کا مطالبہ نہ کرنا شاید وہ سب سے اہم اقدامات ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مصنفین نے ڈیجیٹل کمپنیوں سسکو اور سینڈ وائن کی 2018  کی رپورٹس دیکھ کر عالمی سطح پر ویڈیو ٹریفک پر کام کیا، جس کے بعد انہوں نے جائزہ لیا کہ اس ٹریفک کے لیے کتنی بجلی کی ضرورت ہے ؟

محققین نے سفارش کی ہے کہ ویڈیو کے خود بخود چل پڑنے اور اعلیٰ معیار کی ویڈیو کو بلا ضرورت نشر ہونے سے روکنے کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں۔ محققین نے مثال دی ہے کہ کم معیار کی ویڈیو کافی ہونے کی صورت میں  ’8K‘ کے اعلیٰ  ترین معیار کی ویڈیو کے لیے ضروری آلات لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔

محققین نے مزید لکھا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اور زمین کے تحفظ کے اعتبار سے فحش مواد، فاصلاتی طریقہ علاج، نیٹ فلکس یا ای میلز کا حامی یا مخالف ہونے کا کوئی سوال نہیں ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ ایک قیمتی سمجھنے جانے والی سہولت کو بچایا جائے جو ایک نسبتاً کم ضروری سہولت کے حد سے زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے ناکارہ ہو جائے گی۔ 

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات