انگلینڈ پہلی مرتبہ ایک روزہ کرکٹ کا عالمی چیمپیئن

قسمت کی دیوی نیوزی لینڈ پر آج مہربان نہیں تھی اور آخری گیند پر گپٹل رن آوٹ ہوگئے۔ کریز سے چند گز کی دوری انہیں کافی مہنگی پڑی۔

انگلش ٹیم پہلی مرتبہ ورلڈ کپ ٹرافی اٹھاتے ہوئے (اے ایف پی)

انگلینڈ نے لارڈز میں ایک دلچسپ مقابلے میں نیوزی لینڈ کو آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میں سپر اوور میں شکست دے دی۔

لارڈز میں کھیلے جانے والی کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے فائنل میں انگلینڈ نے سپر اوور میں نیوزی لینڈ کو جیتنے کے لیے 16 رنز کا ہدف دیا تھا لیکن ابتدائی چار گیندوں پر 12 رنز بنانے کے باوجود وہ آخری دو گیندوں پر تین رنز بنانے میں ناکام رہا۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے جمی نیشم اور مارٹن گپٹل کو سپر اوور کھیلنے کے لیے بھیجا گیا اور جمی نیشم نے ابتدائی پانچ گیندیں کھیلتے ہوئے 14 رنز بنائے لیکن مارٹن گپٹل آخری گیند پر دو رنز بنانے میں ناکام رہے اور رن آؤٹ ہو گئے۔

انگلینڈ نے نوجوان بولر جوفرا آرچر کو سپر اوور کے لیے منتخب کیا تھا جن کا آغاز تو زیادہ بہتر نہ تھا لیکن وہ پھر بھی انگلینڈ کو ایک رن سے فتح دلوانے میں کامیاب رہے۔ ویسے تو میچ ایک با پھر برابر ہو گیا تھا لیکن آئی سی سی کے قوانین کے مطابق میچ میں زیادہ باؤنڈریز سکور کرنے پر انگلینڈ کو میچ کا فاتح قرار دیا گیا۔

اس طرح نیوزی لینڈ ایک ہی دن میں دو مرتبہ عالمی چیمپیئن بننے سے ایک قدم دور رہا۔

انگلینڈ کی جیت میں جاز بٹلر اور بین سٹوکس نے نمایاں کردار ادا کیا۔ دونوں بلے بازوں نے نہ صرف پہلے پانچویں وکٹ کی شراکت میں شاندار 110 رنز جوڑے بلکہ بعد میں انہی دونوں بلے بازوں نے سپر اوور میں 15 رنز بنا کر اپنی ٹیم کو ایک وننگ ٹوٹل دیا۔ میچ میں شاندار کارکردگی پر بین سٹوکس کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

سٹوکس اپنی معصومیت کا اظہار کرتے ہوئے جب فیلڈر کی بال ان کو لگتی ہوئی چوکا ہوگئی۔ (اے ایف پی)


دوسری جانب نیوزی لینڈ کے بولرز نے بھی ایک بار پھر عمدہ کھیل پیش کیا اور ایک بظاہر چھوٹے ٹارگٹ پر بھی انگلینڈ جیسی بیٹنگ لائن اپ کو باندھے رکھا۔

نیوزی لینڈ کی بولنگ کے آگے بھارت کی طرح انگش ٹاپ آرڈر بھی بالکل ناکام رہا اور ٹونامنٹ میں بڑے بڑے سکور کرنے والے جیسن رائے، جونی بیرسٹو اور جوو روٹ جیسے بلے باز بڑی اننگز نہ کھیل سکے۔

ایسا ہی کچھ نیوزی لینڈ کی جانب سے بھی دیکھا گیا اور پورے ٹورنامنٹ کے دوران اپنی ٹیم کو تن تنہا ہر مشکل سے نکال کر فائنل تک پہنچانے والے کین ولیم سن فائنل میں بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے تاہم ورلڈ کپ کے دوران بہترین کاکردگی پر انھیں ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

خیال رہے کہ میزبان انگلینڈ نے جو ٹورنامنٹ کے آغاز سے فیورٹ ٹیم مانی جا رہی تھی چوتھی مرتبہ جبکہ کیوی ٹیم دوسری مرتبہ میگا ٹورنامنٹ کے فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ انگلش ٹیم اس سے قبل 1979، 1987 اور 1992 میں منعقد ورلڈ کپ ٹورنامنٹس کا فائنل کھیل چکی ہے تاہم کبھی بھی یہ تاج اپنے سر پر نہیں رکھ سکی تھی۔ کیوی اس سے قبل 2015 میں پہلی بار ورلڈ کپ فائنل کھیل چکی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لندن میں مسلسل بارش کی وجہ سے میچ تاخیر کا شکار ہوا، البتہ اس میں اوورز کی کٹوتی نہیں کی گئی، جبکہ میچ کے لیے ریزرو ڈے بھی رکھا گیا تھا۔

اگرچہ ٹوئٹر پر ٹرینڈ دلچسپی معلوم کرنے کا باوثوق ذریعہ نہیں لیکن پاکستان میں کرکٹ فائنل کی بجائے میچ کے دوران ویمبلڈن فائنل ٹرینڈ کر رہا تھا۔ سینیئر صحافی خرم حسین نے ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ پاکستان پہلے ہی ورلڈ کپ جیت چکا ہے کیونکہ اس نے ٹورنامنٹ میں دونوں ٹیموں کو شکست دی تھی۔  

 

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ