فوج پر تنقید اس کی بہتری کے لیے کی: عمران خان

عمران خان نے پشاور میں جلسے سے خطاب میں کہا کہ انہوں نے فیصل آباد میں جو کہا اس کا مقصد آرمی چیف کے اہم عہدے پر میرٹ کے مطابق تعیناتی پر زور دینا تھا۔

عمران خان 13 اپریل، 2022 کو پشاور میں پی ٹی آئی کے ایک جلسے سے خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے منگل کو پشاور میں ایک جلسے سے خطاب میں کہا کہ انہوں نے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق فیصل آباد میں جو کہا اس کا مقصد اس اہم عہدے پر میرٹ کے مطابق تعیناتی پر زور دینا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی کسی ادارے کا خیر خواہ ہو گا تو وہ اس (ادارے) کے سربراہ کی تعیناتی کے لیے ہمیشہ میرٹ پر زور دے گا۔ ’ادارے کا خیر خواہ چاہے گا کہ ادارہ مضبوط ہو۔‘

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ ملک کے ساتھ مخلص ہیں، جب بھی فوج پر تنقید کرتے ہیں تو اس کی بہتری کے لیے کرتے ہیں۔

’ملک بھی میرا، فوج بھی میری اور عدلیہ بھی میری، یہ ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک مضبوط ہو گا اور ہم نے ان اداروں اور ملک کو مضبوط بنانا ہے۔‘

عمران خان نے کہا کہ وہ عدلیہ اور خصوصاً ماتحت عدلیہ کی عزت کرتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت دی کہ جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری سے متعلق جو زبان انہوں نے استعمال کی تھی اس کی وجہ شہباز گل پر ہونے والا تشدد تھا۔

اس موقعے پر عمران خان نے اپنی ایک ویڈیو کلپ بھی چلائی جس میں وہ کہتے دکھائی دیے: ’پاکستان کے لیے عمران خان سے زیادہ اہم فوج ہے۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے آج کے جلسے میں پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کے رہنماؤں کی تقریروں کی ویڈیوز بھی چلائی گئیں، جن میں وہ پاکستان کے ریاستی اداروں پر تنقید کر رہے تھے۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ حکومتی سیاسی جماعتوں پر واضح ہے کہ وہ انتخابات میں عمران خان سے کامیابی حاصل نہیں کر سکیں گے، اور اسی لیے وہ انہیں (عمران خان) کو نااہل کروانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مخالف سیاسی جماعتوں کے پروپیگنڈا سیل ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں تاکہ پاکستانی فوج اور عدلیہ اور دوسرے ادارے ان کے (عمران خان) اور تحریک انصاف کے خلاف ہو جائیں۔

عمران خان نے کہا کہ فیصل آباد کے جلسے میں انہوں نے زور دے کر کہا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کا آرمی چیف کی تعیناتی میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔

اپنی بات کے حق میں دلیل دیتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں رہنما غیر آئینی طریقے سے بیرونی مدد سے تحریک انصاف کی حکومت ہٹا کر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

'پاکستان کے لوگ کیسے ایسے لوگوں کو حق دے سکتے ہیں کہ آرمی چیف کی تعیناتی کریں۔ نواز شریف اور آصف زرداری کرپٹ ہیں اور کرپشن کا پیسہ ملک سے باہر لے کر گئے ہیں۔'

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت (پی ٹی آئی) کو فوج اور دوسرے اداروں سے لڑا کر دیوار سے لگانا چاہتی ہیں تاکہ انہیں انتخابات میں مقابلہ نہ کرنا پڑے۔

عمران خان نے کہا کہ ان کے مخالفین پر پوری طرح روشن ہے کہ انتخابات ہونے کی صورت میں تحریک انصاف سے مقابلہ نہیں کر سکیں گے، اور اسے لیے وہ انہیں (عمران خان) نا اہل کروانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کو کبھی قبول نہیں کریں گے اور نہ ان کی غلامی قبول کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی پاکستانی قوم کو کال دیں گے اور اس کے لیے پاکستانیوں کو تیار رہنا چاہیے۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے جلسے کے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کپتان ہیں اور آپ (پاکستانی) ان کی ٹیم ہیں۔

’یہ ورلڈ کپ ہم نے پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے جیتنا ہے کیونکہ غلام قومیں کبھی بھی پرواز نہیں کر سکتیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت امریکہ سے امن کے سلسلے میں دوستی چاہتی ہے، نہ کہ جنگ میں، اور وہ کبھی پاکستان کی سرزمین کو کسی دوسرے کے خلاف جنگ میں استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

عمران خان نے کہا کہ امن کی خاطر وہ انڈیا سے بھی دوستی کر سکتے ہیں تاہم اسے کشمیریوں کو ان کے حقوق دینا ہوں گے۔

اس سے قبل عمران خان نے آج ایک ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) ان کے خلاف کڑا پروپیگنڈا کر رہا ہے جس کا باضابطہ جواب وہ آج شام پشاور کے جلسے میں دیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ ’مجھے بدنام کرنے کے لیے میرے الفاظ کو جان بوجھ کر توڑمروڑ‘ کر پیش کیا جا رہا ہے جس کا مقصد انہیں بدنام کرنا ہے۔

عمران خان نے دو روز قبل صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں عوامی اجتماع سے خطاب میں حکومتی جماعتوں (پی ڈی ایم اور اتحادیوں) پر اپنی مرضی کا آرمی چیف تعینات کرنے کی کوشش کا الزام لگایا تھا۔

اس سلسلے میں انہوں نے مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری کے نام لیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لوگ نہیں چاہتے کہ پاکستان آرمی کا نیا سربراہ ان کی کرپشن کا حساب مانگے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کے اس بیان پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی حتی کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے، نے کہا تھا کہ عمران خان اپنے بیان کی وضاحت خود کریں گے۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس ہی آر) کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستانی فوج میں فیصل آباد میں ایک سیاسی جلسے کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے پاک فوج کی سینیئر قیادت کے بارے میں توہین آمیز اور غیر ضروری بیان پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ایک ایسے وقت میں پاکستان فوج کی اعلیٰ قیادت کو بدنام اور کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے جب ادارہ پاکستان کے عوام کے تحفظ اور سلامتی کے لیے روزانہ  قربانیاں دے رہا ہے۔

عمران خان کی فیصل آباد میں تقریر کے اگلے ہی روز پاکستان تحریک انصاف نے ان کے بیان سے متعلق وضاحت پیش کی تھی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں پی ٹی آئی کے رہنبما اور سابق وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم نے فیصل آباد کے جلسے سے خطاب میں فوج کی اعلیٰ قیادت پر سوال نہیں اٹھایا، بلکہ ان سیاست دانوں کی اہلیت پر سوال اٹھایا ہے جو فوج کے حوالے سے اہم فیصلے کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فوج کی قیادت کی حب الوطنی پر کوئی شک و شبہ نہیں ہے کیونکہ وہ پاکستان کی مٹی سے جڑے ہیں۔

انہوں نے اخبارات میں چھپنے والی ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف لندن جا کر نواز شریف سے اگلے آرمی چیف کے نام کی منظوری لیں گے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا، ’پاکستان فوج کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوگی کہ ایک مفرور شخص پاکستان کے آئندہ آرمی چیف کے نام کی منظوری دے گا۔ اس سے عزت میں اضافہ ہوگا یا کمی؟‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست