’نرم دل ملکہ‘ کی موت پر عالمی رہنماؤں کا اظہار تعزیت

برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم جمعرات کو 96 برس کی عمر میں وفات پا گئیں جس پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے سربراہان کی جانب سے تعزیتی  پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔

برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم جمعرات کو 96 برس کی عمر میں وفات پا گئیں جس پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے سربراہان کی جانب سے تعزیتی  پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم لِز ٹرس نے ملکہ کو ’برطانیہ کی روح‘ قرار دیا۔ لندن میں سرکاری رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ ’ ملکہ کی وفات قوم اور دنیا کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ ملکہ الزبتھ دوم وہ ستون تھیں جس پر جدید برطانیہ تعمیر ہوا۔ ہمارا ملک انہی دور میں پھلا پھولا۔ برطانیہ آج عظیم ملک انہی کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے زرا بعد تخت سنبھالا۔

’انہوں نے دولت مشترکہ کی ترقی کے لیے جد و جہد کی۔ سات ملکوں کے چھوٹے سے گروہ سے لے کر 56 ممالک کا خاندان بنایا جو دنیا کے ہر براعظم میں پھیلا ہوا ہے۔ آج ہم جدید پنپتی اور متحرک قوم ہیں۔ ہر مشکل گھڑی میں ملکہ الزبتھ دوم نے ہمیں استحکام اور قوت دی جس کی ہمیں ضرورت تھی۔ وہ برطانیہ کی روح تھیں۔‘

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ٹویٹ لکھا کہ ’ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال پر گہرا دکھ ہوا ہے۔ پاکستان، برطانیہ اور دولت مشترکہ کی دیگر اقوام کے ہمراہ، ان کی موت کا سوگ منانے میں شریک ہے۔ شاہی خاندان، برطانیہ کی حکومت اور عوام کو میری طرف سے دلی تعزیت۔‘

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریش نے کہا: ’ملکہ الزبتھ کو ان کے لطافت، وقار اور لگن کے باعث دنیا بھر میں سراہا جاتا تھا۔ ان کی موجودگی تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کی دہائیوں کے دوران حوصلہ بخش تھی۔‘

امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور خاتون اول جِل بائیڈن نے اپنے بیان میں کہا کہ ’لگاتار بدلتی دنیا میں ان کا مضبوط وجود تھا اور برطانوی شہریوں کی نسلوں کے لیے سکون اور فخر کا ذریعہ تھیں، بہت سے ان لوگوں کے لیے بھی جنہوں نے اپنے ملک کو ان کے بغیر کبھی نہیں جانا۔‘

امریکہ کے سابق صدور بل کلنٹن، براک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ملکہ برطانیہ کی وفات پر برطانوی قوم کے ساتھ اظہار افسوس کیا۔

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ’کینیڈا کے شہریوں کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ کے لیے ہماری تاریخ کا اہم حصہ رہیں گی۔‘

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’ملکہ الزبتھ دوم کو ہمارے وقتوں کی قدآور شخصیت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔‘

دولت مشترکہ کے تمام رکن ممالک کے عوام اور رہنماؤں کی جانب سے ملکہ برطانیہ کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

نیدرلینڈز، ناروے اور سویڈن کے شاہی خاندانوں نے تعزیتی پیغامات بھیجے اور یورپی لیڈروں نے بھی ملکہ الزبتھ دوم کے دور کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکراں نے کہا کہ ’ملکہ الزبتھ دوم نے 70 سال تک برطانوی قوم کے تسلسل اور اتحاد کو یکجا کیے رکھا۔ مجھے وہ فرانس کی دوست کے طور پر یاد ہیں، ایک نرم دل ملکہ، جنہوں نے اپنی صدی پر ہمیشہ رہنے والا نقش چھوڑا۔‘

افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے سربراہوں اور شاہی خاندانوں نے بھی برطانیہ کے غم میں شریک ہونے کا اظہار کیا۔ 

متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن راشد آل مکتوم نے کہا کہ ’ہم ملکہ الزبتھ کی موت پر دنیا کے غم میں شریک ہیں۔‘ وہ ایک ’عالمی علامت تھیں جنہوں نے اپنی قوم اور لوگوں بہترین خصوصیات کی ترجمانی کی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا