پہلے مہنگا ڈالر اور اب سیلاب: پاکستان کی آٹو انڈسٹری خطرے میں

ابتدائی تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں اگست میں کاروں کی فروخت مزید کم ہو کر 9600 یونٹس تک پہنچ گئی جو سالانہ بنیادوں پر 54 فیصد کی بڑی کمی ہے۔

 12 اکتوبر، 2006 کی اس تصویر میں کراچی کے ایک آٹو ڈیلر سینٹر میں کھڑی گاڑیاں دیکھی جاسکتی ہیں ( اے ایف پی)

پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب کے بعد پہلے سے بلند شرح سود اور زیادہ قیمتوں کے باعث فروخت میں کمی کا سامنا کرتی گاڑیوں کی صنعت کو مزید نقصان کا اندیشہ ہے۔

تجزیہ کاروں اور پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والوں کے مطابق پہلے سے ہی زیادہ شرح سود اور بلند قیمتوں کی وجہ سے فروخت میں کمی سے دوچار پاکستان کے کار ساز اب تباہ کن سیلاب کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں جس میں ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوب چکا ہے اور بہت بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچہ اور فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ جولائی میں کاروں کی فروخت 49.8 فیصد کم ہوئی اورمختلف طاقت کے انجن والی کی فروخت 10377 یونٹ رہ گئی۔

ٹو اور تھری ویلرزکی فروخت سالانہ بنیادوں پر 33.8 فیصد کم ہوکر 96162 یونٹس رہ گئی۔

ابتدائی تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں اگست میں کاروں کی فروخت مزید کم ہو کر 9600 یونٹس تک پہنچ گئی جو سالانہ بنیادوں پر 54 فیصد کی بڑی کمی ہے۔

کراچی میں قائم عارف حبیب لیمیٹڈ بروکر فرم میں شعبہ تحقیق کے سربراہ طاہر عباس نے عرب نیوز کو بتایا کہ’ اب سیلاب نے صورت حال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے کیوں کہ زراعت کے شعبے کا آٹو سیلز میں کافی حصہ ہے، جو اب طلب کو متاثر کرے گا۔‘

پاکستانی آٹو مینوفیکچررز اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر گاڑیوں کی فروخت میں یہ کمی تاریخی بلند قیمتوں، سود کی بلند شرح اور درآمدات پر عائد پابندیوں کی وجہ سے طلب میں کمی کے بعد ریکارڈ کی گئی۔

طاہر عباس کے مطابق: ’ کرنسی کی قدر میں کمی کے دوران قیمتوں میں زبردست اضافہ، تقریباً 22 فیصد تک لیزنگ ریٹ، زیادہ ٹیکس، اور مجموعی معاشی سست روی آٹو سیلز میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں بعض آٹو اسمبلرز جن میں ٹویوٹا گاڑیاں بنانے والے انڈس موٹرز اور پاکستان سوزوکی موٹرز شامل ہیں، نے مرکزی بینک کی جانب سے الگ الگ حصوں کی شکل میں گاڑیوں (کمپلیٹلی ناکڈ ڈاؤن یونٹس) اور پرزہ جات کی درآمد کے لیے پیشگی اجازت کی شرط کے بعد ملک میں اپنی پیداوار معطل کر دی تھی۔

پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے ڈائریکٹر جنرل عبدالوحید خان کا کہنا تھا کہ’کمپنیاں غیر پیداواری دنوں (نان پروڈکشن ڈیز) پر ہیں کیوں کہ سٹیٹ بینک درآمدات کے لیے لیٹر آف کریڈٹ کی منظوری دیتا ہے اور چوں کہ کچھ درآمدات روک دی گئی ہیں جس سے پیدوار میں کمی آئی ہے۔‘

تاہم گاڑیوں کے پرزوں کے فراہم کنندگان کو امید ہے کہ مشکل وقت ختم ہو جائے گا اور اکتوبر سے پیداوار شروع ہو جائے گی۔ شرط یہ ہے سیلاب کی صورت حال میں بہتری آ جائے۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز کے چیئرمین عبدالرزاق گوہر نے بتایا: ’ہمیں امید ہے کہ ملک کے فصلوں کی کاشت والے علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے ستمبر کے مہینے میں صنعت کو بدستور مندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم ستمبر کے بعد فروخت کا شعبہ 50 فیصد والیوم پر کام کر سکے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’مجھے خدشہ ہے کہ اگر اگلے چار پانچ دنوں میں سیلاب کی شدت میں کمی نہ آئی تو ہم زیادہ تر علاقوں میں گندم کی کاشت کے سیزن سے محروم ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں ٹریکٹروں اور دیگر مشینری کی فروخت کم ہو جائے گی۔‘

ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹرسائیکل اسمبلرز (اے پی ایم اے) کے چیئرمین صابر شیخ نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے بعد جاپانی موٹر سائیکلوں کی فروخت میں 25 سے 30 فیصد کمی آئی ہے۔ چینی اسمبل شدہ موٹر سائیکلوں کی فروخت میں تقریباً 60 فیصد کمی ہوئی۔

تجزیہ کاروں کی توقع ہے گاڑیوں کے حصوں کی درآمد محدود کر دیے جانے کے بعد کہ کار اسمبلرز حکومتی ہدایت کے مطابق اپنی 50 سے 60 فیصد پیداواری صلاحیت برقرار رکھیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت