ملکہ الزبتھ کے بارے میں نو دلچسپ حقائق جو شاید آپ نہیں جانتے

شاہی خاندان کے بارے میں ہمیشہ رازداری رکھی جاتی ہے۔ ملکہ الزبتھ نے بھی کم ہی انٹرویو دیے جس کی وجہ سے عوام ان کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتی تھی۔

ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں نو ستمبر، 2022 کو برطانوی سفیر کی رہائش گاہ پر ملکہ الزبتھ کا پورٹریٹ اور تعزیتی کتاب رکھی ہوئی ہے (اے ایف پی)

برطانیہ کی 96 سالہ ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد ان کے سب سے بڑے بیٹے، جنہیں پہلے پرنس آف ویلز کے طور پر جانا تھا، کنگ چارلز تھری بن گئے ہیں۔

آٹھ ستمبر کو بکنگھم پیلس نے ایک بیان میں کہا: ’ملکہ آج سہ پہر بالمورل میں سکون کے ساتھ انتقال کر گئیں۔ کنگ اور نئی ملکہ آج شام بالمورل میں ہی قیام کریں گے اور کل لندن واپس جائیں گے۔‘

ہوسکتا ہے کہ وہ ہماری سب سے طویل حکمرانی کرنے والی ملکہ رہی ہوں لیکن یہ دیکھتے ہوئے کہ شاہی خاندان کے بارے میں رازداری رکھی جاتی ہے، برطانوی عوام کو ملکہ الزبتھ دوم کے بارے میں بہت کچھ معلوم نہیں ہوگا۔

ملکہ کبھی کبھار ہی انٹرویو دیتی دیا کرتی تھیں جس سے لوگوں کو ان کی زندگی کے بارے میں تھوڑا بہت علم تھا، سوائے اس کے کہ انہیں کورگی نسل کے کتوں کا شوق تھا اور وہ مخصوص طرز کے ہیٹ کلیکشن پر فخر کرتی تھیں۔

ان کی حیرت انگیز تعلیمی تاریخ سے لے کر انہیں کتنی بار سکرین پر دکھایا گیا، ملکہ کے بارے میں سب سے دلچسپ حقائق یہ ہیں۔

تقریباً 100 فلموں اور ٹی وی شوز میں ان کا کردار نظر آیا

ایک اندازے کے مطابق تقریباً ایک سو فلموں اور ٹیلی ویژن شوز میں اداکاروں نے ان کا کردار ادا کیا۔

فلموں سے متعلق ویب سائٹ انٹرنیٹ مووی ڈیٹا بیس (آئی ایم ڈی بی) کے مطابق اداکاروں نے ایک اندازے کے مطابق سو بار ان کا کردار ادا کیا جس میں ادکارہ کلیئرفوئے کے ادا کردہ کردار سمیت ممتاز کردار شامل ہیں۔

کلیئرفوئے نے سٹریمنگ سروس کی فلم ’دا کراؤن اینڈ ہیلن میرن‘ میں ملکہ کا کردار ادا کیا۔

ادکارہ نے ’دا کوئین‘ میں الزبتھ دوم کا کردار ادا کر کے آسکر ایوارڈ جیتا۔

سونے سے قبل شیمپین کا گلاس

ملکہ ہر رات سونے سے پہلے شیمپین کا ایک گلاس پیتی تھیں۔

بعض لوگ دن میں ایک سیب کھانے کا عہد کرتے ہیں لیکن ملکہ کے روزمرہ کے معمولات عظمت کے بلند احساس کے ساتھ ختم ہوتے تھے۔

ملکہ کی کزن مارگریٹ روڈس کے مطابق ملکہ دوپہر کے کھانے سے پہلے جِن اور ڈوبونیٹ کا ایک پیگ لیتی تھیں۔ کھانے کے ساتھ وائن پیا کرتی تھیں جس کے بعد ڈرائی مارٹینی پیتیں اور سونے سے پہلے شیمپئن پیتی تھیں۔

اگر ملکہ روزانہ ایسا ہی کرتی تھیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ہر روز الکوحل کے چھ یونٹ استعمال کرتی تھیں۔

اس طرح حکومتی معیارات کے تحت انہیں زیادہ شراب پینے والا قرار دیا جاتا۔

ان کے پاس پاسپورٹ نہیں تھا

اگرچہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ پاسپورٹ کے بغیر سفر نہیں کر سکیں گے لیکن ملکہ کا معاملہ الگ تھا۔

وہ پاسپورٹ کے بغیر باآسانی غیر ملکی سفر کر سکتی تھیں۔ ہم باقی سب لوگوں کو ملک سے جانے کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔

ان کی موت سے پہلے شاہی خاندان کی ویب سائٹ پر درج تھا کہ ’برطانوی پاسپورٹ ملکہ کے نام پر جاری کیا جاتا ہے، اس لیے یہ غیر ضروری ہے کہ ان کے پاس پاسپورٹ ہو۔‘

ویب سائٹ کا مزید کہنا ہے کہ شاہی خاندان کے دوسرے لوگ جن میں ڈیوک آف ایڈن برگ اور پرنس آف ویلز بھی شامل ہیں، ان کے پاس پاسپورٹ ہونا ضروری ہے۔

ان کے دو یوم پیدائش تھے

ملکہ 21 اپریل، 1926 کو پیدا ہوئیں تاہم قوم نے ان کی ’سرکاری‘ سالگرہ جون میں سالانہ ٹروپنگ دی کلر پریڈ میں منائی جو 1748 سے روایتی جشن ہے۔

ملکہ نے 13 برطانوی وزرائے اعظم کو اقتدار میں دیکھا

انہوں نے 13 مختلف برطانوی وزرائے اعظم کو اقتدار میں آتے دیکھا۔

سر ونسٹن چرچل سے لے کر ٹریزا مے تک ملکہ  نے  سب دیکھا۔

ملکہ آرسنل فٹ بال کلب کی فین تھیں

2016  میں دارالعوام میں تقریر کے دوران ملکہ کو شمالی لندن کی فٹ بال ٹیم آرسنل کی پرستار کے طور پر کسی اور نے نہیں بلکہ جیریمی کوربن نے متعارف کرویا جو خود بھی اس کلب کے شوقین ہیں۔

لیبر پارٹی کے رہنما کوربن نے انکشاف کیا کہ ’اب ہم جانتے ہیں کہ ملکہ سیاست سے بالکل بالاتر ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ انہیں انہیں فٹ بال کا شوق بھی نہ ہو لیکن بہت سے مقامی لوگوں کو خاصی رازداری کے ساتھ معلوم ہے کہ دراصل وہ نجی زندگی میں آرسنل کی فین ہیں۔‘

کلب کے سابق مڈفیلڈر سیس فابرگیس نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ملکہ نے 2007 میں بکنگھم محل میں دیے گئے استقبالیے میں انہیں بتایا کہ وہ ٹیم کی ’فین‘ تھیں۔

ملکہ روانی سے فرانسیسی زبان بولتی تھیں

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملکہ تاریخ میں سب سے زیادہ سفر کرنے والے برطانوی بادشاہوں میں سے ایک تھیں۔

انہوں نے فرانس کا دورہ کرتے وقت فرانسیسی زبان میں متعدد سرکاری تقریریں کیں جس سے ان کی زبانوں میں مہارت کا اظہار ہوتا ہے۔

سالانہ 50 ہزار لوگوں کی میزبانی

وہ بکنگھم محل میں ہر سال 50 ہزار سے زیادہ لوگوں کی میزبانی کرتی تھیں۔

سماجی تقریبات کے فروغ کی بدولت ملکہ حقیقی معنوں میں سب سے زیادہ ملنسارمیزبان تھیں۔

وہ مختلف مواقعے پر دن اور رات کے کھانے اور باغ میں ہونے والی تقاریب میں لوگوں کو خوش آمدید کہتیں۔

70سال سے زائد عرصے تک شادی برقرار رہی

ملکہ کی شادی 70 سال سے زیادہ عرصہ برقرار رہی۔

2017  میں جوڑے کی شادی کی پلاٹینم سالگرہ کے موقعے پرملکہ اور شہزادہ فلپ نے شادی کی 70 ویں سالگرہ منائی۔

انہوں نے 20 نومبر، 1946 کو لندن کے ویسٹ منسٹر ایبی میں شادی کی اور مبینہ  طور پر ونڈسر کاسل میں نجی سطح پر ہونے والی غیر اہم تقریب میں شادی کی خوشی منائی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ