ملکہ برطانیہ ایشیائی کمیونٹی کے نزدیک کیا معنی رکھتی تھیں؟

ہم نے بکنگھم پیلس کے باہر آئے ایشیائی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بات چیت کی اور سوال کیا کہ ملکہ برطانیہ ان کے نزدیک کیا معنی رکھتی تھیں؟

برطانیہ میں ملکہ الزبتھ دوئم کے انتقال پر 10 روزہ سوگ جاری ہے۔ آج 13 ستمبر منگل شام کو ملکہ برطانیہ کا جسد خاکی لندن بکنگھم پیلس لایا جائے گا۔ جسے دیکھنے کے لئے لاکھوں کی تعداد میں لوگ موجود ہوں گے۔

ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کی وفات کی خبر سننے کی دیر تھی کہ عوام نے پھولوں کے ساتھ بکنگھم پیلس کی طرف رخ کرنا شروع کر دیا۔

لندن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ لمبی قطاروں میں لگے اپنی ملکہ کو خراجِ تحسین دینے پہنچے۔

لوگ رُکتے، پھول رکھتے، بکنگھم پیلس کے اندر جھانکتے اور تصاویر بناتے ہوئے ان یادگار لمحوں کو کیمرے کی آنکھ میں ریکارڈ کرکے آگے بڑھ جاتے۔

کوئی راہ گیر تھا بوڑھا تھا یا بچہ، ہر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے افراد ملکہ برطانیہ دوئم کو پھولوں کے ساتھ خراج تحسین پیش کرنے پہنچے اور یہ سلسلہ مزید کئی دنوں تک یونہی چلتا رہے گا۔

لوگ ان کی یاد میں ان کے محل، پارک، گرجا گھر اور درختوں کے گرد پھول رکھ کر عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔

ہم نے بکنگھم پیلس کے باہر آئے ایشیائی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بات چیت کی اور سوال کیا کہ ملکہ برطانیہ ان کے نزدیک کیا معنی رکھتی تھیں؟

انڈیا سے تعلق رکھنے والی چرن جیت نے کہا کہ وہ برمنگھم سے خاص طور پر ملکہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے آئی ہیں۔

’وہ میری زندگی میں بہت اہمیت کی حامل تھیں اور میں ان کو اپنی ماں کی طرح سمجھتی تھی۔‘

افغانستان سے تعلق رکھنے والی ثانیہ گل نے بتایا کہ جب سے وہ انگلینڈ میں آئی تھیں انہوں نے ملکہ کو ہی دیکھا تھا اور ان کی وفات پر بہت دکھ ہوا۔ ’وہ ہمارے لئے ایک قومی ماں کی حیثیت رکھتی تھیں۔‘

پاکستان سے تعلق رکھنے والی نورین اختر نے بتایا وہ مانچسٹر سے لندن ملکہ کو خراج تحسین پیش کرنے آئی ہیں۔ ملکہ برطانیہ دوئم نے 70 سالوں تک ’قوم کے لیے بہت کچھ اور بہت اچھا کیا۔‘

انڈین پنجاب سے تعلق رکھنے والے مدن کینسل نے بتایا وہ اپنی فیملی کے ساتھ برینٹ ووڈ سے ملکہ برطانیہ دوئم کے احترام میں ان کو عقیدت پیش کرنے آئے ہیں۔ ان کے بقول: ’کیونکہ ہم نے تو انہیں ہی ساری زندگی دیکھا تھا اور انہوں نے قوم کے لئے بہت کچھ کیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بنگلہ دیش سے فرحانہ کا کہنا تھا کہ وہ ان تمام ہزاروں لوگوں کی طرح آئی ہیں کہ کیونکہ ملکہ نے بہت لمبے عرصے تک اور بہت اچھا راج کیا۔ اور ہم ان کو آخری بار خدا حافظ کہنے آئے ہیں۔

انڈیا کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے سکھبیر سنگھ کا کہنا تھا میں جب سے پیدا ہوا ہوں ملکہ برطانیہ دوئم کو دیکھا تھا وہ ہماری زندگی کا حصہ بن چکی تھیں۔

جذباتی ہوتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’پتہ نہیں کیوں ، بس میرا دل کر رہا تھا آنے کو اور میں آ گیاـ‘

بکنگھم پیلس کے باہر ہمیں برطانوی پارلیمنٹ کے رکن برمنگھم سے خالد محمود بھی نظر آئے جو کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’ہمارا آج یہاں آنے کا مقصد ملکہ برطانیہ دوئم کو خراج تحسین پیش کرنا ہے کہ انہوں نے ہم ساری قوم کے لئے بہت اچھا اور بہت زیادہ کام کیا ہے۔‘

برطانیہ کے لوگ پارکوں میں اپنے بچوں کو بھی پھولوں کے ساتھ  لے کر پہنچے ہوئے تھے۔

بچے اپنے اپنے انداز میں پھول رکھ رہے تھے۔ کچھ بچے کارڈ پر ملکہ برطانیہ کی تصویر بنا کر ان کو گڈ بائے کہہ رہے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا