قیمت کے تنازع پر پیناڈول سمیت 100 سے زائد دواؤں کی پیداوار بند

کابینہ کی جانب سے دواؤں کی قیمت میں اضافے کی سمری مسترد کیے جانے کے بعد غیر ملکی دوا ساز کمینیوں نے پیناڈول سمیت 100 سے زائد سستی داوئیں بنانا بند کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں 23 مارچ 2020 کو لی گئی تصویر میں ایک فارمیسی میں صارفین (اے ایف پی)

پاکستان میں حکومت کے ساتھ قیمت پر اختلاف کی وجہ سے دوا ساز کمپنیوں نے بخار اور دیگر معمولی تکالیف میں تجویز کی جانے والی پیناڈول سمیت 100 سے زائد سستی ادویات کی پیداوار بند کر رکھی ہے، جس سے مارکیٹ میں ان کی قلت ہوگئی ہے اور ان کی متبادل دوائیں مزید مہنگی ہوگئی ہیں۔

میڈیسن مینوفیکچرز ایسوسی ایشن کے مطابق غیر ملکی دوا ساز کمپنیوں نے ڈالر مہنگا ہونے پر بیرون ملک سے آنے والے خام مال کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے حکومت سے دواؤں کی قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم کابینہ نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کی سفارش کے باوجود 100 سے زائد سستی ادویات کی قیمتیں بڑھانے سے انکار کردیا ہے، جس کے بعد کمپنیوں نے پیداور روک دی ہے۔

ہول سیلرز کے مطابق مقامی کمپنیاں یہ دوائیں بلیک میں فروخت کر رہی ہیں جس کی وجہ سے قیمتیں اور بڑھ گئی ہیں۔ جبکہ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے سٹورز کے خلاف کارروائیاں شرو ع کر رکھی ہیں۔

قیمت پر اختلاف

پاکستان فارماسوٹیکل اینڈ مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین قاضی منصور دلاور نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی دوا ساز کمپنی جی ایس کے سمیت اکثر کمپنیوں نے پاکستان میں 100 سے زائد سستی ادویات کی پیداوار بند کی ہے جس میں پیناڈول اور پیراسٹامول جیسی دوائیں بھی شامل ہیں۔

ان کے مطابق غیر ملکی کمپنیاں بخار، ملیریا اور دمے کے مریضوں کو دی جانی والی سستی گولیاں بھی تیار نہیں کر رہیں۔

قاضی منصور نے کہا کہ مینو فیکچرز ایسوسی ایشن نے ڈریپ سے ملاقات میں بتایا تھا کہ ڈالر اور بجلی کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے ان کی پیدواری لاگت میں اضافہ ہوگیا ہے لہذا ادویات کی قیمتوں میں معقول اضافہ کرنے کی اجازت دی جائے کیوں کہ کاروبار میں نقصان ہو رہا ہے۔

انہوں نے جی ایس کے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اس نے پیناڈول کی قیمت ایک روپے 70 پیسے سے دو روپے 70 پیسے تک بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا کیوں کہ کمپنی کے بقول مارکیٹ میں اس کی بنائی ہوئی پیناڈول کی فروخت 90 فیصد ہے اور پیدواری لاگت پوری نہ ہونے پر کمپنی کو نقصان ہو رہا ہے۔

قاضی منصور کے مطابق جی ایس کے نے ڈریپ کو بتایا کہ ایک ماہ میں اس کی بنائی ہوئی پیناڈول کی 40 کروڑ گولیاں فروخت ہوتی ہیں اور گذشتہ چند ماہ یہ 40 کروڑ ماہانہ کا نقصان کمپنی برداشت کر رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح دوسری کمپنیوں نے بھی اس طرح کے نقصانات کی تفصیل بتائی ہے اور ڈریپ نے مذاکرات کے بعد ادویات کی قیمتوں میں معقول اضافے کی سمری سفارش کے ساتھ وفاقی کابینہ کو بھجوا دی۔ تاہم وزیراعظم کی زیر صدارت منگل کو کابینہ اجلاس میں یہ سمری مسترد کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا: ’اس صورت حال میں کمپنیاں ایسی ادویات بنانے کو تیار نہیں جن میں نقصان ہو رہا ہے۔‘

ادویات کی ریٹیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین اسحاق میو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جو ادویات شارٹ ہوگئی ہیں، ان کی متبادل بنانے والی کمپنیاں اپنی دوائیں بلیک میں فروخت کر رہی ہیں۔

بارشوں اور سیلاب کے بعد ملک میں ڈینگی بخار کے ساتھ ساتھ دیگر وبائی امراض پھیل رہے ہیں، ایسے میں اہم دواؤں کی قلت پر ڈاکٹر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

لاہور میں میڈیسن کی ماہر ڈاکٹر ہما ارشد چیمہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ڈینگی بخار پھیلتا جارہا ہے جس میں فوری طور پر پیناڈول ہی دی جاتی ہے، مگر وہ ہی مارکیٹ سے غائب ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پیناڈول کی متبادل دوائیں مارکیٹ میں مل رہی ہیں اور وہ موثر بھی ہیں مگر پیناڈول کی قلت میں اب ان کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے جو تشویش ناک ہے۔

ڈاکٹر ہما کا کہنا تھا: ’دوا ساز کمپنیاں قیمتیں بڑھانے کے لیے بلیک میل کرتی ہیں اور مریضوں کی مشکلات کو نظر انداز کرتے ہوئے منافع دگنا کرنے کی جدوجہد میں لگ جاتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’ایسے حالات میں جب سیلاب زدہ علاقوں میں وبائیں پھوٹ چکی ہیں اور کرونا اور ڈینگی وائرس بھی اپنا اثر دکھا رہا ہے، لوگوں کی مشکلات بڑھانا افسوسناک ہے۔‘

حکومت کیا کر رہی ہے؟

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کی ہدایت پر ملک گیر دواؤں کی ذخیرہ اندوزی اور جعلی دوائیں بنانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔

وزارت کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ جعلی اور غیر رجسٹرڈ کمپنیوں اور زخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ڈریپ کی ٹیم نے کراچی میں ایک میڈیسن مارکیٹ میں ایک دکان پر چھاپہ مارا جس میں دو لاکھ سے زائد پیناڈول کی گولیاں تحویل میں لی گئیں جو ذخیرہ کی گئی تھیں۔

میڈیا کو جاری بیان میں وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ ملک بھر سے جعلی غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری ادویات بیچنے والے کے خلاف ڈریپ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جارہی ہے اور حکومت کی منظور شدہ قیمت سے زائد پر دوائیں بیچنے والوں کے خلاف بھی قانون کارروائی کی جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت