لبنان: بہن کے علاج کے لیے کھلونا پستول سے بینک ڈکیتی

صالی حافظ نامی خاتون نے بلوم بینک کی بیروت برانچ میں اپنی ڈکیتی کی لائیو ویڈیو فیس بک پر سٹریم کی جس میں انہیں رقم کے لیے بینک ملازمین پر چیختے ہوئے سنا جا سکتا ہے جبکہ بینک کے داخلی راستے سیل ہیں۔

بیروت میں 14 ستمبر 2022 کو لی گئی تصویر میں بیک لوٹنے والی صلی حافظ (سبز جوتوں میں) بینک میں اپنے ساتھیوں سمیت (اے ایف پی)

لبنان کے درالحکومت بیروت میں ایک خاتون کینسر میں مبتلا اپنی بہن کے علاج کے لیے کھلونا پستول کی مدد سے ایک بینک سے ہزاروں ڈالر لوٹ کر فرار ہو گئیں۔

صالی حافظ نامی خاتون نے بلوم بینک کی بیروت برانچ میں اپنی ڈکیتی کی لائیو ویڈیو فیس بک پر سٹریم کی جس میں انہیں رقم کے لیے بینک ملازمین پر چیختے ہوئے سنا جا سکتا ہے جبکہ بینک کے داخلی راستے سیل ہیں۔

انہوں نے ویڈیو میں کہا: ’میرا نام صالی حافظ ہے۔ میں آج یہاں اپنی بہن کی جمع پونجی لینے کے لیے آئی ہوں جو ہسپتال میں کینسر سے مر رہی ہے۔ میں کسی کو قتل کرنے یا گولی مارنے نہیں آئی۔ میں صرف اپنا حق مانگ رہی ہوں۔‘ 

بینک لوٹنے کے بعد صالی نے نشریاتی اداروں کو بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے جمع کرائے گئے 20 ہزار ڈالر میں سے تقریباً 13 ہزار ڈالر نکالنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

 

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی بہن کے کینسر کے علاج پر 50 ہزار ڈالر لاگت آنی ہے۔

صالی نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے اپنے بھتیجے کی کھلونا پستول کو اس ڈکیتی کے لیے استعمال کیا۔

اے ایف پی کے نمائندے نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے پہنچنے سے پہلے ہی صالی اور ان کی مشتبہ ساتھی بینک کے پچھلے حصے میں ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے فرار ہوگئیں۔

رشتہ داروں کے مطابق صالی ابھی تک مفرور ہیں جبکہ لبنان کی جنرل سکیورٹی ایجنسی نے ان افواہوں کو مسترد کر دیا کہ وہ ملک سے فرار ہو گئی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کی بہن زینا نے بتایا کہ 28 سالہ صالی سماجی کارکن اور انٹیریئر ڈیزائنر ہیں اور وہ پانچ بہنیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ڈکیتی کے بعد سے خاندان کے ساتھ رابطے میں نہیں تھیں اور نہ ہی خاندان کا کوئی شخص ان کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔

زینا نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ حکام کو مطلوب ہیں۔

ڈکیتی کے بعد صالی سوشل میڈیا پر فوری طور پر ایک ہیرو بن گئیں کیونکہ لبنان میں بہت سے لوگ بینکوں میں موجود اپنی جمع پونجی تک رسائی نہ ہونے پر غصے میں ہیں۔

صالی کی پستول اٹھائے بینک کے اندر میز پر کھڑے ہوئے تصاویر اور فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

ایک صارف نے ٹوئٹر پر لکھا: ’آپ کا شکریہ، دو ہفتے پہلے میں بلوم بینک میں رویا تھا۔ مجھے سرجری کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی۔ میں اتنا کمزور ہوں کہ آپ کی طرح پستول پکڑ کر اپنی ہی رقم لے نہیں پایا۔‘

لبنان میں ڈکیتیوں کے سلسلے کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے جہاں ابتر معاشی حالات کے دوران تقریباً تین سالوں سے عوام کا سرمایہ بینکوں میں پھنسا ہوا ہے۔ 

سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ بدھ کو ہی بیروت کے شمال مشرق میں واقع ایلی شہر میں ایک اور شخص نے بھی ایک بینک لوٹنے کی کوشش کی۔ تاہم خبر رساں ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کوئی رقم لوٹی یا نہیں۔

گذشتہ ماہ ایک شہری نے گھنٹوں تک بیروت میں ایک بینک میں لوگوں کو یرغمال بنایا تھا جو اپنی جمع پونجی میں سے اپنے والد کے میڈیکل بل ادا کرنے لیے کچھ پیسے نکلوانے آئے تھے۔ 

انہیں گرفتار کیا گیا تھا پر جلد چھوڑ دیا گیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے ان کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔ 

اس سے قبل جنوری میں بھی ملک کے مشرقی حصے میں ایک شہری نے ایک بینک میں عملے اور صارفین کو یرغمال بنا لیا تھا جب انہیں اپنے ڈپازٹ تک رسائی سے انکار کیا گیا۔

مقامی میڈیا کے بعد انہیں کچھ پیسے دیے گئے اور انہوں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین