طلبہ کا وزیراعظم کو خط: چین کا کرایہ 60 ہزار تک کرنے کا مطالبہ

نعمان حیات خان چین میں میڈیکل تھرڈ ایئر کے سٹوڈنٹ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کرونا میں ستر ہزار کی ٹکٹ سے واپس آئے اور وہاں اب پابندی اٹھائی گئی تو واپسی پر پی آئی اے کا ٹکٹ پانچ لاکھ روپے کا مل رہا ہے۔

چین کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کرونا کے دوران وطن واپسی کے بعد اب ان کے لیے ناقابل برداشت کرایوں اور قرنطینہ اخراجات کے باعث چین جانا مشکل ہو چکا ہے لہذا پی آئی اے کے کرایوں میں کمی جائے۔

طلبہ کی جانب سے وزیراعظم کو لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ سات ہزار سے زائد طلبا و طالبات جو سکالرشپ پر چین میں زیر تعلیم تھے اب چین میں کرونا پابندیاں ہٹنے کے بعد تعلیم مکمل کرنےکے لیے واپس جانا چاہتے ہیں مگر ’افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ لندن کا کرایہ جو 10 گھنٹے کی فلائٹ ہے، پونے دو لاکھ روپے، جب کہ چین کا کرایہ جو چار گھنٹے کی فلائٹ ہے، پی آئی اے پانچ لاکھ روپے تک وصول کر رہی ہے اور چین میں قرنطینہ سینٹر کا خرچ الگ سے لیا جا رہا ہے۔‘

وزیراعظم سے درخواست کی گئی ہے کہ ’اس معاملے کا نوٹس لے کر پہلے کی طرح کرایہ 50 سے 60 ہزار روپے کے قریب مقرر کرنے کا حکم دیا جائے۔‘

پی آئی اے کی جانب سے کرایوں میں طلبہ کے لیے 22 فیصد تک کمی کا اعلان کیا گیا تو طلبہ نے اسے مسترد کرتے ہوئے 70 فیصد تک کمی کا مطالبہ کیا ہے جو تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے بنتا ہے۔

طلبہ کے مسائل

چین میں زیر تعلیم طالبہ نادیہ علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چین کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔ کرونا کے دوران انہیں پاکستان واپس آنا پڑا اور یہاں سے آن لائن کلاسز لیتی رہیں۔

’اب چین نے غیر ملکی طلبہ کے لیے انٹری کھول دی ہے۔ اب ہمیں ریسرچ اور پریکٹیکل تعلیم کے لیے وہاں جانا ہے کیوں کہ یہ آن لائن نہیں ہوسکتا۔ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ پی آئی اے نے کرایہ جو 50 سے 60 ہزار تھا وہ پانچ لاکھ تک کر دیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نادیہ کے بقول بیشتر طلبہ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ والدین کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ وہ صرف ٹکٹ کے لیے چار سے پانچ لاکھ روپے ادا کر سکیں۔ ان کی تعلیم خطرے میں پڑ گئی ہے۔

نعمان حیات خان نے کہا کہ وہ چین میں میڈیکل تھرڈ ایئر کے طالب علم ہیں۔ کرونا میں 70 ہزار کے ٹکٹ سے واپس آئے اب پابندی اٹھائی گئی تو ٹکٹ پانچ لاکھ کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا ’پی آئی اے کی جانب سے 22 فیصدکمی سے ٹکٹ پانچ سے کم ہو کر چار لاکھ کی ہوجائے گا لہذا یہ طلبہ سے دھوکہ ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان، وزیر ہوا بازی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر 70 فیصد تک ٹکٹ کم کرنا سب کے لیے ممکن نہیں تو طلبہ کو رعایت دے کر سپیشل فلائٹس چلا دیں۔‘

’طلبہ کے لیے تعلیم کے دروازے بند نہ کیے جائیں۔ ہم جائز حق مانگ رہے ہیں کیونکہ اسلام آباد سے لندن دس گھنٹے کی فلائٹ ہے اور کرایہ پونے دو لاکھ ہے مگر اسلام آباد سے بیجنگ کی فلائٹ چار گھنٹے اور کرایہ پانچ لاکھ ہے۔‘

اسی طرح دیگر طلبا و طالبات نے بھی مہنگے ٹکٹ کے باعث مشکلات کا اظہار کیا ہے۔

ٹکٹوں کی قیمت میں کمی کا اعلان

ترجمان پی آئی اے اطہر حسن اعوان کے مطابق پی آئی اے نے وفاقی وزیر ہوابازی خواجہ سعد رفیق کی ہدایات پر چین جانے والی پروازوں کے کرایوں میں فوری طور پرکمی کر دی ہے۔

’عام مسافروں کے لیے دس فیصد کمی کی گئی ہے جبکہ چین جانے والے طالب علموں کو سہولت پہنچانے کے لیے پی آئی اے دفاتر سے ٹکٹ حاصل کرنے والے طالب علم 22 فیصد رعایت حاصل کر سکیں گے۔ طالب علم اب 40 کلو کی بجائے 80 کلو سامان بھی ساتھ لے جا سکیں گے۔‘

ترجمان پی آئی اے کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کرایوں میں کمی کا اطلاق پاکستان سے روانہ ہونے والی پروازوں پر فوری طور پر نافذ العمل ہو گا۔

واضح رہے کہ پی آئی اے چین کے شہروں چنگدو اور شیان کے لیے دو ہفتہ وار پروازیں چلا رہی ہے۔

طلبہ نے اس کمی کو مسترد کرتے ہوئے 70فیصد کرنے کا مطالبہ کیا ہے مگر اس بارے میں پی آئی اے نے کوئی وضاحت نہیں دی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس