ملکہ الزبتھ سے دو بار ملاقات کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر

ڈاکٹر عبدالغفور عزیز کا کہنا ہے کہ ’میں زندگی بھر یہ سوچتا رہوں گا کہ میں کیسے دو بار زندگی میں ملکہ سے ملا؟ کیا یہ خواب تھا؟ یا اللہ کی رحمت؟ میں ملکہ کی مسکراہٹ زندگی بھر نہیں بھلا سکوں گا۔‘

پاکستانی نژاد برطانوی ڈاکٹر عبدالغفور عزیز ملکہ برطانیہ سے ملاقات کر رہے ہیں (تصویر: ڈاکٹر عبدالغفور عزیز)

برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم دنیا کی وہ واحد ملکہ تھیں جنہوں نے اپنی زندگی کا سب سے طویل عرصہ شاہی خاندان میں راج کرتے ہوئے گزارا۔

ان کے اس دور میں ہزاروں لوگوں کو ان سے بالمشافہ ملاقات کرنے کا موقع بھی ملا۔ انڈپینڈنٹ اردو لندن نے ایسے ہی سمندر پار پاکستانیوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جو ملکہ الزبتھ دوم سے ملاقات کر چکے ہیں۔

بہت سارے پاکستانیوں کے نام سامنے آئے لیکن ڈاکٹر عبدالغفور عزیز کا انتخاب اس لیے کیا کہ وہ ایک بار نہیں دو بار ملکہ سے مل چکے تھے اور انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کی خدمت میں وقف کیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالغفور عزیز اپنے علاقے بار کنگ اور ڈیگنم میں ہر رنگ و نسل میں اپنے سماجی کاموں کی وجہ سے مشہور ہیں۔

ڈاکٹر عبدالغفور عزیز کا تعلق پاکستان کے ضلع منڈی بہاؤالدین کے علاقے کٹھیالہ شیخاں سے ہے اور وہ برطانیہ میں 1997 میں منتقل ہوئے تھے۔

یہاں آتے ہی انہوں نے لیبر پارٹی جوائن کر لی تھی اور ان کی محنت نے قیادت اور پارٹی میں خاص مقام حاصل کر لیا۔

کونسلر بنے اور ان کی پارٹی لیڈرشپ نے 51 کونسلروں میں سے ان کا انتخاب ان کی سوسائٹی کے لیے خدمات کے اعزاز میں ملکہ الزبتھ دوم کے 2015 کے بار کنگ اینڈ ڈیگنم کے دورے کے دوران کیا گیا۔

ڈاکٹر عبدالغفور عزیز کا کہنا تھا ’جب مجھے اپنی کونسل کی طرف سے خط ملا تو میں پھولا نہیں سما رہا تھا۔ سوچ رہا تھا وہاں تو بڑے بڑے نام موجود تھے پھر میں ہی کیوں؟ کیا یہ اللہ کی رحمت کا صلہ ہے؟

’مجھے نا صرف ملاقات کرنے کا موقع ملا بلکہ ملکہ کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر عبدالغفور عزیز کا کہنا تھا ’جب ہم ٹیبل پر بیٹھے تھے تو ملکہ نے مجھ سے پوچھا ’آپ کیا کرتے ہیں؟‘

’میں نے جواب میں اپنا پاکستان سے برطانیہ تک کا تمام سفر سنا دیا۔‘

ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ ملکہ وہ ہستی تھیں جو کسی میں فرق نہیں کرتی تھیں۔

’انہوں نے بہت محبت اور شفقت سے بات کی، پہلی بار ملیں تو اتنی پیاری مسکراہٹ کے ساتھ ملیں کہ ان کی وہ مسکراہٹ میرے دل میں گھر کر گئی اور وہ میرے بڑے قیمتی اور فخریہ لمحات تھے۔‘

دوسری بار ملکہ سے ملاقات

ڈاکٹر صاحب کہنے لگے جب ’میں 2017 میں بار کنگ اینڈ ڈیگنم کا میئر بنا اور مجھے ملکہ برطانیہ سے دوبارہ ملنے کی خبر ملی تو اس بار میری اہلیہ کو بھی مدعو کیا گیا تھا یہ میرے لیے اتنا شاندار وقت تھا کہ میں اپنی قسمت پر حیران رہ گیا کہ ایک شاہی خاندان اور وہ بھی برطانیہ کی ملکہ کے محل میں ان کے ساتھ ناشتہ کرنے کا موقع ملے گا۔‘

’میری اہلیہ تو اتنی خوش تھیں کہ نئے کپڑے خریدے اور خوشی میں پاکستان اور یہاں ہر کسی کو بتاتی پھر رہی تھیں کہ میں ملکہ برطانیہ کے ساتھ ان کے محل میں ناشتہ کرنے جا رہی ہوں۔‘

ڈاکٹر صاحب نے ایک لمبی آہ بھری اور بولے ’اب میں اپ کو کیا اور کیسے بتاؤں میں کتنا خوش تھا۔‘

ڈاکٹر عبدالغفور عزیز نے بتایا کہ ملکہ نے انہیں بتایا کہ وہ بھی پاکستان گئی تھیں۔

برطانیہ میں سمندر پار پاکستانیوں کی برادری میں میں سینکڑوں نام ایسے ہیں جنہیں ملکہ نے اعزازت سے نوازا ہے اور وہ ملکہ کے ساتھ بنی ایک تصویر کو اپنی زندگی بھر کا اثاثہ سمجھتے ہیں۔

برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم نے اس چیز کا خود اقرار کیا تھا پاکستانیوں کا ہماری سوسائٹی میں بہت اہم رول ہے اور انہوں نے بے پناہ خدمات انجام دیں ہیں۔ پاکستانی بہت محنتی ہیں۔

ڈاکٹر عبدالغفور عزیز نے بتایا کہ جس دن انہوں نے ملکہ کی وفات کی خبر سنی وہ ساری رات سو نہیں سکے اور ان سے ہونے والی ملاقاتوں کی یادیں فلم بن کر ان کی آنکھوں کے سامنے چلنے لگیں تھیں۔

’میں زندگی بھر یہ سوچتا رہوں گا کہ میں کیسے دو بار زندگی میں ملکہ سے ملا؟ کیا یہ خواب تھا؟ یا اللہ کی رحمت؟ میں ملکہ کی مسکراہٹ زندگی بھر نہیں بھلا سکوں گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ