ملکہ الزبتھ: کیا بگڑتا جو نہ کُوچ کرتیں کوئی دن اور

میں نے اس بارے میں بہت سوچا مگر مجھے سمجھ نہیں آئی کہ ملکہ کی وفات پر اِس قدر ’سرکاری غم‘ کیوں منایا جا رہا ہے، شاید دولتِ مشترکہ کا حصہ ہونے کی وجہ سے بعض ممالک کے لیے انتقال پر ملال ضروری ہو!

بکنگھم پیلس میں 14 ستمبر کو ملکہ الزبتھ دوم کا تابوت رائل سٹینڈرڈ سے آراستہ کیا گیا اور امپیریئل سٹیٹ کراؤن کو گن کیرج آف دا کنگز ٹروپ رائل ہارسز آرٹیلری کے ذریعے لے جایا گیا (تصویر: اے ایف پی)

ملکہ الزبتھ کیا فوت ہوئیں، برطانیہ میں گویا بھونچال آ گیا۔ چلو انگریزوں کی تو ملکہ تھی، وہ سوگ منائیں تو سمجھ بھی آتی ہے لیکن ہم جیسے غریب ملک کیوں ملکہ کی وفات پر ہلکان ہوئے جا رہے ہیں!

برطانیہ بھر میں 10 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، اِس دوران یونین جیک سرنگوں رہے گا، پورے ملک میں توپوں کی سلامی دی جائے گی، گھنٹیاں بجائی جائیں گی اور دنیا بھر میں عوام کے لیے تعزیتی کتب رکھی جائیں گی جن میں وہ ملکہ کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کریں گے۔

میں نے ایسی کوئی تعزیتی کتاب پاکستان میں تو نہیں دیکھی، شاید برطانوی سفارت خانے میں ہو لیکن وہاں تک میری رسائی نہیں۔

بی بی سی نے بھی ملکہ کی وفات پر جس طرح کی کوریج کی ہے اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے پوری دنیا ملکہ کے دم سے ہی چل رہی تھی اور اب ملکہ معظمہ وفات پا گئی ہیں تو وقت گویا تھم گیا ہے۔

ذرا بی بی سی کی خبروں کے عنوانات ملاحظہ فرمائیں۔ ’ملکہ الزبتھ دوم کی موت، وہ لمحہ جب تاریخ رُک گئی۔ وہ انڈیا کی مہارانی نہیں تھیں مگر انڈیا میں کروڑوں لوگوں کی ملکہ تھیں۔ وہ لمحات جب ہمیں ملکہ الزبتھ کی حس مزاح دیکھنے کو ملی۔ ملکہ کے غم نے دونوں بھائیوں۔ ملکہ الزبتھ، بالمورل سے آخری سفر کا آغاز، میت کے احترام میں عوام سڑکوں پر۔ ملکہ الزبتھ، فرض کے احساس پر مبنی ایک طویل زندگی کا نام۔ ملکہ کے کوگی کتے، انہوں نے ملکہ کا دل کیسے جیتا۔ گھوڑوں اور گھڑ دوڑ سے لگاؤ رکھنے والی ملکہ الزبتھ۔‘

یہ فقط چند سرخیاں ہیں، مکمل کوریج اِس سے کہیں زیادہ ہے۔ باقی دنیا بھی ماتم کرنے میں پیچھے نہیں رہی، واشنگٹن میں امریکی پرچم سر نگوں کیا گیا، پیرس میں ملکہ کی یاد میں آدھی رات کو ایفل ٹاور کی روشنیاں گُل کر دی گئیں، برازیل، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت کئی ممالک نے ملکہ کی وفات کا غم منایا۔

ان ملکوں کی بھی سمجھ آتی ہے۔ مگر جس چیز کی سمجھ نہیں آئی وہ یہ کہ ہے کہ پاکستان نے بھی ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔

میں نے اس بارے میں بہت سوچا مگر معلوم نہیں ہو سکا کہ ملکہ کی وفات پر اِس قدر ’سرکاری غم‘ کیوں منایا جا رہا ہے، شاید دولت مشترکہ کا حصہ ہونے کی وجہ سے بعض ممالک کے لیے انتقال پر ملال کرنا ضروری ہو!

ملکہ برطانیہ کی وفات پر سب سے دلچسپ ٹویٹ جو میری نظر سے گزری وہ کراچی کے ایک نجی سکول سے متعلق تھی جس میں سکول کے لڑکے لڑکیاں سیاہ رنگ کا ماتمی لباس پہن کر ملکہ کی موت کا غم مناتے ہوئے نظر آئے۔ پہلے تو مجھے یقین نہیں آیا لیکن پھر میں نے غور سے ان تصاویر کو دیکھا تو مجھے پس منظر میں ملکہ کی تصویر بھی نظر آئی جس کے سامنے یہ تمام بچے سوگوار انداز میں یوں کھڑے تھے۔ نہ جانے یہ کس کے ذہن کی اختراع تھی کہ سکول کے بچوں کو ملکہ برطانیہ کی وفات پر ماتمی لباس پہنا کر باقاعدہ تقریب کا اہتمام کیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خیر، بندہ نجی شعبے کوکیا الزام دے، یہاں تو سرکاری سطح پر بھی ملکہ برطانیہ کی موت کا سوگ منایا گیا ہے۔ بندہ پوچھے بھلا ملکہ نے پاکستان کے لیے کون سا کارنامہ انجام دیا تھا یا ہماری ملکہ سے کون سی ایسی دلی وابستگی تھی کہ ہم ان کی موت پر یوں سوگ کا اعلان کریں؟

ملکہ الزبتھ برطانیہ کی ملکہ تھیں، وہ برطانیہ جس نے ہندوستان پر حکومت کی۔ یہ بات درست کہ ملکہ جب تخت پر براجمان ہوئیں اس وقت ہم آزاد ہو چکے تھے مگر کیا ملکہ نے برطانیہ کو متحدہ ہندوستان سے لوٹی ہوئی دولت واپس کرنے کا حکم دیا تھا، کیا انہوں نے کبھی اس بات پر تاسف کا اظہار کیا تھا کہ تاج برطانیہ کے دور میں بنگال میں قحط سے لاکھوں لوگ مارے گئے تھے؟

کیا ملکہ معظمہ کو جلیاں والا باغ میں ہونے والے قتل عام پر معافی مانگنے کی توفیق ہوئی تھی؟ کیا ملکہ کو اس بات کا علم تھا کہ برطانوی فوج نے ہندوستان پر حکمرانی کرتے ہوئے گوجرانوالہ شہر پر بمباری بھی کی تھی جس میں بے گناہ شہری مارے گئے تھے؟

کیا ملکہ کو اندازہ تھا کہ جس سلطنت کا تاج وہ سر پر سجائے پھرتی تھیں اس سلطنت نے کس طرح مختلف ممالک پر قبضہ کر کے ان ملکوں کے عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور انہیں بدترین نسل پرستی کا نشانہ بنایا؟

سوالات کی یہ فہرست طویل بھی ہو سکتی ہے مگر ہم شاہی خاندان کے احترام میں فقط یہیں تک رہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ برطانیہ کے نئے بادشاہ چارلز یہ ہمت کریں گے کہ وہ تاج برطانیہ کے دور میں ہندوستان پر ہونے والے مظالم اور زیادتیوں کے ازالے کے لیے برطانوی حکومت پر زور ڈالیں۔

ویسے یہ میری خوش فہمی ہے، ایسا کچھ نہیں ہو گا، وہ برطانیہ کے شہنشاہ ہیں کوئی پرولتاری انقلابی نہیں!

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی آرا پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ