جب کینیا کے درختوں میں کھیلتی شہزادی کو اچانک ملکہ بننے کی اطلاع ملی

1961 میں ملکہ نے برصغیر کا دورہ کیا جس میں پاکستان بھی شامل تھا۔ اس وقت پاکستان کے صدر ایوب خان نے کراچی میں ان کا استقبال کیا۔ اس وقت کے اخباری تراشوں کے مطابق انہیں دیکھنے کے لیے کراچی کی سڑکوں پر عوام کا سمندر امنڈ آیا تھا۔

دو فروری 1961 کی اس تصویر میں ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر سابق پاکستانی صدر ایوب خاب کے ہمراہ اپنے استقبال کے لیے موجود لوگوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتے ہوئے(اے ایف پی)

یہ چھ فروری 1952 کی بات ہے۔ ایک نوجوان برطانوی شہزادی کینیا میں ایک درخت پر چڑھی قریب ہی واقع تالاب میں ایک گینڈے کے پانی پینے کا منظر دیکھ رہی تھیں کہ انہیں ایک اطلاع ملی۔

یہ اطلاع تھی ان کے والد جارج ششم کی وفات کی اور یہ نوجوان شہزادی تھیں الزبتھ دوم۔ ہیرلڈ نکلسن نامی سفارت کار اور سیاست دان نے اپنی ڈائری میں یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ اسی دن شہزادی الزبتھ کے ملازموں نے ان کے طلوعِ آفتاب کے وقت ان کے سر پر سے ایک عقاب کو فضا میں بلند ہوتے دیکھا تھا۔

معلوم نہیں اس عقاب کے نیک شگون کا اثر تھا یا کچھ اور کہ یہ شہزادی اس واقعے کے 70 سال بعد تک برطانیہ کی ملکہ کے تخت پر براجمان رہیں اور انہوں نے دنیا کے کسی بھی شہنشاہ کے سب سے طویل مدت تک دورِ اقتدار کا ریکارڈ بھی قائم کر دیا جو ان سے پہلے ملکہ وکٹوریہ کے پاس تھا۔

21 اپریل 1926 کو ان کی پیدائش کے وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ دس برس کی عمر میں وہ تخت شاہی کی وارث ہوں گی۔

 ان کے چچا ویلز کے پرنس اور جارج پنجم کے وارث تھے۔ شاہی تخت کی وارثت میں ان کے والد دوسرے نمبر پر تھے۔

11 ستمبر 1936 کو اچانک شاہی خاندان اور الزبتھ کی زندگی میں ڈرامائی موڑ آیا۔ ان کے چچا اور اس وقت کے تخت نشین ایڈورڈ ہشتم نے تخت شاہی کو چھوڑ کر دو بار کی طلاق یافتہ امریکی خاتون والس سمپسن سے شادی کا اعلان کر دیا جس کے بعد ان کے والد شہنشاہ بن گئے۔

شادی اور تخت شاہی تک رسائی

الزبتھ کی پرنس فلپ سے پہلی ملاقات 1934 میں ہوئی جو بہت جلد محبت میں بدل گئی۔ لیکن شادی کا معاملہ اتنا سادہ نہ تھا۔

پرنس فلپ شہزادے تو تھے مگر بغیر راجدھانی کے۔ اوپر سے ان کے مالی حالات بھی انتہائی خستہ تھے۔ بہرحال ابتدائی تحفظات کے بعد بادشاہ اور ملکہ رضامند ہو گئے اور نومبر 1947 میں یہ محبت شادی میں تبدیل ہو گئی۔

1952 میں کثرت سگریٹ نوشی سے ان کے والد کی موت واقع ہو گئی اور یہی موقع تھا جب کینا سے ان کی واپسی بطور ملکہ کے ہوئی۔ یہاں سے ان کے ریکارڈ ساز طویل شاہی سفر کا آغاز ہوا۔

ملکی اتحاد اور قومی استحکام کی علامت

جنگ عظیم دوم نے یورپ کے بیشتر ممالک سمیت برطانیہ کے سماجی ڈھانچے کو بری طرح ہلا کر رکھ ڈالا تھا۔ جنگ کے دوران فوج وردی زیب تن کرنی والی ملکہ ایسے وقت میں ملکی اتحاد اور قومی استحکام کی عظیم علامت بن کر ابھریں۔

ان کا عہد صنعتی و اقتصادی تبدیلوں سے لے کر سماجی و سیاسی اعتبار سے بہت ہنگامہ خیز تھا۔ مگر اس دوران انہوں نے براہ راست اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے یا نمایاں ہونے کے بجائے ایک علامتی آئینی سربراہ کی حیثیت سے باوقار کردار ادا کرنا پسند کیا۔

اس قدر طویل شاہی اننگز کے باوجود شاید ہی کبھی ان کے چہرے پر غصہ یا ان کے ہونٹوں سے متنازع بات سنی گئی ہو۔ کتوں اور گھوڑوں کی شوقین ملکہ کسی بھی حوالے سے ایسی سربراہ مملکت نہ تھیں جو عوامی توجہ اور شہرت کے حصول کی ہوس رکھتی ہوں۔

اپنے نجی جیون میں وہ بہترین حس مزاح اور عمدہ ذوق کی مالک خاتون سمجھی جاتی تھیں۔

بطور سربراہ مملکت ملکہ کا راج برطانیہ تک محدود نہ تھا

بطور سربراہ مملکت ملکہ کی راجدھانی دولت مشترکہ اور ان کے علاؤہ آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، اینٹی گوا اور باربودا، بہاماس، بیلیز، غرناطہ، جمیکا، پاپوا نیو گنی، سینٹ لوشیا، جزائرسلیمان، سینٹ کٹس اینڈ نیوس اور سینٹ ونسنٹ اور گریناڈائنز میں تک پھیلی ہوئی تھی۔

مگر ملکہ کے دور میں چند ممالک ایسے بھی ہیں جنہوں نے شاہی راج سے دامن چھڑاتے ہوئے اپنے جمہوری قوانین نافذ کر لیے۔ اس کی تازہ ترین مثال بارباڈوس ہے۔

بارباڈوس نے گذشتہ برس شاہی خاندان کی نگرانی سے خود کو آزاد کر لیا۔ 1978 میں ڈومینیکا اور 1992 میں یہی کام موریشس نے کیا تھا۔ ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو نے 1976 اور گیانا نے 1970 میں ملکہ کو سربراہ مملکت کے عہدے سے ہٹایا تھا۔

ملکہ کے بیرونی دورے

جہاں تک بطور سربراہ مملکت بیرونی دوروں کی بات ہے تو شاید ہی دنیا کا کوئی رہنما ان کی برابری کا دعوی کر سکے۔ گذشتہ 70 برسوں میں انہوں نے دولت مشترکہ میں شامل ممالک کے مجموعی طور پر 150 سے زائد دورے کیے جن میں 22 دوروں کے ساتھ کینیڈا سرفہرست ہے۔

بطور مہمان سربراہ مملکت ان کے کئی دورے تاریخ ساز ثابت ہوئے۔ 1975 میں پہلی مرتبہ کسی شاہی خاندان کے فرد نے جاپان کا دورہ کیا۔ انہوں نے چین کے مشہور انقلابی رہنما ڈینگ شیاوپنگ سے بھی ملاقات کی۔ اس دوران وہ شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی پہلی شخصیت تھیں جنہوں نے دیوار چین پر چہل قدمی کی۔

1961 میں ملکہ نے برصغیر کا دورہ کیا جس میں پاکستان بھی شامل تھا۔ اس وقت پاکستان کے صدر ایوب خان نے کراچی میں ان کا استقبال کیا۔ اس وقت کے اخباری تراشوں کے مطابق انہیں دیکھنے کے لیے کراچی کی سڑکوں پر عوام کا سمندر امنڈ آیا تھا۔

اس دوران وہ لاہور بھی آئیں جہاں انہیں خصوصی اہتمام کے ساتھ بادشاہی مسجد دکھائی گئی۔

شدید مشکلات بھی ملکہ کی مسکراہٹ اور مقبولیت نہ چھین سکیں

1992 میں تخت شاہی سنبھالنے کی 40ویں سالگرہ کے موقع پر ملکہ نے اسے ’مشکلات کا سال‘ قرار دیا تھا۔ دراصل یہ سال ہی نہیں بلکہ پوری دہائی ملکہ کے لیے مشکل ثابت ہوئی۔ برطانیہ اور دیگر ممالک میں ایک طرف جمہوری طرز پر سربراہ مملکت منتخب کرنے کی تحریک زور پکڑنے لگی تو دوسری طرف میڈیا نے ملکہ کی نجی دولت کے مختلف تخمینے پیش کرنا شروع کر دیئے۔

یہاں تک کہ شاہی خاندان کے مالیاتی امور باقاعدہ اصلاحات سے گزرے اور 1993 کے بعد ملکہ باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے لگیں۔

اگست 1997 میں شہزادی ڈیانا کی موت کے بعد ملکہ کی سردمہری شدید تنقید کی زد میں آئی۔ ملکہ اس وقت چھٹی منانے کے لیے بالمورل میں موجود تھیں۔ شدید عوامی دباؤ کے نتیجے میں وہ ڈیانا کی آخری رسومات سے ایک دن پہلے لندن پہنچیں اور براہ راست ٹی وی نشریات پر قوم سے خطاب کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

مگر یہ ایسے تمام تر حالات میں ملکہ کے چہرے کی مسکراہٹ جگمگاتی رہی اور حوصلہ بلند رہا۔ اتنے طویل عرصے تک شاہی مسند پر فائز رہنے میں ان کے تحمل اور دیگر ذاتی خوبیوں کا بہت ہاتھ ہے۔

شاہی خاندان کی اصل طاقت

1999 میں آسٹریلیا میں انہیں بطور سربراہ مملکت ہٹانے کے لیے ریفرینڈم منعقد کیا گیا لیکن 54 فیصد سے زائد ووٹ ان کے حق میں پڑے۔ ان کے مخالفین کی اکثریت نے اس موقع پر عوام کی ملکہ سے ’شدید جذباتی وابستگی‘ کو آسٹریلیا میں اپنی شکست کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

 آسٹریلیا کے سابق وزیراعظم اور انتخابی عمل کے ذریعے سربراہ مملکت منتخب کرنے کے علمبردار میلکم ٹرنبال نے گذشتہ برس ایک موقع پر کہا تھا کہ ’وہ ایک غیر معمولی سربراہ مملکت ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں آسٹریلیا میں بادشاہت کے حامیوں سے زیادہ ملکہ کے ذاتی پرستار زیادہ ہیں۔‘

ان کے مخالفین ملکہ کی ذاتی شخصیت کو شاہی خاندان کی طاقت اور اپنی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ