لندن: ایرانی سفارت خانے کے باہر جھڑپوں میں 12 افراد گرفتار

امیرعبداللہیان نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر قوم کا حق ہے لیکن انہوں نے ایران اور خطے کے خلاف امریکہ کی مداخلت کے رویے کی مذمت کی۔

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں کو غیرملکی سازش قرار دیا ہے۔

انہوں نے مظاہرین کو ’فسادی ٹولہ‘ قرار دیا اور کہا کہ شرپسند عناصر امریکہ کے آشیرباد سے ایران میں نظام زندگی تباہ کرنے کے لیے احتجاج کا سہارا لے رہے ہیں۔ انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کرنا بند کریں۔

میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ (لندن پولیس) نے اعلان کیا کہ لندن میں ایرانی سفارت خانے کے باہر ہونے والی جھڑپوں میں 12 افراد کو گرفتار کیا گیا اور کم از کم پانچ پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے۔

پولیس کے مطابق بلوا پولیس ’مظاہرین کے درمیان نظم و ضبط قائم کرنے اور دیگر اہلکاروں کی حفاظت‘ کے لیے میدان میں آئیں اور اگرچہ وہ شیلڈز اور ہیلمٹ سے لیس تھی لیکن پانچ اہلکاروں کو ہسپتال لے جایا گیا، جن میں سے کچھ کی ہڈیاں ٹوٹی ہیں۔

سکاٹ لینڈ یارڈ نے کہا کہ یہ ہنگامہ سب سے پہلے نائٹس برج میں سفارت خانے کے باہر شروع ہوا جو پھر ماربل آرچ اور مائڈا ویل تک پھیل گیا، جہاں یو کے اسلامک سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض مظاہرین نے پتھر، بوتلیں اور دیگر اشیا پھینکی۔

تہران کی اخلاقی اقدار کی پولیس کی حراست میں 22 سالہ مہسا امینی کی موت نے بڑے پیمانے پر احتجاج کو پھیلایا ہے جو تہران سے اب دیگر ممالک تک پھیل گیا ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار سفارت خانے کو محفوظ بنانے میں کامیاب رہے لیکن اس کی وجہ سے انہیں مزید حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

آن لائن شائع ہونے والی ویڈیوز میں مظاہرین کے ہجوم کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوتی ہیں اور مشتعل مظاہرین کو چیختے ہوئے پولیس اہلکاروں کو سفارت خانے کے سامنے کھڑا کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک ویڈیو میں دو پولیس افسران ایک مظاہرین کے ساتھ زمین پر دستانے لگائے ہوئے ہیں جو بظاہر پولیس لائن عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

احتجاج کرنے والے ہجوم نے ’مرگ بر اسلامی جمہوریہ‘ کے نعرے لگائے اور 1979 کے انقلاب سے پہلے ایران کا پرانا قومی پرچم تھامے رکھا۔ سفارت خانے پر سرخ پینٹ بھی پھینکا گیا۔

پولیس چیف کیرن فائنڈلے نے کہا: ’ہم پرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتے ہیں اور اسے ممکن بنانے کے لیے ہمیشہ منتظمین کے ساتھ مل کر کام کریں گے، لیکن ہم اپنے افسران پر بلا اشتعال حملوں کو برداشت نہیں کریں گے جیسا کہ ہم نے آج دیکھا ہے، یا ایسے مظاہروں کو برداشت نہیں کریں گے جو کمیونٹی کے دوسرے گروہوں کو غیر محفوظ محسوس کرنے پر مجبور کریں۔

’آنے والے دنوں میں ہم ان لوگوں کی شناخت کرنے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے سی سی ٹی وی اور دیگر فوٹیج سمیت اپنے اختیار میں موجود تمام آلات استعمال کریں گے۔‘

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق حسین امیرعبداللہیان نے اتوار کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی 77ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر عراقی وزیرخارجہ حسین فواد کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کی جس میں انہوں نے حالیہ دنوں میں امریکہ کی مداخلت کے موقف پر روشنی ڈالی۔

 اے ایف پی کے مطابق ایرانیوں نے عدلیہ کے انتباہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اتوار کو مسلسل 10ویں رات سڑکوں پر نکل کر نوجوان کرد خاتون مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

عدلیہ کی میزان آن لائن ویب سائٹ کے مطابق عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی نے صدر ابراہیم رئیسی کی جانب سے پہلے کے انتباہ کی بازگشت سناتے ہوئے اتوار کو ’فسادات‘ کو بھڑکانے والوں کے خلاف ’نرمی کے بغیر فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت‘ پر زور دیا۔

ایران میں گذشتہ تین برسوں کے دوران ہونے والے سب سے بڑے مظاہروں میں سکیورٹی فورسز نے براہ راست گولیاں چلائیں جبکہ مظاہرین نے پتھراؤ کیا، پولیس کی گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کیا۔

نیم سرکاری ایرانی سٹوڈنٹس نیوز ایجنسی (ISNA) کے مطابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ’فسادیوں‘ کی امریکی حمایت واشنگٹن کے سفارتی موقف سے متصادم ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’ان فسادیوں کی حمایت میں امریکہ کی شمولیت اور ملک کے اندرونی استحکام کو غیرمستحکم کرنے کے ان کے منصوبے پر عمل درآمد میں ان کی حمایت جوہری معاہدے تک پہنچنے اور استحکام قائم کرنے کی ضرورت کے حوالے سے واشنگٹن کے سفارتی پیغامات سے واضح طور پر متصادم ہے۔‘

دس روز قبل ایران میں مذہبی اصولوں پرعمل درآمد کرانے کی ذمہ دار پولیس نے ایک 22 سالہ لڑکی مہسا امینی کو حجاب کے قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا تھا۔ امینی پر مبینہ طور پر تشدد کیا گیا جس کے نتیجے میں پولیس کی حراست میں اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔ اس کے بعد ملک گیر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مہسا امینی کے مبینہ قتل کے بعد ایران میں عوامی سطح پر حکومت کے خلاف شدید غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔

امیرعبداللہیان نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر قوم کا حق ہے لیکن انہوں نے ایران اور خطے کے خلاف امریکہ کی مداخلت کے رویے کی مذمت کی جس میں بدامنی پھیلانے کے اقدامات اور ایران میں فسادات اور ایرانیوں کے جذبات کا غلط استعمال کرنے والے اقدامات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے جوہری معاہدے کی ضرورت اور خطے میں استحکام اور سلامتی کے قیام کے بارے میں بھیجے جانے والے سفارتی پیغام کے واضح برعکس ہے۔

عراقی وزیر خارجہ نے مذاکرات کی مثبت تشخیص کرتے ہوئے تہران اور ریاض کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کے لیے عراق کی تیاری کا اظہار کیا۔

عراقی اہلکار نے کہا کہ اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے ایران اور سعودی عرب کو اپنے تعلقات کو معمول پر لانے اور اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولنے کی دعوت دی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا