افغانستان ہار کر بھی آسٹریلیا کو مشکل میں ڈال گیا

گروپ ٹو میں اس وقت پاکستانی ٹیم اگر مگر کا شکار ہے تو گروپ ون میں تقریباً یہی حالت میزبان آسٹریلیا کی دکھائی دیتی ہے۔

پوائنٹس ٹیبل کے مطابق پانچ نومبر کو کھیلے جانے والے میچ میں اگر انگلینڈ سری لنکا کا شکست دے دیتا ہے تو اسے سیمی فائنل تک رسائی حاصل ہو جائے گی اور میزبان آسٹریلیا ورلڈ کپ کی دوڑ سے باہر ہو جائے گا(اے ایف پی)

آسٹریلیا میں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی کے گروپ میچ میں افغانستان کی ٹیم کو آسٹریلیا کے ہاتھوں چار رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن افغانستان یہ میچ ہار کر بھی آسٹریلیا کی راہ میں بڑی مشکل کھڑی کر گیا۔

گروپ ٹو میں اس وقت پاکستانی ٹیم اگر مگر کا شکار ہے تو گروپ ون میں تقریباً یہی حالت میزبان آسٹریلیا کی دکھائی دیتی ہے۔

آسٹریلیا گروپ ون میں اس وقت دوسرے نمبر پر ہے اور اس کے سات پوائنٹس ہیں، جبکہ انگلینڈ کی ٹیم اس وقت پانچ پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے لیکن اس کا ایک میچ باقی ہے۔

جمعہ چار نومبر کو ایڈیلیڈ میں کھیلے جانے والے میچ میں آسٹریلیا کو جیت کے علاوہ پہلے کھیلتے ہوئے 185 رنز بنانے تھے یا افغانستان کو 106 سے کم کے سکور پر آؤٹ کرنا تھا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

پوائنٹس ٹیبل کے مطابق پانچ نومبر کو کھیلے جانے والے میچ میں اگر انگلینڈ سری لنکا کا شکست دے دیتا ہے تو اسے سیمی فائنل تک رسائی حاصل ہو جائے گی اور میزبان آسٹریلیا ورلڈ کپ کی دوڑ سے باہر ہو جائے گا۔

اسی گروپ کی ٹیم نیوزی لینڈ پہلے ہی سات پوائنٹس لیکن بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر ساتھ سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمعے کو کھیلے جانے والے میچ میں آسٹریلیا نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 168 رنز بنائے جس کے جواب میں افغانستان کی ٹیم 20 اوورز میں 164 رنز بنا سکی۔

افغانستان نے اس میچ میں ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تو آسٹریلوی بیٹنگ آرڈر میں سوائے ڈیوڈ وارنز اور مچل مارش کے کوئی افغان بولرز کا جم کر مقابلہ نہ کر سکا اور یکے بعد دیگرے آسٹریلین کھلاڑی آؤٹ ہوتے رہے۔

پاور پلے کے اختتام پر آسٹریلیا تین وکٹوں کے نقصان پر 52 رنز بنا سکا۔

مڈل اوورز میں بلے باز مارکس سٹوئنس نے کچھ مزاحمت دکھائی اور ان کے بعد آنے والے میکس ویل تو جیسے آخری اوورز کی تاک میں تھے۔

میکس ویل نے 32 گیندوں پر 54 رنز بنا کر آسٹریلیا کا سکور 168 تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

افغانستان کی جانب سے نوین الحق نے تین وکٹیں حاصل کیں۔

آسٹریلوی ہدف کے تعاقب میں افغانستان کی اننگز کا آغاز پراعتماد تھا۔ اوپنر رحمان اللہ گرباز، ابراہیم زدران اور گل بدین نائب سب نے ہی سکور میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے میچ کو کسی حد تک افغانستان کے حق میں کر دیا۔

ایڈم زمپا جب اننگز کے 14ویں اوور میں بولنگ کے لیے آئے تو افغانستان 13 اوورز میں 98 رنز بنا چکا تھا اور اس کی صرف دو وکٹیں گری تھیں لیکن اس اوور نے میچ کا توازن آسٹریلیا کے حق میں کر دیا۔

افغانستان کو اس اوور میں تین وکٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا جب سیٹ بیٹر ابراہیم زادران 26 پر کیچ اور گل بدین نائب رن آؤٹ ہو گئے۔ تیسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی نجیب اللہ زادران تھے۔

بس یہیں سے میچ کا رخ آسٹریلیا کی جانب مڑ گیا۔ یہاں راشد خان نے اپنی بیٹنگ کا جلوہ دکھاتے ہوئے اپنے کرئیر کی ایک اور یادگار اننگز کھیلی لیکن ان کی یہ اننگز میچ کا نتیجہ نہ بدل سکی۔

23 گیندوں پر 48 رنز بنانے والے راشد خان اگر ایک اور باؤنڈری لگا لیتے تو اس میچ کا نتیجہ کچھ اور ہوتا۔

میچ کے اختتام کے بعد افغانستان کے کپتان محمد نبی نے ٹوئٹر پر کی جانے والی ایک پوسٹ میں کپتانی سے دست بردار ہونے کا اعلان کر دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ