ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں بننے والا فیصل آباد کا گھنٹہ گھر

اس گھنٹہ گھر کے چاروں اطراف میں اردو، ہندی، گورمکھی اور انگریزی میں تحریر کنندہ ہے جو چاروں بڑی کمیونٹیوں یعنی مسلمانوں، ہندوؤں، سکھوں اور مسیحیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

انگریز دور میں بسائے گئے لائل پور (فیصل آباد) کا نام سنتے ہی جو پہلی عمارت ذہن میں آتی ہے، وہ یہاں کا تاریخی گھنٹہ گھر ہے۔

ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں تعمیر کیے گئے گھنٹہ گھر کی بنیاد 14 نومبر 1903 کو پنجاب کے گورنر سر چارلس ریواز نے رکھی تھی۔

اس کی تعمیر تقریباً دو سال میں مکمل ہوئی اور 13 دسمبر 1905 کو پنجاب کے فنانشل کمشنر لیو پرسی ایس آئی نے گھنٹہ گھر کا افتتاح کرنے کے بعد اس کی بالکونی سے ہاتھ ہلا کر شہریوں کا اس کی تعمیر پر شکریہ ادا کیا۔

جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں شعبہ تاریخ کے لیکچرر مظہر عباس بتاتے ہیں کہ لائل پور کے لوگوں کی خواہش تھی کہ ملکہ وکٹوریہ کے اعزاز میں ایک ایسی یادگار بنائی جائے، جس میں وہاں کی چاروں بڑی کمیونٹیز مسلمانوں، ہندوؤں، سکھوں اور مسیحیوں کی نمائندگی ہو۔

مظہر عباس نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’اگر آپ گھنٹہ گھر کو دیکھتے ہیں تو اس کے چاروں اطراف میں اردو، ہندی، گورمکھی اور انگریزی میں تحریر کنندہ ہے جو چاروں بڑی کمیونٹیز کی نمائندگی کرتی ہے۔

’دلچسپ بات یہ ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی وفات 22 جنوری 1901 میں ہو گئی تھی جبکہ گھنٹہ گھر کی بنیاد ان کی وفات کے تقریباً دو سال اور دس ماہ بعد رکھی گئی تھی۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’اس سلسلے میں فنڈز جمع کرنے کے لیے یہ طریقہ کار اختیار کیا گیا تھا کہ 25 ایکڑ زمین (فی مربع) 18 روپے ٹیکس لگایا گیا تھا۔‘

مظہر عباس کے مطابق جس طرح قیصری دروازہ یا گمٹی میں مغل فن تعمیر کی جھلک نظر آتی ہے اسی طرح گھنٹہ گھر کی عمارت کا ڈیزائن بھی مغل اور برطانوی طرز تعمیر کا امتزاج ہے جبکہ اس کی تعمیر میں سرخ سینڈ سٹون استعمال ہوا ہے جو کہ سانگلہ ہل کی پہاڑیوں سے لایا گیا تھا۔

’اس میں کوشش کی گئی ہے کہ مغل فن تعمیر کی جھلک نظر آئے تاکہ ملکہ کو جو تحفہ پیش کیا جا رہا ہے اس میں ہمارا ورثہ بھی نظر آئے۔‘

گھنٹہ گھر پر لگے گھڑیال کے حوالے سے مظہر عباس کہتے ہیں کہ ماضی میں لوگ وقت کی تقسیم پہلا پہر، دوسرا پہر وغیرہ کے حساب سے کیا کرتے تھے۔

’گھنٹہ گھر بننے سے ہر گھنٹے بعد گھنٹہ بجتا تھا جس سے لوگوں کو وقت کا پتہ چل جاتا تھا۔‘

لائل پور کے گھنٹہ گھر کی سیاسی اہمیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ عام طور پر اس کا موازنہ آمریت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

’گھنٹہ گھر مرکز میں بنا ہوا ہے اور آٹھ بازار اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اسی طرح جو آمر ہوتا ہے یا تو وہ خود فیصلے کرتا ہے یا کرواتا ہے یا ان فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے یعنی کہ وہ طاقت کا مرکز ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں گھنٹہ گھر کے بازار بھی باہر کی طرف نکلے ہوئے یا اس کے ساتھ جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ تاریخ کے طالب علم کے طور پر وہ گھنٹہ گھر کی دیکھ بھال یا تحفظ سے مطمئن نہیں ہیں۔

’یہاں پر اونچی عمارتوں کی اجازت کس نے دی ہے۔ کیا ان کو پتہ نہیں ہے کہ یہ تاریخی عمارت ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ تاریخی عمارت تو نیچے دب کر رہ جائے گی؟‘

ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک کے رش اور آلودگی کی وجہ سے گھنٹہ گھر کی اصل خوبصورتی خطرے میں ہے۔

’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرا خیال ہے کہ شاید گھنٹہ گھر کو ہم محفوظ کرنے کے بجائے ضائع کر رہے ہیں۔ ہم ٹریفک اور بلڈنگز کے حوالے سے کچھ ایسی پالیسیاں بنا رہے ہیں، جو اس کو نقصان پہنچائیں گی اور یہ تاریخی عمارت یا مقام ہم کھو دیں گے۔‘

مظہر عباس کے یہ خدشات بلاجواز نہیں ہیں کیونکہ اس تاریخی گھنٹہ گھر کا گھڑیال گذشتہ ایک ماہ سے بند پڑا ہے جبکہ اس کے پلیٹ فارم اور ریلنگ کے کئی پتھر بھی اپنی جگہ سے اکھڑ چکے ہیں لیکن ان کی تعمیر و مرمت پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔

دو سال قبل بھی گھنٹہ گھر کا گھڑیال بند ہو گیا تھا جس پر کچہری بازار میں واقع رفیق واچ کمپنی نے اپنے اخراجات سے اس کی مرمت کر کے اسے فعال بنایا تھا۔

رفیق واچ کے سینیئر ٹیکنیشن عرفان حفیظ نے انڈپینڈنٹ اردو بتایا کہ وہ اس گھڑیال کو دوبارہ چلانے کے لیے کمشنر اور میونسپل کارپوریشن کے چیف آفیسر سے ملاقات کر چکے ہیں لیکن کہیں سے بھی انہیں مثبت جواب نہیں ملا ہے۔

’دو سال پہلے اسے میں نے خود مرمت کیا تھا اور اس پر جو بھی اخراجات آئے تھے وہ رفیق واچ نے برداشت کیے تھے، ہمیں حکومت سے کچھ نہیں ملا۔ اب بھی کسی بندے نے رابطہ نہیں کیا، کسی کو کوئی پریشانی ہی نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس تاریخی اہمیت کی گھڑی کو چلانے اور اس کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

’ہر ہفتے بعد اس کی چابی بھرنی پڑتی ہے۔ باقی مرمت اور صفائی وغیرہ کے لیے خصوصی طور پر ایک بندہ ہونا چاہیے جو کہ اس وقت نہیں ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ