ادارے سے متعلق مونس الٰہی کے بیان کی وضاحت ہونی چاہیے: رانا ثنا اللہ

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے مطابق مونس الٰہی کے بیان پر وضاحت ہونی چاہیے لیکن ہمیں یقین ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی نے عوام کے سامنے ادارے کا جو موقف پیش کیا ہے وہ درست ہے۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی سے کوئی بیک ڈور رابطے نہیں ہیں(سکرین گریب)

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ہفتے کو کہا ہے کہ مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الٰہی کے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعلق بیان نے ادارے کے موقف پر سوال اٹھا دیا ہے، جس کی وضاحت ہونی چاہیے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ مونس الٰہی نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے جو بیان دیا ہے اس نے ادارے کے اس موقف پر سوال اٹھا دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ادارے نے غیر سیاسی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق: ’اس پر وضاحت ہونی چاہیے لیکن ہمیں یقین کہ ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی نے جو عوام کے سامنے ادارے کا موقف پیش کیا ہے، وہ درست ہے اور ادارہ اپنے قومی فرض ادا کرے گا تاکہ معاملات بہتری سے آگے بڑھ سکیں۔‘

مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الٰہی نے چند روز قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے دوران سابق آرمی چیف جنرل باجوہ نے انہیں عمران خان کی حمایت کرنے کا کہا تھا۔

وزیر داخلہ نے کہا: ’مونس الٰہی نے یہ بیان دے کر بھٹہ ہی بٹھا دیا ہے۔ باجوہ صاحب اپنی ملازمت کر کے جا چکے ہیں اس لیے ان کا فائدہ اور نقصان اب اہمیت نہیں رکھتا۔‘

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی واپسی سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ بات طے ہے کہ نواز شریف الیکشن سے پہلے ملک واپس آجائیں گے۔

انہوں نے کہا: ’ہم الیکشن میں جائیں گے تو ہم بہتر پوزیشن میں ہوں گے کیونکہ موجودہ مہنگائی کی وجہ گذشتہ چار سال کی حکومت ہے۔ الیکشن میں نواز شریف یہ بات عوام کو سمجھائیں گے۔ یہ بات طے ہے کہ نواز شریف واپس آئیں گے۔ اگر دسمبر میں الیکشن ہوئے تو دسمبر میں آ جائیں گے، جنوری میں ہوئے تو جنوری میں آئیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے یا گورنر کی ایڈوائس سے متعلق ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

’ہم نے ابھی تک اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ اس بارے میں کل بھی اجلاس ہوا ہے اور آج بھی ہو گا، جس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا جس میں میاں نواز شریف کا مشورہ بھی شامل ہو گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی سے کوئی بیک ڈور رابطے نہیں ہیں، مذاکارت کی اگر بات ہوئی یا کوئی فیصلہ ہوا تو سب کے سامنے ہوگا۔‘

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسمبلیوں سے نکلنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’اگر پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی توڑی گئی تو ہم الیکشن کروا دیں گے چاہے وہ جنرل الیکشن ہوں یا ضمنی الیکشن ہو، کیونکہ بلوچستان اسمبلی اور قومی اسبملی قائم رکھی جائے گی جب کہ زرداری صاحب بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ کسی صورت سندھ اسمبلی نہیں توڑیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سیاست میں مذاکرات کے بغیر آپ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ پارلیمانی جمہوریت میں حکومت اور اپوزیشن گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ جمہوریت میں ان دونوں کو چلنا پڑتا ہے۔‘

سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے مذاکرات کے بیان پر رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے کل پہلی بار مذاکرات کی بات کی ہے، کیونکہ وہ 2014 سے کہتے رہے کہ وہ اپنے مخالفین کو نہیں چھوڑیں گے۔ وزیراعظم (شہباز شریف) اس بارے میں اپنے اتحادیوں سے بات چیت کر کے فیصلہ کریں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست