’حکومت خصوصی بچوں کا سکول کھولے فیس اور کرایہ میں دوں گا‘

ضلع بونیر میں خصوصی بچوں کے لیے ایک سکول مختصر مدت تک کھلا رہنے کے بعد اچانک بند کر دیا گیا۔ علاقے کے رہائشی سکول دوبارہ کھولنے کی درخواست کر رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں قوت سماعت و گویائی سے محروم دو بچیوں کے والد نے پیشکش کی ہے کہ اگر حکومت علاقے میں خصوصی بچوں کا تعلیمی مرکز کھولے تو وہ اس کی مالی معاونت کو تیار ہیں۔

بونیر کے علاقے سواڑی کے رہائشی محمد غنی نے بتایا کہ وہ پیشے سے لوہار ہیں اور ان کی دو بیٹیاں 12 سالہ حسنہ اور 10 سالہ خائست قوت گویائی اور سماعت سے محروم ہیں۔

محمد غنی کے مطابق پانچ سال پہلے علاقے میں خصوصی بچوں کے لیے ایک سرکاری سکول کھولا گیا تھا، جس میں ان کی بچیوں نے پانچ ماہ تک پڑھائی کی۔

ان کا کہنا ہے کہ تعلیم سے بچیوں میں کافی سمجھ بوجھ آئی تھی۔

’ہمارے لیے وہ سکول بہت سہولت تھی۔ بچیاں بہت خوش تھیں صبح سویرے اٹھ کر سکول جانے کی وجہ سے نماز پڑھتی تھیں، قران کی تلاوت کرتی تھیں۔‘

محمد غنی نے افسوس سے کہا کہ پانچ سال ہو گئے سکول بند ہے جس کی وجہ وہ نہیں جانتے۔

انہوں نے علاقے کے رکن صوبائی اسمبلی فخر جہان سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے سکول دوبارہ کھلوائیں۔

’اگر ایسا کوئی سکول کھلا تو بچیوں کے مستقبل کے لیے اس کی عمارت کا کرایہ اور اساتذہ کی فیس میں دوں گا۔‘

محمد غنی کے مطابق اس سکول میں کواگئی، طوطا لئی، نگرے، امبیلہ، توروسک، ریگا اور علاقہ چینہ کے تقریباً 35 بچے اور 25 بچیاں پڑھ رہی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ سکول بند ہونے کے بعد وہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے لیے مردان سپیشل ایجوکیشن کمپلیکس بھی گئے لیکن انہیں پتہ چلا کہ مردان میں لڑکوں کا تو ہاسٹل ہے لڑکیوں کا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ مردان تو کیا پورے صوبے میں لڑکیوں کا ہاسٹل نہیں۔

محمد غنی نے کہا ان کی بیٹیاں اگر تعلیم حاصل کر لیں گی تو شعور آئے گا اور اگر انہوں نے کوئی ہنر سیکھا تو سہولت ہو جائے گی۔

ضلع بونیر کی تحصیل چغرزئی ٹوپی گاؤں کے رہائشی نصیب یار چغرزئی نے بتایا کہ ان کا ایک 14 سالہ بیٹا پیدائشی طور پر قوت گویائی اور سماعت سے محروم ہے۔

’اس نے سواڑی میں خصوصی بچوں کے اس سکول میں ایک سال تک پڑھا۔‘

نصیب نے مزید بتایا کہ بعد ازاں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے عمارت کا کرایہ اور عملے کی تنخواہیں ادا نہ کر سکنے کی وجہ بتا کر سکول بند کر دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے بیٹے کو مردان سپیشل ایجوکیشن کمپلیکس میں داخل کروایا کیونکہ وہاں ہاسٹل میں جگہ نہیں تھی۔

نصیب کے مطابق پورے صوبے میں سپیشل بچوں کے لیے کوہاٹ اور مردان میں صرف دو ہاسٹل ہیں۔

’میرا 14 سالہ بیٹا ابھی دوسری کلاس میں پڑھ رہا ہے جو بہت افسوس کی بات ہے۔ میں پھر بھی بہت خوش ہوں کہ میرے بچے کو داخلہ مل گیا۔‘

بونیرکے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 13 سال یا اس سے کم عمر قوت سماعت وگویائی سے محروم بچوں کی کُل تعداد 1188 ہے۔

بونیرکے سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ کے انچارج سید بہادر شاہ نے بتایا کہ پورے ضلعے میں خصوصی بچوں کا کوئی تعلیمی مرکز نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ قوت وسماعت سے محروم بچوں کے لیے صوبائی حکومت نے یہ سکول 2016 میں قائم کیا تھا جسے بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے جون 2018 میں بند کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سکول میں 38 بچے پڑھ رہے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ضلعے میں ذہنی و جسمانی معذور بچوں کے لیے سکول منظور ہو چکا ہے لیکن ابھی تک اس پر عملی کام شروع نہیں ہوا۔

’یتیم بچوں کے لیے بھی ڈیپارٹمنٹ سکول کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ علاقے میں نابینا افراد کے لیے بھی تعلیمی سینٹر کی ضرورت ہے۔‘

(ایڈیٹنگ: بلال مظہر)

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا