دوچ بلوچ خواتین کو معاشی خودمختاری کیسے دے رہی ہے؟

جس طرح بناوٹ اور کشیدہ کاری سے ہر دوچ دوسرے سے مختلف ہے اسی طرح ان کے مختلف نام بھی ہیں جو بلوچستان کی ثقافت، شخصیات اور تاریخی واقعات یا علاقوں کے ناموں سے منسوب ہیں جیسے کہ سسی پنوں، رندانی دیوان، سرمچارے قطار، سبز بات بلوچستان اور زبیدہ جلال وغیرہ

دوچ سے ناصرف بلوچ خواتین اپنے گھر چلاتی ہیں بلکہ کئی طالبات اپنی تعلیم کا خرچہ بھی اسی سے نکالتی ہیں اور معاشرے میں خود کفیل ہیں۔

عابدہ (فرضی نام) چھوٹے بچوں کی ماں ہیں۔ ان میں سب سے چھوٹی ایک شیرخوار بچی ہے۔ ان کے شوہر نشے کی عادی ہیں۔ وہ خود محلے کی عورتوں کے کپڑوں پر کڑھائی کرتی ہیں جس سے ان کے گھر کا گزاراہ ہوتا ہے۔ عابدہ کہتی ہیں ’گھر میں کمانے والا کوئی نہیں۔ میں اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتی ہوں کڑھائی سے گھر چلتا ہے جو کسی کے آگے ہاتھ پھلانے سے بہت بہتر ہے۔‘

بلوچی کپڑوں پر کشیدہ کاری جسے بلوچی میں ’دوچ‘ کہتے ہیں نہ صرف منفرد مقبولیت رکھتا ہے بلکہ اس ہنر سے بلوچستان کے کئی گھر چلتے ہیں۔ بلوچ معاشرے میں جہاں عورتیں روایات، پردہ اور چار دیواری کو اپنے لیے لازمی سمجھتی ہیں تو ایسے ماحول میں کشیدہ کاری کا یہ ہنر گھر گھر روزگار کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

خدیجہ امین جو ایک سماجی کارکن ہیں جو عورتوں کی معاشی خودمختاری کے لیے کوششیں کر رہی ہیں کہتی ہیں کہ ہمارے مرد اس عمل کو ناپسند کرتے ہیں کہ لڑکیاں گھر سے باہر نکل کر کام کریں۔ ’اسی لیے بلوچ لڑکیاں گھروں میں رہ کر کشیدہ کاری کا ہنر سیکھتی ہیں۔‘

خدیجہ کہتی ہیں کہ ’ہماری لڑکیاں بہت باصلاحیت ہیں اسی لیے جب انھیں باہر نکلنے کا موقع نہیں ملتا تو وہ دوچ سیکھ کر اپنی ہنر اور ذہانت کو خوبصورتی کے ساتھ کپڑوں پر نقش کرتی ہیں۔

وحیدہ ایک استانی ہیں، وہ کہتی ہیں ’دوچ سے ناصرف بلوچ خواتین اپنے گھر چلاتی ہیں بلکہ کئی طالبات اپنی تعلیم کا خرچہ بھی اسی سے نکالتی ہیں اور معاشرے میں خود کفیل ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خدیجہ ایک واقعہ بیان کرتی ہیں کہ وہ ایک دیہی علاقے میں تھیں جہاں ایک لڑکی نے بتایا کہ وہ دوچ کی کمائی سے اے، ڈی، ای (ایسوسیٹ ڈگری پروگرام ان ایجوکیشن) کی کورس مکمل کرچکی ہیں۔ اب وہ ایک استانی بننا چاہتی ہیں۔

وحیدہ دوچ کو بلوچ معاشرے میں خواتین کی خود مختاری کی ایک بہترین مثال سمجھتی ہیں۔

عابدہ کے گھر کے ایک کھونے میں کپڑوں کا ڈھیر پڑا ہے جس کی وجہ وہ عید کا سیزن بتاتی ہیں۔ ’سارہ سال کپڑوں کا رش لگا رہتا ہے مگر عید تو خاص ایک سیزن ہے، یہ ایک محنت طلب اور باریک کام ہے اسی لیے جب لوگ کام سے مطمئین ہوں  گے تب آئیں گے ورنہ کچھ لوگ تو معمولی عیب نکال کر مہینوں کی محنت کا صلہ کچھ بھی نہیں دیتے۔ اگر کچھ بولو تو کہتی ہیں ہمیں ہمارا سادہ کپڑا واپس کرو۔‘

بلوچستان میں معاشی پسماندگی، بےروزگاری، نشہ اور حالات سے جہاں نوجوان مرد پریشان ہیں تو وہیں بلوچ عورتوں کی وجہ سے گھروں کے چولہے جل رہے ہیں۔ وحیدہ کہتی ہیں وہ ایسی کئی خواتین کو جانتی ہیں جو تعلیم یافتہ سرکاری ملازمین سے اچھا کماتی ہیں۔ وہ کہتی ہے ’دوچ تو آج کل بہت مہنگا ہوتا جا رہا ہے اس لیے اب تو مجبورا سب کو سیکھنا پڑے گا کیونکہ ایک لاکھ روپے سے زائد تک کی دوچ بھی نکل آئی ہیں۔

جس طرح بناوٹ اور کشیدہ کاری سے ہر دوچ دوسرے سے مختلف ہے اسی طرح ان کے مختلف نام بھی ہیں جو بلوچستان کی ثقافت، شخصیات اور تاریخی واقعات یا علاقوں کے ناموں سے منسوب ہیں جیسے کہ سسی پنوں، رندانی دیوان، سرمچارے قطار، سبز بات بلوچستان اور زبیدہ جلال وغیرہ وغیرہ۔

کم از کم پانچ ہزار سے لے کر لاکھ روپے سے اوپر تک مختلف اقسام، نام اور قیمتوں کے دوچ ہیں جو ناصرف بلوچستان میں سلے اور پہنے جاتے ہیں بلکہ عمان، ایران، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات سے ان کی فرمائشیں آتی ہیں۔

وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل چکا ہے آج مغربی اور دوسرے فیشنز عام ہوچکے ہیں، مگر بلوچی دوچ کی مقبولیت اور پہناوہ میں کمی کی بجائے اضافہ ہونے کے کیا اسباب ہیں؟

 

 

اس سوال کے جواب میں خدیجہ سمجھتی ہے کہ بیرون ملک اس کی مانگ اور سوشل میڈیا، اس کی قدر و قیمت بڑھانے کی بڑی وجہ ہیں کیونکہ اس سے اچھی آمدنی بھی ہوتی ہے اور بلوچ کلچر کی نمائندگی کا احساس بھی ہوتا ہے۔

نورین اور حلیمہ انٹرمیڈیٹ کی طالبات ہیں اور ناصرف اپنے کپڑوں پر خود کڑائی کرتی ہیں بلکہ کرائے پر بھی کپڑوں کی سلائی کرتی ہیں۔ ملنے والی رقم سے اپنے امتحانات اور کوچنگ کلاسز کے فیس بھی ادا کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’ہر کلچر اور ہر طرح کے کپڑے پیارے ہیں مگر بلوچی کپڑوں میں ایک طرح کا فخر محسوس کیا جاتا ہے اور لگتا ہے جیسے ہم بہت سارے ہجوم میں بھی الگ اور منفرد ہوں۔‘

بلوچی کشیدہ کاری کی ماہر عورت کو بلوچی میں ’دوچ گر‘ کہتے ہیں جو کسی ایک گھر یا محلے میں گروپ کی شکل میں ایک دوسرے سے تعاون کرتی ہیں جس سے پیچیدہ اور مشکل ڈیزائن کو مل بانٹ کر مکمل کیا جاتا اور ملنے والی رقوم کو آپس میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں بہترین دوچ کی کشیدہ کاری کے لیے مکران، نوشکی، خضدار اور مستونگ کے علاقے نام رکھتے ہیں۔

مختلف غیرسرکاری تنظیمیں اور وویکشنل ٹرینگ ادارے اب اس ہنر کو عام کرنے اور ترقی دینے کے لیے سرگرم ہیں مگر اس کو ایک پیشہ کے طور پر اختیار کرنے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے بلکہ وحیدہ یہ مشورہ دیتی ہیں کہ حکومت بلوچستان کو چاہیے کہ جس طرح پرائمری کے بعد ڈرائنگ کے مضمون کورس میں شامل ہیں اسی طرح لڑکیوں کے سکولوں میں پرائمری کے بعد دوچ کی بھی ایک کلاس ہونی چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین