کوئٹہ: بے نظیر بھٹو کا مجسمہ تنقید کی زد میں کیوں؟

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر صارفین نے اس کی بناوٹ پر تنقید کرتے ہوئے اسے بے نظیر سے مختلف قرار دیا ہے۔

کوئٹہ کی سمنگلی روڈ پر واقع ایک پارک میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس کے معیار کی وجہ سے پیپلز پارٹی اور سوشل میڈیا صارفین اس پر تنقید کر رہے ہیں۔

یہ مجسمہ اس وقت تنقید کی زد میں آیا جب کسی نے اس کی تصویر سوشل میڈیا پر ڈال دی جو وائرل ہو گئی۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر صارفین نے اس کی بناوٹ پر تنقید کرتے ہوئے اسے بے نظیر سے مختلف قرار دیا ہے۔ مجسمے کے نیچے نصب کرنے کی تاریخ 20 اکتوبر 2012 درج ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما ثنااللہ جتک کا اس مجسمے پر کہنا ہے کہ ’ہمیں افسوس ہے کہ جس رہنما نے پاکستان کے 22 کروڑ عوام کے لیے جان کا نذرانہ پیش کیا، جس کی یاد میں کوئٹہ کے سمنگلی روڈ پر بے نظیر بھٹو پارک بنایا گیا، اس کا مجسمہ انتہائی بدنما ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ یہ مجسمہ کسی بھی طرح بے نظیر بھٹو کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔ ’یہ ہمارے بلوچستان کے فن کاروں کے لیے  بھی سوالیہ نشان ہے کہ وہ اتنے کمزور اور ضعیف ہوچکے ہیں کہ وہ بے نظیر کا اچھا سا مجسمہ نہ بناسکیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں اپیل کرتا ہوں کنٹونمنٹ بورڈ اور ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ سے کہ وہ اس کو فوری طور پر ہہاں سے ہٹادیں۔ یہاں پر بڑے اچھے فن کار موجود ہیں۔ جو بے نظیر بھٹو کا مجسمہ بہت خوبصورت اور ان کی درست عکاسی کرنے والا بنا سکتے ہیں۔‘

جہاں اس مجسمے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور لوگ اس کو دیکھنے آرہے ہیں وہیں سوشل میڈیا پر لوگ اس کی بناوٹ اور چہرے کے نقوش پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔

ٹوئٹر پر ایک خاتون صحافی وینگس نے یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے لگایا جانے والا بے نظیر بھٹو کا یہ مجسمہ بدنما ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست