مجسمہ ہٹا دیا تو کیا تاریخ بدل جائے گی؟

یہ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ مجسمے توڑنے اور سڑک کا نام بدلنے سے تاریخ نہیں بدلتی، وہ تو ویسے کی ویسی رہتی ہے۔

 لاہور میں رنجیت سنگھ کا مجسمہ جسے اگست 2021 میں ایک شخص نے ہتھوڑے مار کر گرا دیا تھا (لاہور پولیس) 

کیا مجسمے کو ہٹائے جانے سے تاریخ مٹ جاتی ہے؟ نہیں، بلکہ اس کے نتیجے میں اس سے بھی اہم پہلو سامنا آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایسا کرنے سے ہم تاریخ کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔

ہم سوچتے ہیں کہ جس کا مجسمہ ہٹایا گیا ہے وہ کون تھا، اس نے ایسا کیا کیا کہ اس کا مجسمہ نصب کیا گیا، کیا انھوں نے جو کیا وہ کیا بہت غلط یا بہت اچھا تھا، اس کا مجسمہ کیوں ہٹایا گیا؟

مجسمے ہٹانے کو ’تاریخ ختم‘ کرنے کے مترادف نہیں کیا جا سکتا۔ مجسمے ہٹانے سے معاشرے کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ معاشرہ یا سوسائٹی میں کیا تبدیلی آ رہی ہے اور کس سمت جا رہی ہے۔ ہم چوکوں اور پارکوں اور دیگر جگہوں پر نصب مجسموں سے دور جا رہے ہیں اور اس بات سے دور جا رہے ہیں کہ وہ مجسمے کس بات کی ترجمانی کرتے ہیں جن کو پسند کیا جانا چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے۔

اگر آپ سوچ رہے ہوں کہ یہ مجسموں کی بات کہاں سے آ گئی تو میرا اشارہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں مقامی انتظامیہ کی جانب سے چوک پر لگائے گئے سکھ فوج کے ایک جرنیل ہری سنگھ نلوہ کے مجسمے کو ہٹا دینے کی خبر کے بارے میں ہے۔

ہری سنگھ کے مجسمے کو ہٹائے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں چند افراد کو رات کے وقت چوک میں لگے گھوڑے پر بیٹھے ہری سنگھ کے مجسمے کو ہٹاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

پولیس کے مطابق ’ہری سنگھ نلوہ کا مسجمہ سیاسی افراد نے لگایا تھا انہی نے ہٹایا۔ چوک میں مجسمہ لگانے اور ہٹانے کی منظوری مقامی انتطامیہ نے دی۔‘

اطلاعات کے مطابق چند برس قبل ہری پور کے عوامی سماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے ہری سنگھ نلوہ کے مجسمے کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

سماجی حلقوں کے مطالبے پر ہری پور چوک کا نام تبدیل کر دیا گیا تھا اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ چوک سے گھوڑے کو ہٹایا جائے اور نئے نام کی تختی لگائی جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ابھی چند ماہ قبل ہی لاہور میں شاہی قلعے کے باہر نصب مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مجسمے کو ایک شخص نے گرا دیا تھا۔

ایک شخص نے مجسمے پر ہتھوڑے سے حملہ کیا اور اسے نقصان پہنچایا۔ یہ شخص سفید شلوار قمیض میں ملبوس مجسمے کے قریب  کھڑا رہا اور اس کا بغور جائزہ لیتا رہا اور پھر اچانک مجسمے کے گرد جنگلے کو پھلانگ کر مجسمے کو ہتھوڑے مارنے لگا اور اس کو گرا دیا۔ یہ شخص مجسمہ گراتے وقت نعرے بھی لگاتا رہا۔

2019 میں نصب کیے گئے اس مجسمے پر کئی بار حملے ہو چکے ہیں۔ 2020 میں انڈیا کے کشیمر کو اپنا حصہ بنانے کے عمل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اور رنجیت سنگھ کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے دو افراد نے اس مجسمے کو نقصان پہنچایا۔

اس سے قبل ایک شخص نے مجمسے پر حملہ کیا اور ایک بازو توڑ دیا۔ اس کا موقف تھا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ انھوں نے مسلمانوں کے خلاف مظالم ڈھائے تھے۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کا یہ مجسمہ ان کی 180ویں برسی پر نامور سکھ ادیب، تاریخ دان اور فلم میکر بوبی سنگھ بنسال نے بنوایا تھا۔ اس مجسمے کی رونمائی مائی جنداں حویلی میں کی گئی تھی۔ بعد ازاں اسے لاہور کے شاہی قلعے کے باہر منتقل کر دیا گیا تھا۔

مجسمہ تو دور کی بات یہاں تو نام رکھنے پر بھی واویلا مچ جاتا ہے۔ سنہ 2013 میں لاہور میں ایسا ہی ہوا۔ لاہور میں شادمان کے علاقے میں فوارہ چوک کا نام مشہور سکھ انقلابی بھگت سنگھ پر رکھنے کی تجویز دی گئی۔ نام تجویز کرنے والوں کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے ایک ہیرو کی خراج تحسین پیش کیا جا سکے گا، وہ ہیرو جو موجودہ لسانی اور فرقہ واریت سے بالاتر ہے۔ لیکن ایسا کیسے ہو سکتا تھا۔ مذہبی انتہا پسندوں کا دباؤ بڑھتا گیا اور یہ نہ نام نہ رکھا جا سکا۔

مجسموں کا ہٹائے جانے سے تاریخ ختم ہو جاتی ہے کیونکہ انہی مجسموں کے باعث آئندہ آنے والی نسلیں تاریخ کے ان اوراق کو یاد رکھتی ہیں جن کا تذکرہ یہ مجسمے کرتے ہیں۔

یہ مجسمے نہ تو ہٹائے جائیں اور نہ ہی ان کو کسی اور جگہ منتقل کیا جائے۔ یہ مجسمے سوچ بچار کے بعد لگائے جاتے ہیں اور انتہا پسند سوچ رکھنے والے افراد کے ہاتھوں مقامی انتظامیہ یرغمال نہ بنے اور مجسمے اپنی جگہ سے نہ ہٹائیں۔

مقامی انتظامیہ اس مجسمے کو ہٹانے کے لیے تیار کیسے ہو گئی؟ کیا اس کا لگانا ہی غلط تھا؟ کیا اب چوراہوں اور سڑکوں پر کیا نصب ہو گا اور ان کا کیا نام ہو گا، اس کا فیصلہ چند انتہا پسند خیالات رکھنے والے افراد کریں گے؟

ضلع ہری پور میں اس مجسمے کو 2017 میں نصب کیا گیا۔ نصب کرتے وقت دعویٰ کیا گیا کہ اس مجسمے سے مذہبی رواداری اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔ لیکن اس مذہبی رواداری کے اقدام کو اتنی شہرت نہ ملی جتنی کہ اس رواداری کے خاتمے کو ملی۔ پاکستان کیا دنیا بھر میں اس مجسمے کو ہٹائے جانے کے بارے میں خبریں شائع ہوئی ہیں۔

یہ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ مجسمے توڑنے اور سڑک کا نام کسی پر مسلمان کے نام پر رکھنے سے تاریخ کو بدلا نہیں جا سکتا۔ ہم کیوں نہیں اتنا ظرف رکھتے کہ تاریخ کو قبول کریں۔ آخر ہم کو کیوں نے سمجھ میں آتا کہ لاہور کا نام آئے گا تو مہاراجہ رنجیت سنگھ کا نام بھی آئے گا کہ یہ نام کسی مجسمے کا محتاج نہیں۔

اس طرح ہری پور کا ذکر جب بھی آئے گا، ہری سنگھ نلوا کا ذکر ضرور ہو گا، چاہے مجسمہ لگا رہے یا نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ