پنجگور: نواب اکبر بگٹی کا اونٹ موجود، مجسمہ غائب

ایئرپورٹ روڈ پر تار آفس کے قریب فائبر گلاس سے بنا یہ مجسمہ  14 یا 15 سال قبل نصب کیا گیا تھا، جس میں نواب اکبر خان بگٹی کو ایک فل سائز اونٹ پر سوار دکھایا گیا تھا۔

اونٹ تو اپنی جگہ موجود ہے، لیکن نواب اکبر بگٹی کا مجسمہ غائب ہے (فوٹو: انڈپینڈنٹ اردو)

بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع پنجگور میں ایئرپورٹ روڈ پر معروف قبائلی نواب اور سیاست دان اکبر خان بگٹی کا نصب کیا گیا مجسمہ غائب ہو گیا ہے۔

تار آفس کے قریب فائبر گلاس سے بنا یہ مجسمہ 14 یا 15 سال قبل نصب کیا گیا تھا، جس میں نواب اکبر خان بگٹی کو ایک فل سائز اونٹ پر سوار دکھایا گیا تھا، لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ اونٹ تو اپنی جگہ موجود ہے، لیکن نواب اکبر بگٹی کا مجسمہ غائب ہے۔

سٹی تھانہ پنجگور کے ایس ایچ او امیر جان کہتے ہیں کہ انہیں طلاع ملی ہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی بارشوں کے دوران یہ مجسمہ گر گیا تھا اور بعد میں غائب ہو گیا۔

امیر جان نے بتایا: ’ہمارے پاس صرف مجسمہ غائب ہونے کی اطلاع ہے، لیکن ابھی تک کسی نے اس حوالے سے کوئی اطلاعی رپورٹ یا مقدمہ درج نہیں کروایا۔ اگر کوئی درخواست دیتا ہے تو اس پر کارروائی شروع کر دی جائے گی۔‘

نواب اکبر خان بگٹی معروف سیاست دان اور بگٹی قبیلے کے سربراہ تھے۔ وہ گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان کےعہدے پر فائز رہ چکے تھے۔ 2006 میں تراتانی کے علاقے میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں ہونے والے ایک آپریشن کے دوران اکبر بگٹی مارے گئے تھے۔

کوئٹہ میں معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا قد آدم مجسمہ بنانے والے ماہر مجسمہ ساز اسحاق لہڑی نے بتایا کہ پنجگور میں نواب اکبر بگٹی کا مجسمہ اور اونٹ فائبر گلاس کا بنا ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’یہ مجسمہ لوہے کا نہیں تھا کہ کوئی اسے اس خیال سے نکال لے کہ اس سے اسے کوئی فائدہ مل جائے گا۔‘

واضح رہے کہ بلوچستان کا ضلع پنجگور، جہاں یہ مجسمہ نصب تھا، شورش سے بھی متاثر ہے اور یہاں پر مسلح مزاحمت کار تنظمیں بھی فعال ہیں، جو اکثر و بیشتر سکیورٹی فورسز پر حملے کرتی رہتی ہیں۔

اسحاق لہڑی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ فائبر گلاس کے مجسمے کو بنانے میں، جیسے یہ اونٹ اور اکبر بگٹی کا مجسمہ تھا، تین سے چار مہینے اور لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مجسمے کو بنانے میں ریزن، جیل کوٹ اور فائبر میٹ استعمال ہوتا ہے، جسے مختلف سانچوں میں ڈھالا جاتا ہے۔ پہلے مٹی میں بنایا جاتا ہے، پھر پلاسٹر سے مولڈ نکال کر اس میں فائبر گلاس لگا کر کاسٹ نکالتے ہیں، جس کو جوڑنے کے بعد مطلوبہ شکل بن جاتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پہلا واقعہ نہیں!

یہ پہلا واقعہ نہیں کہ ملک میں کسی مجسمے کو نقصان پہنچایا گیا ہو۔ اس سے قبل بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں میرین ڈرائیو پر نصب قائداعظم محمد علی جناح کے مجسمے کو بھی نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچایا تھا۔

گوادر میں اس کے بعد اب اسی جگہ قائد اعظم اور علامہ اقبال کی تصویروں والا چبوترہ بنا کر اس کے اوپر قرآنی آیات کا نقش لگا دیا گیا ہے۔

اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سابق ہاکی چیمپیئن سمیع اللہ کے مجسمے سے پہلے ہاکی اور پھر بال غائب کی گئی۔

بلوچستان میں زیارت ریڈنسی میں بھی قائد اعظم محمد علی جناح  کے دو مجسمے بنائے گئے ہیں، جن میں سے ایک فل سائز اور ایک آدھے سائز کا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان