بس میں اجتماعی زیادتی کے بعد قتل، جس نے انڈیا کو ہلا دیا

دس سال قبل دسمبر کی ایک شام دہلی کی ایک بس میں 23 سالہ جیوتی سنگھ کو چھ حملہ آوروں نے ریپ کرنے کے علاوہ زخمی بھی کیا تھا۔

16 دسمبر 2012 کو دہلی کی بس میں ایک نوجوان خاتون کے اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کے واقعے نے نہ صرف انڈیا اور دنیا کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ خواتین کے خلاف جنسی جرائم کی جانب بھی توجہ مبذول کروائی۔

اس واقعہ کے دس سال مکمل ہونے پرفرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے دسمبر 2012 کی اس شام پیش آنے والے واقعات اور ان کے نتائج کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔

ہوا کیا تھا؟

23 سالہ جیوتی سنگھ دسمبر کی ایک اتوار کی شام اپنے ایک مرد دوست کے ساتھ سنیما میں فلم ’لائف آف پائی‘ دیکھنے کے بعد گھر لوٹنے کے لیے بس میں سوار ہوئیں۔

چھ حملہ آوروں نے لڑکی کے مرد دوست کو مار کر بے ہوش کر دیا اور جیوتی سنگھ کو گھسیٹتے ہوئے گاڑی کے پچھلے حصے میں لے گئے، جہاں انہوں نے لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور دھاتی راڈ  سے تشدد کیا،  جبکہ بس دہلی کی تاریک گلیوں میں گھومتی رہی۔

تقریبا ایک گھنٹے بعد، لڑکی اور اس کے دوست کو بس سے نیچے پھینک دیا گیا۔

جیوتی سنگھ اپنے حملہ آوروں کی شناخت کرنے تک زندہ رہیں لیکن 15 دن بعد سنگاپور کے ایک ہسپتال میں اندرونی چوٹوں کی وجہ سے ان کی موت واقع ہو گئی۔

بھارتی میڈیا نے انہیں ’نربھیا‘ (’بے خوف‘) کا لقب دیا اور وہ خواتین کے خلاف جنسی تشدد سے نمٹنے میں سماجی طور پر قدامت پسند ملک کی ناکامی کی علامت بن گئیں۔

تحقیقات

پولیس نے بس کے ڈرائیور کا سراغ لگا کر اور اسے اور تین دیگر افراد کو 18 دسمبر کو گرفتار کر لیا۔ باقی دو حملہ آوروں کو بھی ایک ہفتے کے اندر گرفتار کر لیا گیا۔

پانچ بالغوں اور ایک نابالغ پر فروری 2013 میں عدالت نے 13 جرائم کا الزام عائد کیا۔

ایک ماہ بعد مرکزی ملزم رام سنگھ اپنی جیل کی کوٹھری میں مردہ حالت میں پایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود کشی کی ہے لیکن ان کے اہل خانہ اور وکیل نے قتل لا الزام عائد کیا۔

اسی برس اگست میں نابالغ فرد کو بھی جنسی زیادتی اور قتل کا قصوروار پاتے ہوئے اصلاحی مرکز میں تین سال کی سزا سنائی گئی تھی۔

باقی چار بالغوں کو بھی جرم ثابت ہوئے پر موت کی سزائیں سنائی گئیں، اور کئی سالوں کی قانونی جنگ کے بعد انہیں 2020 میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

متاثرین اور ملزمان

اس حملے سے قبل جیوتی سنگھ کے والد نے اپنے خاندان کو ایک گاؤں سے دہلی منتقل کیا تھا اور وہ دہلی ہوائی اڈے پر سامان سنبھالنے والے کے طور پر کام کرتے تھے۔

جیوتی کے والدین کو امید تھی کہ وہ ملازمت کرنے والی خاندان کی پہلی لڑکی بنے گی، اسی لیے تمام مالی وسائل فزیوتھراپی کالج میں ان کی تعلیم پر خرچ کیے گئے تھے۔

اپنے خاندان کی معمولی آمدن میں اضافے کے لیے انہوں نے ایک کال سینٹر میں کام کیا اور پرائیویٹ طور پر بچوں کو پڑھایا۔

بس میں سوار افراد رام سنگھ، مکیش سنگھ، ونے شرما، اکشے ٹھاکر اور پون گپتا ایک جھونپڑی میں رہتے تھے، اور ان میں ایک بس کی صفائی کرنے والا، جم اسسٹنٹ، ایک پھل فروش اور ایک سکول سے بھاگا ہوا شامل تھے۔

جنسی تشدد

تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، انڈیا میں گذشتہ سال جنسی زیادتی کے 31 ہزار 677 مقدمات درج کیے گئے، جن کی اوسط 86 مقدمے روزانہ بنتی ہے، جبکہ 2020 میں گذشتہ سال کی نسبت تقریبا 13 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

لیکن شاید اور بھی بہت سے متاثرین ہیں جو سامنے آنے سے ڈرتے ہیں۔

جیوتی سنگھ کے کیس پر دہلی اور دیگر جگہوں پر ہزاروں افراد پر مشتمل بڑے پیمانے پر مظاہرے پھوٹ پڑے، جن میں بعض اوقات تشدد بھی ہوا۔

اس نے انڈیا میں سوچ بچار کو جنم دیا، جہاں پدرسری رویوں کا اب بھی راج ہے اور لڑکیوں کو اکثر مالی بوجھ سمجھا جاتا ہے، اور زیادہ تر شادیاں والدین کی مرضی سے ہوتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر خواتین میں آگے آنے کی ہمت ہو، ان پر تشدد کا قصوروار بھی اکثر انہی کو ٹھہرایا جائے تو انصاف کا حصول مشکل ہو سکتا ہے۔

ایسے رویوں سے نچلی ذات کی لڑکیاں اور عورتیں غیر متناسب طور پر متاثر ہوتی ہیں۔

سخت سزائیں

انڈین حکومت نے اس واقعے کے بعد دباوٗ میں آ کر جنسی زیادتی کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں اور عادی مجرموں کے لیے موت کی سزا مقرر کی۔

متعدد نئے جنسی جرائم متعارف کروائے گئے جن میں تعاقب کرنا اور جنسی زیادتی کی شکایات درج نہ کرنے والے عہدیداروں کے لیے جیل کی سزائیں شامل ہیں۔

مزید سی سی ٹی وی کیمرے اور سٹریٹ لائٹس لگائی گئیں اور جنسی زیادتی کے بعد بچ جانے والوں کے لیے مراکز قائم کیے گئے، جہاں وہ قانونی اور طبی مدد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

لیکن جنسی زیادتی کے ہزاروں مقدمات بھارت کے قانونی نظام میں اٹکے ہوئے ہیں، اور خواتین کے خلاف ہولناک جرائم رپورٹ بھی ہو رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین