ٹی ٹی پی کو افغانستان سے مدد ملی تو تعلقات کے لیے برا ہو گا: بلاول

وزیر خارجہ کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں ابھی بھی یہ مناسب ہو گا کہ ہم افغان طالبان سے بات کریں اور ہم یہی پیغام بھیجتے رہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کی ریڈ لائن ہے، ہم ان کے خلاف اپنی سرزمین پر سخت ایکشن لیں گے اور لے رہے ہیں۔‘

 وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اکتوبر 2022 میں کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران (اے ایف پی)

پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو ملک کی ’ریڈ لائن‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف ’سخت ایکشن لیں گے اور لے رہے ہیں۔‘

بدھ کو واشنگٹن میں امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے سوال کیا کہ کیا حالیہ حملوں کے بعد ٹی ٹی پی سے مذاکرات ہو سکتے ہیں؟

سوال میں مزید پوچھا گیا تھا کہ ’پاکستان نے رواں برس جون یا جولائی میں، جب جنرل (ر) فیض حمید کور کمانڈر پشاور تھے، طالبان سے مذاکرات شروع کیے تو آپ (بلاول بھٹو) نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ کو آن بورڈ نہیں لیا گیا، لینا چاہیے تھا، اب بنوں میں دو دن تک محاصرہ کیا گیا، آج آپ کی دو اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں محسن داورڑ اور ایمل ولی سے میں نے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ہر طرف دہشت گرد پھیلے ہوئے ہیں اور پارلیمنٹ کو علم ہی نہیں۔‘

اس سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا: ’میرے مطالبات کے بعد، میری ضد کے بعد ہم اس ایشو کو پارلیمان میں لے کر آئے تھے۔ جنرل فیض اور جنرل باجوہ آئے تھے۔ ہمیں پورا طریقہ کار سمجھایا تھا۔ اس میٹنگ میں میرے بہت سے خدشات تھے مگر یہ سلسلہ اچھا تھا کہ وہ پارلیمان کو رپورٹ کر رہے تھے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہم تنبیہ کر رہے تھے، نہ صرف اس ملاقات میں مگر اس سے دو تین دفعہ پہلے بھی، ہم بار بار کہتے رہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ دہشت گردی کو چھوڑ رہے ہیں، پاکستان کا آئین مان رہے ہیں۔‘

وزیر خارجہ کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں ابھی بھی یہ مناسب ہو گا کہ ہم افغان طالبان سے بات کریں اور ہم یہی پیغام بھیجتے رہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کی ریڈ لائن ہے، ہم ان کے خلاف اپنی سرزمین پر سخت ایکشن لیں گے اور لے رہے ہیں۔‘

بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر انہیں (ٹی ٹی پی کو) اس طرف (افغانستان) سے کوئی مدد یا سہولت ملی تو یہ ہمارے تعلقات کے لیے برا ہو گا۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’ہم اپنے ہمسایہ ملک سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کے خلاف نیت اور صلاحیت دکھائیں گے کیونکہ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے۔ پاکستان کا مسئلہ ٹی ٹی پی کا ہے۔ چین کو مشرقی ترکستان اسلامی تحریک (ای ٹی آئی ایم) سے ہے۔ افغان طالبان کا اپنا مسئلہ داعش کا ہے۔‘

افغان امن عمل اور ٹی ٹی پی کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا: ’میری مرضی تو نہیں تھی، نہ کسی نے مجھ سے پوچھا کہ ہم دوحہ جا رہے ہیں، طالبان سے براہ راست بات کر رہے ہیں۔ یہ سب چیزیں میرے آنے سے پہلے طے ہو چکی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’جب میں نے وزیر خارجہ کا منصب سنبھالا تو مجھے اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑا کہ افغانستان میں برسر اقتدار تحریک طالبان افغانستان ہے۔ میں نے جب یہ منصب سنبھالا، میرے آنے سے پہلے، میرے سخت اعتراض اور احتجاج کے باوجود۔۔۔ جب بھی قومی سلامتی بریفنگ ہوئی، وہاں میں نے سختی سے اس پالیسی کی مخالفت کی کہ ہم ٹی ٹی اے (افغان طالبان) کے ذریعے ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) سے بات کریں گے اور اس خوش فہمی میں ہوں گے کہ وہ پرامن لوگ ہیں، سارے واپس آئیں گے اور کہیں گے پاکستان زندہ باد اور پاکستان کا آئین زندہ باد اور ہتھیار پھینکیں گے۔‘

بلاول کا کہنا تھا کہ ’یہ سارے فیصلے ہمارے آنے سے پہلے ہوئے۔ اس تناظر میں، میں نے زور دیا کہ ہم افغانستان سے ضرور بات کریں کیونکہ وہ ہمارا ہمسایہ ہے۔۔۔ ان سے بات کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان کی پالیسی کی توثیق کرتے ہیں۔

’افغانستان ہمارا ہمسایہ ہے، ان سے ہمیں بات چیت کرنی ہوگی، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 90 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں جس سے نہ صرف افغانستان بلکہ میرے ملک کے مسائل میں بھی اضافہ ہوگا۔‘

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے، جب حالیہ دنوں میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

گذشتہ ماہ کے آخر میں کالعدم ٹی ٹی پی نے حکومت کے پاکستان کے ساتھ جاری عارضی جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان کو دہشت گردی کے ایک چیلنج کا سامنا ہے اور خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں شامل ہے، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے گذشتہ دنوں ایک بیان میں کہا تھا کہ ایک سال میں صرف پختونخوا میں دہشت گردی کے 300 واقعات ہوئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان