ہم کتنی زہریلی ہوا میں سانس لے رہے ہیں؟

فضائی آلودگی کے حوالے سے شرح بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ انسانی عمر میں 5.3 سال کی اوسط کمی ہوئی ہے۔ پاکستان کے سب سے متاثرہ شہروں میں لاہور، پشاور، گجرانوالہ، ملتان، سیالکوٹ، اور فیصل آباد شامل ہیں۔

لاہور، 3 جنوری، 2023: مزدور سموگ کے درمیان پھلوں کے ڈبے لے کر جاتے ہوئے (اے ایف پی)

پاکستان اس وقت شدید فضائی آلودگی کا شکار ہے۔ ہر دوسرا شخص کھانس رہا ہے۔ کوئی نظام تنفس کی بیماریوں کا شکار ہو رہا ہے تو کوئی پھیپھڑوں کے سرطان سے لڑ رہا ہے تو کوئی ٹی بی میں مبتلا ہے۔

کچھ لوگ مستقل طور پر دل کے امراض خشک کھانسی، دمہ، الرجی اور سانس لینے میں دقت کی شکایت کر رہے ہیں۔ اگر عالمی ادارہ صحت کے مطابق ان بیماریوں کی وجوہات دیکھیں تو ان کے ہونے کے عوامل میں ایک بڑی وجہ فضائی آلودگی ہے۔

ہماری فضا مختلف گیسز کا مجموعہ ہے۔ ہوائی کرہ چار پرتوں پر مشتمل ہے جن میں حرارتی کرہ، کرہ میانہ، کرہ قائمہ اور کرہ اول شامل ہے۔ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے فضائی کرہ میں ان گیسوں کا تناسب تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اس میں وہ گیسز شامل ہو رہی ہیں جو مضر صحت ہیں اور ماحولیاتی آلودگی بڑھا رہی ہیں۔

ماحولیاتی آلودگی سے مراد فضا میں دھواں گرد و غبار مضر گیس کا شامل ہونا ہے۔ اس کے بہت زیادہ ماخذ ہیں جس میں کارخانوں اور ٹریفک کا دھواں، کوڑا کرکٹ کو جلائے جانا، ایندھن سے پیدا ہونے والا دھواں، فصلوں کی باقیات کا دھواں، آگ اور سی ایف سی گیسز وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلحہ، جنگیں، آتش بازی، بارود، اور دیگر انسانی سرگرمیاں بھی ماحول کو آلودہ کررہی ہیں۔

سردی کے موسم میں پاکستان کے میدانی علاقوں میں فوگ کے ساتھ سموگ بھی آجاتی ہے جو کہ بہت مہلک ہے۔ پچاس کی دہائی میں لندن میں سموگ پھیلی تھی جس سے ہزاروں اموات ہوئی تھیں۔ اس کی وجہ سے سلفر ڈائی آکسائیڈ کی فضا میں مقدار بڑھنا تھا۔ اسی طرح کی سموگ کچھ سال قبل لاہور اور نیو دہلی میں پھیل گئی تھی جس کا حل نکالنے کے بجائے دونوں ملک ایک دوسرے پر الزام لگانے لگے۔ حالان کہ دونوں ممالک کو ماحولیات کے تحفظ کے لئے اقدام کرنا چاہیے تھے۔

پاکستان میں امریکہ کا سفارت خانہ روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کے چار بڑے شہروں کی ہوا کی کوالٹی کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہیں۔ یہ ایک پورا سسٹم ہے جو کہ عالمی طور پر کام کر رہا ہے جس کے تحت ہوا کے معیار کو چھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

گرین اچھے کی کیٹیگری میں آتا ہے۔ یہ صفر سے 50 کے انڈیکس پر ہوتی ہے۔ یہ ہوا کی کوالٹی بہترین ہوتی ہے۔ اس کے بعد یلو (پیلی) کیٹیگری متعدل ہوتی ہے جو 51 سے 100 تک ہوتی ہے۔ یہ ہوا بھی قابل قبول ہے لیکن ان لوگوں کے لئے رسک ہے جو ماحولیاتی آلودگی سے متاثرہ ہوں۔

پھر اورنج (نارنجی) رنگ آتا ہے جس کے انڈیکس کی قدر 101 سے 150 ہے۔ یہ ہوا حساس لوگوں کے لئے مضر صحت ہے اور عام عوام بھی اس متاثر ہو سکتے ہیں۔

ریڈ (لال) کیٹیگری غیر صحت بخش میں آتی ہے۔ یہ 151 سے 200 کے درمیان ہوتی ہے۔ یہ ہوا عام عوام اور حساس افراد کی صحت پر مضر اثر ڈالتی ہے۔

پرپل (جامنی) کیٹیگری بہت زیادہ مضر صحت ہے۔ یہ 201 سے 300 پر ہے۔ یہ ایک ہیلتھ الرٹ ہے جس سے تمام لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

میرون بھی خطرناک صورتحال ہے جس میں 301 سے اوپر انڈیکس ہوتا ہے۔ یہ ایک ایمرجنسی صورتحال ہے۔

یو ایس ایئر کوالٹی انڈیکس ایک ایسا نظام ہے جو روز کی ایئر کوالٹی بتاتا ہے تاکہ لوگ آلودگی سے بچاؤ کے لئے اقدامات کر سکیں۔

ویسے تو یہ 1999 سے کام کر رہا ہے تاہم پاکستان میں اس حوالے سے پہلا مانیٹر 2019 میں لگایا گیا لیکن امریکی سفارت خانے کے مطابق سٹیٹ ڈیپارنمٹ عالمی اقدامات اور یو ایس ماحولیاتی پروٹیکشن ایجنسی نے 2019 میں ریگولیٹری گریڈ ایئر کوالٹی مانیٹر پاکستان میں امریکی ایمبیسی میں انسٹال کیے گئے۔ سب سے پہلے یہ اسلام آباد میں نصب ہوا۔ اس کے بعد کراچی لاہور اور پشاور میں بھی لگایا گیا۔ امریکہ نے دنیا بھر میں 60 ایئر کوالٹی گریڈ نصب کیے جس میں چار پاکستان میں نصب ہیں۔

6 جنوری کو امریکا کے پاکستان میں سفارت خانے کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار دیکھیں تو اس وقت پشاور میں 373 اے کیو آئی ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ایمرجنسی صورتحال ہے جس سے ہر طرح کے عوام متاثر ہوتے ہیں۔ اسی طرح اگر کراچی کی طرف دیکھیں تو اس وقت ایک سو تیرہ اے کیو آئی پر ہے جو غیر صحت بخش ہے۔ لاہور میں اس وقت 434 ہے جو کہ ایک سنگین ماحولیاتی ایمرجنسی کی صورتحال سے بھی اوپر ہے۔ اسلام آباد میں اے کیو آئی  273 پر ہے جو کہ مضر صحت ہے۔

یہ سب صورتحال بہت سنگین ہے۔ اس کا اثر عوام پر دور رس بھی ہو گا اور ابھی بھی وہ اس کی وجہ سے بیمار ہوں گے۔

امریکی ادارہ ایئر ناو کے مطابق یہ ایئر انڈیکس کاربن مونوآکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ، اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کو خاص طور پر مانیٹر کرتا ہے۔ اس سے 24 گھنٹے کی رپورٹ شائع کی جاتی ہے۔ اس کو شائع کرنے کے لئے سیٹلائٹ موسمیاتی پیش گوئی ایئر مانیٹرنگ ڈیٹا کی مدد لی جاتی ہے۔

نظیفہ بٹ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ساتھ منسلک ہیں اور وہ سینیئر منیجر کلائمیٹ اور انرجی بروگرام ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انوائرمینٹل انڈیکس 2002 کے مطابق پاکستان دنیا کے آلودہ ترین ممالک میں سے ایک ہے۔

فضائی آلودگی کے حوالے سے شرح بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ انسانی عمر میں 5.3 سال کی اوسط کمی ہوئی ہے۔ پاکستان کے سب سے متاثرہ شہروں میں لاہور، پشاور، گجرانوالہ، ملتان، سیالکوٹ، اور فیصل آباد شامل ہیں۔ وہ کہتی ہیں پنجاب سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے، اس میں فضائی آلودگی اس حد تک بڑھ جاتی ہے اور ایئر کوالٹی انڈکس چار سو تک چلا جاتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ٹریفک، کارخانے، ایندھن کی وجہ سے اور فصلوں کو جلانے سے فضائی آلودگی بڑھتی ہے۔ اس کے ساتھ کوئلہ، معدنیات، آئل، گیس، کچرا جلانا بھی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہے۔

وہ کہتی ہیں یہ صرف پاکستان میں نہیں انڈیا میں بھی یہ ہوتا ہے وہاں بہت فصلیں جلائی جاتی ہیں، ہوا کے رخ کی وجہ سے دھواں یہاں آجاتا ہے۔

فضائی آلودگی سے بچنے کے لئے وہ کہتی ہیں ہم ماحولیاتی آلودگی ایئر فلٹر لگا سکتے، ائیر پیوریفائرز استعمال کریں، فیس ماسک پہنیں، ان ڈور پلانٹ لگائیں جس میں کیکٹس، ایلوویرا، اسپئڈر پلانٹ لگائیں جائیں۔ جب فضا زیادہ آلودہ ہو تو کم گھر سے باہر جائیں واپس آئیں تو منہ ہاتھ دھوئیں۔ ترش پھل کھائیں، پانی پئیں۔ کوڑا کرکٹ نا جلائیں اور صفائی کا خیال رکھیں۔

حکومت مزید اقدامات کرے۔ جو لوگ آلودگی میں اضافہ کریں ان کو جرمانے کریں۔ اس کے ساتھ جو لوگ باہر ڈیوٹی کرتے ہیں جیسے ٹریفک وارڈن ان کو اینٹی سموگ کٹ دی جائیں۔ حکومت خود بھی ایئر کوالٹی انڈیکس جاری کرے تاکہ لوگ محتاط رہیں۔ گرین ایریاز کو بڑھایا جائے، ایکو فرینڈلی فیول استعمال کریں۔ لوگوں میں آگاہی بڑھائیں تاکہ فضائی آلودگی کم ہو سکے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ