جن سینیٹرز کے ’ضمیر‘ جاگے ان کے نام کبھی سامنے آئیں گے؟

اگر پرویز رشید اور رضا ربانی نے پارٹی کے خلاف ووٹ دینے والے اپنے سینیٹرز کے نام چھپائے تو تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔

(اے ایف پی فائل فوٹو)

پچھلے ہفتے کی دو خبریں بہت اہم تھیں ایک کا براہ راست عوام سے تعلق تھا اور دوسری سے اس کا دور دور تک کچھ لینا دینا نہیں تھا۔

پہلی خبر یہ تھی کہ پیٹرول کی قیمت پانچ روپے اضافے کے بعد پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ دنیا میں تیل کی قیمت میں کمی آئی ہے۔ مگر یہ پہلا ریکارڈ نہیں ہے۔ اسی حکومت کا یہ بھی ریکارڈ ہے کہ ڈالر کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور قرضے بھی دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں۔

عمران خان کو ایک کھلاڑی ہونے کی وجہ سے ویسے بھی ریکارڈ پسند ہیں اور ان کی حکومت روز نئے ریکارڈ بنا رہی ہے۔ ان تمام ریکارڈز کا عوام کی زندگی سے براہ راست تعلق ہے۔

دوسری خبر یہ تھی کہ ایک دفعہ پھر سیاسی کھلاڑیوں نے مل کر تیسرے ایمپائر کے چنیدہ سینیٹ چیئرمین کو ان کی پوزیشن پر بحال رکھا۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں نے مل کر خوب کھیل کھیلا اور جب کھیل ختم ہو گیا تو گھر جانے کے بجائے خوب زور زور سے دعوی کیا کہ پوشیدہ کھلاڑیوں کو بےنقاب کیا جائے گا اور ان کرداروں کو عوام کے سامنے لایا جائے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کچھ پوشیدہ ہے بھی یا نہیں؟

ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ سینیٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی کو ان کی پارٹی کے تمام پوشیدہ لوگوں کے نام معلوم ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سینیٹ کو فعال کرنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے مگر اس اچھی کارکردگی کا صلہ ان کی جماعت نے یہ دیا کہ دوبارہ نامزد کرنے سے انکار کر دیا تاکہ کم از کم سندھ کی سونے کی چڑیا ہاتھ سے نہ نکل جائے۔

مگر یہ رضا ربانی ہی ہیں جن کی اٹھارویں ترمیم نے پارٹی سربراہوں کو ڈکٹیٹر بننے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ رضا ربانی پارلیمان کے کئی اہم عہدوں پر رہ چکے ہیں اور اب انہیں بلاخوف و خطر ان ناموں کو ظاہر کرنا چاہیے جن کا علم تمام سیاسی اشرافیہ کو تو ہے مگر عوام بےخبر ہے۔ اگر وہ اس میں ہچکچائے یا مصلحت سے کام لیا تو تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ پرویز رشید کو بھی ان کی پارٹی کے پوشیدہ ناموں کا علم ہے۔ پرویز رشید انقلابی ذہن اور اصولی سیاست کے پروردہ ہیں۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھی انہوں نے بہت زور سے لگایا۔ وہ بھی عمر کے اس حصہ میں ہیں جہاں عہدے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ ان پر بھی فرض ہے ان پوشیدہ سینیٹرز کے نام بتائیں ورنہ ان کے انقلابی نعرے کھوکھلے رہ جائیں گے۔

شہباز شریف کا یہ دعوی ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے سربراہ ہیں اور انتظامی امور میں ملکہ رکھتے ہیں۔ مگر انتہائی معصوم بن کر انہوں نے کہا وہ پوشیدہ ناموں کو معلوم کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی بنائیں گے۔

جن ناموں کا علم اسلام آباد کے ہر سیاسی آدمی کو ہے اس کے لیے انکوائری کی نہیں لیڈرشپ اور ریڑھ کی ہڈی کی ضرورت ہے، جو پاکستان کے سیاست دانوں میں ذرا مشکل سے ملتی ہے۔ اگر وہ ان لوگوں کو بے نقاب کرنے اور سزا دینے میں ناکام رہے تو شہباز شریف کو چاہیے کہ سیاست کے بجائے نوکری کی درخواست دیں تو شاید کچھ فائدہ ہو کیونکہ جلد ہی ایک اہم آسامی نکلنے والی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری تقریر اچھی کر لیتے ہیں مگر بس یہی ان کی حد ہے۔ انہیں بھی کہیں جانے کی اور نہ کسی انکوائری کی ضرورت ہے۔ ایک رپورٹ یہ بھی ہے کہ ان کے والد اپنے ایک پرانے دوست اور کاروباری شراکت دار سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔

یہ وہی شخص ہیں جنہوں نے کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب چیئرمین کا نام تجویز کیا تھا۔ بلاول کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، بس ابا جان سے پوچھ لیں، ملاقاتیں ووٹوں کے بروکر سے ہوئیں یا نہیں ہوئیں۔ بلاول کے ابا ان کا سیاسی مستقبل شروع ہونے سے پہلے ہی ان پر کافی بوجھ لادھ چکے ہیں۔

عمران خان سے کوئی شکوہ نہیں ہونا چاہیے۔ عمران خان کی شہرت کی بھوک ختم ہو کر نہیں دے رہی۔ بھول جائیں کوئی تبدیلی آنے والی ہے۔ چند دن پہلے کی ایک تصویر ساری حقیقت بیان کر رہی ہے۔

ڈی جی جنرل صاحب کہتے ہیں ان کے ادارے کے ایک اہم عہدے دار پر بے بنیاد الزامات لگے ہیں۔ یہی ڈی جی صاحب پچھلے سال سماجیات اور اقتصادیات پر پریس کانفرنس کیا کرتے تھے، مگر جب سے سب ایک پیج پر آئے ہیں، ان پریس کانفرنسوں کی ضرورت نہیں رہی۔

جن جنرل صاحب کا وہ حوالہ دے رہے ہیں وہ ٹی ایل پی کے معاہدے میں ضامن تھے اور جنرل باجوہ نے بخوشی اپنے افسران جے آئی ٹی میں بھجوائے۔ ان سے تو انصاف بھی ڈرتا ہے کہ اگر کچھ کہہ دیا تو سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس آیا ہی آیا۔

پھر بھی اگر انہیں تحقیق کرنی ہے تو انکوائری کمیشن ہم بنائیں گے جو رپورٹ آئے گی وہ من وعن شائع ہو گی اور جو قصور وار ٹہرے گا اسے قرار واقعی سزا ہوگی۔ اگر منظور ہے تو قدم بڑھائیں۔

میں بار بار آپ کو یاد دلاتا رہا ہوں کہ موجودہ جمہوریہ نہ عوام کے لیے ہے نہ ان کے پاس عوام کے مسائل کا حل ہے اور نہ ان کی نیت ہے۔ پچھلے 70 سال سے یہی ہو رہا ہے اور اگر موجودہ جمہوریہ چلتی رہی تو اگلے 70 سال بھی یہی ہوگا۔

تمام پارٹیوں کے وہ لوگ جو عوام کا درد رکھتے ہیں انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ پارٹی برتر ہے یا قوم۔ اگر قوم عزیز ہے تو اس کی آزادی کی تحریک چلانی ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ