باچا خان چوک کوئٹہ کے نزدیک دھماکہ: ایک شخص ہلاک

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کے مطابق حملہ آور خریدار بن کر آئے اور بارودی مواد ایک دکان میں رکھ کر چلے گئے جس کے بعد دھماکہ ہوا۔

مارکیٹ میں موجود افراد نے رضاکاروں کو بتایا کہ ایک شخص آیا جس نے مارکیٹ کی آخری دکان میں کچھ سامان رکھا اور کہہ کر گیا کہ واپس آئے گا۔ مگر تھوڑی دیر بعد ہی دھماکہ ہوگیا (انڈپینڈنٹ اردو)

 

کوئٹہ کے باچا خان چوک سے متصل جوتوں کی مارکیٹ میں دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور 13 زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق ہزارہ برادری سے ہے۔ 

ترجمان سول ہسپتال وسیم بیگ نے ہلاکت کی تصدیق کی۔ 

دھماکے کے بعد پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو ایدھی، چھیپا اور نور ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گیا۔  

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے صحافیوں کو بتایا کہ حملہ آور خریدار بن کر آئے اور بارودی مواد ایک دکان میں رکھ کر چلے گئے جس کے بعد دھماکہ ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بم دھماکے میں کسی خاص مسلک کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ 

عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ جوتوں کی مارکیٹ کی ایک دکان میں ہوا جس سے دکان کی چھت اڑ گئی اور ہر طرف تباہی پھیل گئی۔ 

نور ایمبولنس کے ڈرائیور جعفر حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’جب ہم وہاں پہنچے تو ہر طرف افراتفری مچی تھی اور زخمی پڑے کراہ رہے تھے۔‘

جعفر کے مطابق مارکیٹ میں موجود افراد نے رضاکاروں کو بتایا کہ ایک شخص آیا جس نے مارکیٹ کی آخری دکان میں کچھ سامان رکھا اور کہہ کر گیا کہ واپس آئے گا۔ مگر تھوڑی دیر بعد ہی دھماکہ ہوگیا۔

 

 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 

ایک اور عینی شاہد حبیب خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جب ہم وہاں پہنچے تو مارکیٹ میں ہر طرف جوتے اور لوگوں کا سامان بکھرا پڑا تھا۔

حبیب خان کے مطابق دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ایک دکان کی چھت اڑ گئی اور آس پاس کے دکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا۔

صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی لہر گذشتہ دو دہائیوں سے چل رہی ہے اور ’دہشت گردوں کو ہمسایہ دشمن ملک کی پشت پناہی حاصل ہے۔‘ 

اس سے قبل گذشتہ ماہ بھی باچا خان چوک کے قریب پولیس گاڑی پر ہونے والے دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوئے تھے۔ 

 

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان